جزیرے غائب ہو گئے: حکام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نکوبار جزیرے کے لیے روانگی سے قبل فوجی حکام نے مجھے جزیرے پر رن وے سے دور جانے سے منع کیا تھا۔ یہ جزائر انڈمان اور نکوبار پر سونامی کی تباہی کے بعد تیسرا دِن تھا۔ لیکن خلیج کیمپبل پر جہاز سے اترتے ہی میں اپنے ایک دوست کے ساتھ جو بحریہ میں افسر تھا وہاں سے موٹر سائیکل پر نکل گیا۔ رن وے کے ایک سرے پر سینکڑوں درخت، گاڑیاں، سکوٹر اور سائیکل اس طرح ڈھیر میں پڑے تھے جیسے وہ غیر ضروری سامان پھینکنے کی جگہ ہو۔ اس جگہ تعفن اتنا شدید تھا کے مجھے متلی ہونے لگی۔ میں نے راستے میں تباہ شدہ گرجا گھر، گوردوارا اور کچھ عمارات دیکھیں جن کے دروازے اور کھڑکیاں غائب تھیں۔ طاقت ور لہروں نے لوہے کی بڑی بڑی الماریاں سڑکوں پر پٹخ دی تھیں۔ عمارتیں ویران تھیں اور ان میں اب کوئی ذی روح موجود نہیں تھا۔ پولیس تھانہ بھی بری طرح متاثر ہوا تھا۔ اس کے بھی دروازے اور کھڑکیاں غائب تھے۔ خلیج کیمپبل کے ساحل پر جیٹی کا ایک حصہ پانی میں بہہ گیا تھا۔ رن وے کی طرف واپس جاتے ہوئے میرا سامنا بنگالی، پنجابی اور تامل آبادکاروں سے ہوا جو سخت غصے میں تھے۔ ایک سکول ماسٹر پارتھادیوناتھ کا کہنا تھا کہ بہت سا امدادی جزیرے پر پہنچنے کے باوجود ان تک نہیں پہنچ رہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کے بجائے رضاکار تنطیمیں ان کی مدد کر رہی ہیں۔ میں ان سے ہلاکتوں کے بارے میں پوچھا۔ ایک مقامی دکاندار گنیش نے جواب دیا کہ ’تمہیں یہاں لاشیں نہیں ملیں گی لیکن صرف ہم چند لوگ بچے ہیں‘۔ ’لاشیں پانی کے ساتھ بہہ گئی تھیں اور ان میں بہت سی قریبی جزیروں پر ریت میں دبی ہوئی ہیں۔‘ خلیج کیمپبل سے جہاز نے دوبارہ پرواز کی اور مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے کچھ دیگر جزائر کے اوپر سے چکر لگاتا ہوا کار نکوبار اتر گیا۔ جہاز کے عملے نے بتایا کے کچھ جزائر مکمل طور پر غائب ہو گئے ہیں اور اب جہاز سے نظر نہیں آتے۔ انڈمان کی انتظامیہ نے ہفتہ بھر ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ادھر ادھر کی باتوں کے بعد سرکاری طور پر تسلیم کیا ہے کہ تین ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ انہی جزائر پر پانچ سال قبل دنیا بھر سے سیاح نئے ہزاریے کی پہلی کرن دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے لیکن بھارت کے مشرق میں اس آخری چوکی پر قائم ’اِندرا لائٹ ہاؤس‘ اب تقریباً مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس کے ارد گرد زمین کو سمندر کھا گیا ہے اور وہاں کسی کے زندہ بچنے کا امکان نہیں۔ جہاز کے عملے نے بتایا کہ یہ علاقہ انڈونیشیا کے جزیرے سے دو سو کلومیٹر دور ہے اور سونامی لہریں سب سے پہلے یہیں ٹکرائی ہوں گی۔ جزائر کے اس سلسلے میں کار نکوبار پر بھارت کا سب سے بڑا فضائی اڈہ بری تباہ ہوا ہے۔ فضائیہ کی رہائشی کالونی بیس کمانڈر کے بنگلے سمیت ختم ہو گئی ہے۔ ایک سو کے قریب افسر، ایئر مین اور ان کے اہل خانہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ کنٹرول ٹاور گر چکا ہےاور تمام کارروائی اب ایک قدر کم تباہ حال عمارت سے کی جا رہی ہے۔ ونگ کمانڈر وی وی بندو پادھیائے نے بتایا کہ فضائی اڈہ مکمل طور پر نئے سرے سے تعمیر کرنا ہوگا۔ اسی مہینے جنوب مشرقی ایشیا میں بھارت کی طاقت کے مظہر کے طور پر ایس یو 30 لڑاکا طیارے بھی تعینات کیے جانے تھے۔ فضائی اڈے کے گرد بلندی پر واقعہ دیہات تباہ ہو گئے ہیں۔ سونامی سے سب سے زیادہ متاثر مقامی نکوبار کے قبائلی ہوئے ہیں۔ بندوپادھیائے نے بتایا کہ پوری پوری بستیاں صفحہ ہستی سے غائب ہو گئی ہیں۔ فضائی اڈے کی بری حالت کے باوجود وہاں سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ عملے کو اپنی کوشش جاری رکھنا ہو گی ورنہ نکوبار میں فلاحی کام بند ہو جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||