صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی |  |
 |  امدادی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے |
ہندوستان میں فوج کے سربراہ جنرل نرمل چند وج نے کہا ہے کہ انڈامان نکوبار جزیروں میں تقریبا ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ مقامی انتظامیہ نے وہاں مرنے والوں کی تعداد سات سو سے کچھ زیادہ بتائی ہے۔ حکام کے مطابق وہاں تقریبا تین ہزار سے زائد لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ جنرل این سی وج انڈمان نکوبار جزائر میں سونامی لہروں سے متاثرہ علاقوں کے ایک روزہ دورے پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی کارروائیوں میں لاشوں کےدفنانے کا کام سب سے پہلے ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق وہاں ایک ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہیں لیکن ابھی تک صرف ایک سو بیس لاشیں ہی دفنائی گئیں ہیں۔ مسٹر وج سے جب یہ سوال کیا گیا ہے کہ انتظامیہ نے ابتدا میں انڈامان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ ہزار بتائی تھی لیکن اب اتنی کم کیوں بتائی جارہی ہے تو انہوں نے کہا کہ اس کے متعلق ابھی تخمینے ہی لگائے گئے ہیں اور اسی کی بنیاد پر یہ اعداد و شمار بتائے گئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ امدادی کاموں کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اب اس میں تیزی آئے گی۔ اطلاعات کے مطابق سمندری طوفان سے متاثرہ گاؤں میں پینے کے پانی، کھانا، کپڑے اور دواؤں کی شدید قلت ہے۔ بعض علاقوں میں متاثرہ افراد نے انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نقصان کا صحیح اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے اور صحیح طور پر امداد بھی نہیں پہنچائی جارہی ہے۔ اسی سلسلے میں انڈامان کے کیپبیل شہر میں کھانا پانی تقسیم لوگ مشتعل ہو گئے۔ ہندوستان نے اس تباہی سے نمٹنے کے لیے غیر ملکی امداد لینے سے یہ کہ کر منع کر دیا ہے کہ بھارت اس پر خود قابو پالیگا۔ انڈامان جزائر میں بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کے مطابق جس طریقے سے امدادی کارروائیاں ہورہی ہیں وہ اب تک ناکافی ثابت ہو رہی ہیں اور ہر جگہ پانی، کھانے، کپڑے اور دواؤں کی قلت ہے۔ یہ ساری اشیاء وہاں وافر مقدار میں موجود تو ہیں لیکن ان کی تقسیم کے طریقہ کار غیر مناسب ہے۔ |