صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام دِلّی |  |
 |  عدالت عظمیٰ نے دو سال قبل درخت کاٹنے پر پابندی لگائی تھی |
ہندوستان میں عدالت عظمیٰ نے انڈمان نکوبار جزائر میں سونامی سے متاثرہ افراد کی آباد کاری کے لیے درختوں کو کاٹنے کی اجازت دیدی ہے۔ عدالت نے وہاں جنگلات کے تحفظ کے لیے دو برس قبل پیڑ کاٹنے پر پابندی عائد کی تھی۔ انڈمان نکوبار جزائر میں سنامی لہروں سے زبردست جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ ہزاروں افراد بے گھر ہو گۓ ہیں۔ عدالت نے اسی کے پیش نظر گھروں کی تعمیر کے لیے یہ اجازت دی ہے جو صرف آئندہ چھ ماہ کے لیے ہے۔  |  انڈمان | حکام کے مطابق انڈمان جزائر میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور چھ ہزار سے زائد اب بھی لا پتہ ہیں۔ سونامی لہروں کو آئے ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق گمشدہ افراد کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق چار ہزار سے زیادہ لوگوں نے امدادی کیمپوں میں پناہ لی رکھی ہے۔ انڈمان نکوبار میں چھوٹے بڑے تقریباً پانچ ہزار جزیرے ہیں۔ ان میں سے صرف اڑتیس پر ہی آبادی ہے۔ سونامی لہروں سے آبادی والے دس جزیرے متاثر نہیں ہوئے تھے۔ لیکن باقی میں زبردست تباہی ہوئی ہے۔ تقریباً پندرہ جزیروں پر اب بھی پوری طرح رسائی نہیں ہوسکی ہے۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اب رابطہ بحال ہوگیا ہے۔ ابتداء میں ان جزائر میں امدادی کاموں میں بڑی پریشانیاں در پیش تھیں جس کے بعد اسے فوج کے حوالے کردیا گیا تھا۔ قانون کے مطابق یہاں کسی بھی غیر ملکی کو جانے کے لیے حکومت سے خصوصی اجازت لینی پڑتی ہے۔ حکومت نے کسی بھی غیرملکی امدادی تنظیم کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ |