انتھروپالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وی آر راؤ کا کہنا ہے کہ جزائر کارنکونار اور انڈامان کے قدیم قبائل اپنے صدیوں پرانے وارننگ سسٹم کی بدولت سونامی سمندری طوفان کی تباہ کاری سے محفوظ رہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر وی آر راؤ نے کہا کہ پرندوں کا شوراور سمندری جانورں کی حرکات وسکنات میں تبدیلی قبائلی لوگوں کے لیے وارننگ کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ سونامی سمندری طوفان سے پہلے بھی ایسا ہوا ہوگا اور ان قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ محفوظ جنگلوں کی طرف بھاگ گئے ہوں گے۔ ’اِسی لیے ان پانچ قبائل سے تعلق رکھنے والا کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے اطلاع نہیں ملی ہے۔‘ سونامی سمندری طوفان میں ہونی والے جانے نقصان کے پیش نظرانتھروپالوجیکل سروے آف انڈیا نے فوری طور پر ساحلی علاقوں میں رہنے والے قبائل کا سروے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب تک سامنے آنے والے اطلاعات کے مطابق پانچویں قدیم قبائل --- جاروا، اونگی، شومپن، سینٹنلیز اور گریٹ انڈامنیز --- میں سونامی سمندری طوفان کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ڈاکٹر وی آر راؤ کے مطابق ان قبائل کی تاریخ بہت پرانی ہے اور ان جزائر میں ان کی موجودگی کے شواہد میسولِتھک اور اپر پالیولِتھک ادوار (2000 سے 6000 سال پہلے) تک دیکھے جاسکتے ہیں۔ تازہ ترین مردم شماری کے مطابق جاروا قبیلہ 270، اونگی قبیلہ 100، شومپن قبیلہ 200 اور گریٹ انڈامنیز 45 نفوس پر مشتمل ہے۔ |