BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 January, 2005, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونامی: عوامی فکر پر گہرے اثرات

بھارتی جزیرۂ انڈمان اور نکوبار میں بچ جانے والے کچھ افراد
بھارتی جزیرۂ انڈمان اور نکوبار میں بچ جانے والے کچھ افراد
سونامی کی تباہی پر ہندوستانی ذرائع ابلاغ میں جاری بحث و مباحثے سے حکومتی اور عوامی سوچ و فکر میں تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ایک سوچ یہ ابھر کر آرہی ہے کہ ہندوستان کے تعلیمی نصاب میں سونامی اور اس طرح کے قدرتی آفات کے بارے میں مضامین شائع کیے جائیں تاکہ نئی نسل کو ماحولیات سے متعلق ابھرنے والے مسائل سے آگاہ کیا جاسکے۔

ملک میں، جہاں جغرافیہ اور ماحولیات کے بارے میں عوام میں آگہی کافی کم ہے، یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔

سونامی کی تباہی کے چند روز بعد ہی یہ بات ابھر کر منظر عام پر آئی کہ ہندوستان جیسا بڑا ملک، جو اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے کوشاں ہے، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔

میڈیا میں یہ بحث چھڑگئی کہ آخر اس طرح کی سمندری لہروں کے متعلق کیا پیشگی بھی لوگوں کو خبردار کیا جاسکتا تھا یا نہیں۔ حکومت کے کان میں بھی جوں رینگی اور اس نے بحر عرب اور بحر ہند میں ایک مخصوص خلائی نظام نصب کرنے کا فیصلہ کیا جو سونامی لہروں کے متعلق پیشگی اطلاع فراہم کر سکےگا۔ ہندوستان کی ان کوششوں کا نتیجہ یہ ہوگا ہے کہ اس مصیبت سے بچنے میں پڑوسی ممالک کو بھی مدد مل سکے گی۔

حکومتی اور عوامی سطح پر سونامی کی تباہی نے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ عوام پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سالِ نو کا جشن اس مرتبہ پھیکا تھا۔ کئی شہروں میں حسب معمول سجاوٹ تو تھی لیکن لوگوں میں وہ جوش و خروش نہیں تھا۔ تقریبا سبھی شعبے کے لوگ اس مصیبت میں مدد کے لۓ آگے آئے ہیں۔ ملک کے عظیم کھلاڑی، فلمی اسٹارس سب کے سب اپنے اپنے تئیں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

عوام اور کئی فلمی شخصیات نے انفرادی طور پر امداد کے لۓ لاکھوں روپۓ کا عطیہ دیا ہے۔ اداکار سنجے دت نے امداد کے لئے پیسہ اکٹھا کرنے کے لئے اسٹیج شو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اداکار شریش اوبرائے اپنے بیٹے وی ویک اوبرائے کے ساتھ مدراس پہنچے ہیں۔ وی ویک اوبرائے نےاعلان کیا ہے کہ وہ مدد کے طور پر مدراس کے قریب پوری طرح سے تباہ ایک بستی کو از سرے نو بسا نے کی ذمہ داری لیتے ہیں اور لوگوں کی مدد سے وہ ایک مثالی بستی تعمیر کریں گے۔

سونامی میں ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مرکزی حکومت اور تامل ناڈو کی حکومت نے اعلان کیا ہے اس سے یتیم ہونے والے بچوں کو حکومت اپنائےگی اور ان کی پرورش کے لئے وہ ہر ممکن مدد کرگی تاکہ وہ ایک باوقار زندگی شروع کر سکیں۔

اس آفت سے نمٹنے کے لئے عوامی سطح پر انٹیرنیٹ کا خوب استعمال کیا گیا ہے۔ جہاں ایک طرف پیشہ ور طبقے نے تیزی سے خبروں کی تشہیر کے لۓ انٹرنیٹ کا سہارا لیا وہیں ملک کے بیشتر ویب سائٹوں نے اس واقعے کی تفصیلی رپورٹ، تجزیۓ، تبصروں اور تصویروں کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ تازہ صورت حال پیش کی ہے۔

ساحل سمندر پر بسنے والے ماہی گیروں کو دوبارہ بسانا حکومت کے لۓ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ ان ماہی گیروں کو کچھ دنوں کے لئے ساحل سے دور محفوظ مقام پر رکھا جائے۔ لیکن چونکہ ماہی گیروں کی روزی روٹی سمندر سے منسلک ہے اس لیے وہ دوسری جگہ جانے پر راضی نہیں دکھائی نہیں دیتے۔ سونامی نے صرف ساحل کے ماہی گیروں کو ہی متاثر نہیں کیا ہے۔

سونامی کی تباہی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ہے کہ آنے والے کچھ عشروں کے لئے یہ حکومت کی پالیسیوں پر ہی متاثر نہیں ہوگی بلکہ عوام کی سوچ میں بھی کافی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد