BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 January, 2005, 01:17 GMT 06:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادی کاموں پر اقوام متحدہ پُرامید
امدادی کام
انڈونیشیا کے صوبے آچے میں امدادی سامان پہنچانا ابھی تک ایک بڑا مسئلہ ہے۔
اقوام متحدہ کی ہنگامی امداد کے رابطہ کار یان ایگلنڈ نے امید ظاہر کی ہے کہ دنیا سونامی کے چیلنج سے عہدہ برآ ہوسکے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ اب زیادہ پرامید ہیں کہ دنیا اس بھاری ذمہ داری کو پورا کر سکے گی۔تاہم انہوں نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کے صوبے آچے میں امدادی سامان پہنچانا ابھی تک ایک بڑا مسئلہ ہے۔

اقوام متحدہ کی ہنگامی امداد کے رابطہ کار یان ایگلنڈ کا اندازہ ہے کے متاثرہ ملکوں میں اٹھارہ لاکھ سے زیادہ افراد کو فی الفور خوراک کی امداد کی ضرورت ہے-

’ہمیں متاثرہ ملکوں میں اٹھارہ لاکھ افراد کو خوراک کی امداد فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس تعداد میں کل سے کئی لاکھ کا اضافہ ہوا ہے اور اس میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔ ہمیں اگلے تین چار روز میں سری لنکا میں سات لاکھ افراد کو خوراک پہنچانی ہے اور انڈونیشیا میں دس لاکھ افراد تک خوراک پہنچانے میں اور زیادہ دیر لگے گی۔

مرنے والوں کی تعداد
انڈونیشیا 80,246
سری لنکا 28,729
انڈیا 9,451
تھائی لینڈ 4,993
صومالیہ 142
برما 53
مالدیپ 74
ملائشیا 67
تنزانیہ 10
بحر ہند میں سونامی طوفان کی ہولناک تباہی اور وسیع پیمانہ پر ہلاکتوں کے ایک ہفتہ بعد متاثرہ علاقوں میں شدید بارشوں اور تند سیلاب کے باوجود بین الاقوامی امداد پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔

لیکن اس کی سست رفتاری پر متاثرہ افراد سخت مایوسی کا شکار ہیں اور انہیں اب وبائی امراض کا شدید خطرہ لاحق ہے۔

انڈونیشیا میں سوماترا کے صوبے آچے میں جہاں زیر سمندر زلزلہ کا مرکز تھا اور جہاں اسی ہزار سے زیادہ افراد لقمہ اجل بنے ہیں امریکہ کا طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کے ہیلی کاپٹر امدادی سامان گرا رہے ہیں۔ لیکن دور افتادہ علاقوں اور جزیروں میں ہزاروں افراد بے سرو سامان اور بھوکے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے ارد گرد اب بھی سمندر میں لاشیں تیر رہی ہیں۔

ہندوستان کے جزائر انڈامان نکوبار میں جو آچے کے زلزلہ کے مرکز سے زیادہ دور نہیں، ہندوستانی فوج کے طیاروں نے متاثرہ افراد کے لئے خوراک اور دوسرا امدادی سامان گرایا ہے۔

انڈامان اور نکوبار میں جہاں ہندوستان کی تینوں افواج کا کمان مرکز ہے ہندوستان کی فضایہ کا اڈہ یکسر تباہ ہو گیا ہے۔

یان ایگلینڈ
اس سے پہلے ایگلینڈ نے امیر ملکوں پر کنجوسی کا الزام لگایا تھا
ہندوستان میں سونامی سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب چودہ ہزار بتائی جاتی ہے- ہندوستان میں سب سے زیادہ تباہی تامل ناڈو کے ساحلی علاقوں میں آئی ہے-

اس علاقہ میں حکام کا کہنا ہے کہ طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی اب تک پانچ ہزار لاشیں ملی ہیں۔

سری لنکا میں جہاں سونامی سے تیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں، امریکہ کے سی ون تھرٹی سامان بردار طیاروں نے امداد پہنچانی شروع کردی ہے۔ لیکن سخت بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے امدادی سامان متاثرہ افراد تک پہنچانے میں سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔


بحرہند کاطوفان، ایک لاکھ سے زیادہ ہلاک
سونامی سے تباہیسونامی:امدادپر ویڈیو
مجموعی امداد ایک ارب پاؤنڈ سے بڑھ گئی
سونامیسونامی اور انٹرنیٹ
امدادی کارروائیوں میں انٹرنیٹ موثر ذریعہ
سنامی سے متاثر شخصماہرین کی رائے
سونامی کی قبل از وقت خبر کیوں نہ ہوئی؟
متاثرینایڈ ورکر کی ڈائری
امدادی کارروائیاں اور کارکن کی مصروفیات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد