ماں کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ظائرہ بانوروزانہ صبح چھ بجے جاگتی ہے اور پھر سارا دن اپنے تین بچوں کی تلاش کرتی ہے۔ ظائرہ بانو نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے پانچ سالہ بیٹے ، تین سالہ بیٹی اور دو سالہ بیٹے کو اس وقت سے ڈھونڈ رہی ہے جب سے سونامی کی دوسری لہر نے کار نکوبار پر حملہ کیا۔ ظائرہ بانو بتاتی ہے کہ جب پہلی لہر آئی تو وہ بچوں کے ساتھ محفوظ رہی لیکن جب دوسری لہر آئی تو وہ تباہ کن ثابت ہوئی اور اس وقت سے اپنے بچوں کو نہیں دیکھ سکی ہے۔ ظائرہ بانو خود چوبیس گھنٹے تک ناریل کے ایک درخت کے ساتھ لٹکی رہی اور پانی اس کی گردن تک تھا۔ چوبیس گھنٹے بعد ایک ہیلی کاپٹر نے اسے بچایا۔ ظائرہ نے اپنے بچوں کے نام متاثرہ لوگوں کے کیمپوں میں درج کر رکھے ہیں اور سارا دن ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ تک بھاگتی رہتی ہے لیکن اس کو اپنے بچے کہیں نظر نہیں آرہے۔ کار نکوبار زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ہے۔ کار نکوبار میں پہلے زلزلے آئے جس کے بعد سمندری لہروں نے ہر طرف سے حملہ کیا۔ کار نکوبار میں سب سے اونچا مقام بھی سطح سمندر سے صرف بارہ میٹر بلند ہے۔ بھارتی حکومت کار نکوبار میں جہاز اتارنے میں کامیاب ہو گئی ہے لیکن امداد کو متاثرہ علاقوں تک پہنچانے میں ابھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پل ٹوٹ چکے ہیں اور کئی سڑکیں ابھی بھی زیر آب ہیں
ہم ظائرہ بانو کے بھائی کے موٹر سائیکل پر تلاش کے اگلے مرحلے میں ریلیف کووڈینیڑ کے دفتر میں پہنچتے ہیں جہاں ظائرہ بانو کی طرح کے بے شمار لوگ اپنے عزیزوں کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔ ظائرہ بانو بچ جانے والوں کی تازہ فہرست کے پاس اس امید کے ساتھ بھاگ کر جاتی ہے کہ اسے کوئی اچھی خبر ملے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا اور وہ مایوس قدموں کے ساتھ واپس ہوتی ہے اور تلاش کے لیے کسی اور کیمپ کی جانب جانے کا سوچتی ہے۔ اچانک ظائرہ کو اپنی ایک پڑوسن نظر آتی ہے اور وہ لپک کر اس کی طرف بڑھتی ہے لیکن وہ بھی ظائرہ کو تسلیوں کے علاوہ کوئی اچھی خبر نہیں سنا پاتی۔ ظائرہ کی تلاش جاری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||