مچھیروں کی سمندر پر لعن تان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چودہ سالہ رینوکا ساحل پر کھڑی سمندر میں ابھرنے والی اور پھر ساحل پر چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی لہروں کو دیکھ رہی ہے۔ انگلی سے سمندر کی طرف اس مقام کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں اس کے والد کی کشتی ڈوبی تھی ’وہاں- اس طرف‘۔ رینوکا کے والد سجیتھ جنوبی سری لنکا کے ایک گاؤں ولیگاما کے ان تین سو پچاس مچھیروں میں سے ہیں جو سونامی زلزلے کی نظر ہو گئے۔ رینوکا کی والدہ اندرانی اس وقت ساحل کے قریب اپنے جھونپڑے کی دوسری منزل پر تھی۔ اس نے بتایا کہ ’پہلے تو نے ایک زور دار آواز سنی۔ میں سمجھی شاید کوئی حادثہ ہوا ہے۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ سب کچھ بہے جا رہا ہے۔ میں نے اپنی چھوٹی بیٹی کو اٹھایا اور باہر بھاگی‘۔ رینوکا اور اس کی ماں دوسری بیٹی کو اٹھائے طوفانی ریلے سے گزر کر محفوظ جگہ پہنچ گئیں۔ سری لنکا کے مچھیروں کے لیے سمندر اپنے اندر ایک خزانہ چھپائے ہوئے ہے۔ اس علاقے میں بسنے والے ہزاروں مچھیرے سمندر میں پائی جانے والی مچھلیوں اور جھینگوں پر گزر بسر کر رہے ہیں۔ لیکن پرناکدا گاؤں اور دوسرے تمام قریبی گاؤں میں مچھیروں کی کشتیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ گاؤں کی چھوٹی سی بندرگاہ پر ٹوٹی پھوٹی کشتیوں کے ڈھانچے بکھرے پڑے نظر آ رہے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے ایک سو سے زائد کشتیاں یہاں سبز پانیوں پر لنگر انداز ہوتیں لیکن اب صرف چند ایک نظر آرہی ہیں اور ان کے مالکان انہیں سمندر میں لے جانے سے گھبرا رہے ہیں۔ ایک مقامی مچھیرے چندر پالا کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر کشتیاں غائب ہوگئیں۔ وہ یا تو ڈوب گئیں اور یا طوفان بہا کر لے گیا‘۔ گاؤں کے تقریباً ایک ہزار لوگ دو سو سال پرانے بدھ مندر میں پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں روزانہ دو وقت خوراک مہیا کی جاتی ہے۔ ہلال احمر کے رضا کار زخمیوں کو ادویات دے رہے ہیں۔ سری لنکا کی حکومت نے زلزلے کے متاثرین کو امداد فراہم کرنا شروع کر دی ہے تاہم یہ امداد ابھی تک اس گاؤں تک نہیں پہنچی۔ جو خوراک اور کپڑے مندر تک پہنچے ہیں وہ سب غیر سرکاری ذرائع نے بھیجے ہیں۔ ایک اور مچھیرے کی بیوی پی چندریکا نے کہا کہ ’ہمارا سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔ اب ہمارہ کوئی گھر بھی نہیں ہے۔ اس وقت ہمیں خوارک اور پناہ مل رہی ہے لیکن مستقبل میں کیا ہوگا‘۔ مندر کے راہب دوناگامہ گنانا سری تیسا کا کہنا ہے کہ ’اگر غیر سرکاری ذرائع سے امداد پہنچ سکتی ہے تو حکومتی امداد میں کیوں رکاوٹ ہے‘۔ ولیگاما گاؤں کے ایک اعلیٰ پولیس افسر سام بندولا کا کہنا ہے کہ ’اس علاقے میں بارہ ہزار مچھیرے ہیں اور وہ سب کسی نا کسی طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔ وہاں پر خوراک تو بھجوائی جا سکتی ہے لیکن ان کے پاس پکانے کے لیے نہ تو ایندھن ہے اور نہ ہی وہاں بجلی ہے‘۔ ولیگاما کے پولیس افسر اور سرکاری اہلکار بے بس ہیں اس لیے کہ وہ خود متاثرین میں شامل ہیں۔ سام بندولا نے بتایا کہ ’میری بیوی بہت مشکل سے بچی لیکن میرے بہت سے ساتھی خوش قسمت نہیں تھے‘۔ چونکہ مقامی پولیس سٹیشن کے اندر پانی گھس آیا تھا اس لیے ان کے پاس لاپتہ افراد کا ریکارڈ بھی موجود نہیں۔ بیالیس سالہ مچھیرے گامینی کے خاندان کی پانچ کشتیاں طوفان کی نظر ہوگئی ہیں۔ اس نے بتایا کہ اس کی ایک کشتی کی مالیت بیالیس ہزار ڈالر تھی۔ اس نے کہا ’اب یہ پیسہ کہاں سے آئے گا‘۔ بہت سے مچھیرے کشتیوں کے لیے بینکوں سے قرضے لیتے ہیں۔ اب انہیں فکر ہے کہ نئے قرضے تو دور کی بات ہے وہ پرانے قرضے بھی لوٹا نہیں سکیں گے۔ بینکوں کے حکام کا کہنا کہ وہ قرضہ داروں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنائیں گے۔ سری لنکا کی فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ نواز راجہ بدین کا خیال ہے کہ مچھیروں کی بحالی کے لیے حکومت کو ایک فنڈ تشکیل دینا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ پیسہ بینکوں سے نہیں بلکہ امدادی رقوم سے بنایا جانا چاہیے‘۔ ولیگاما کے مچھیروں کو اسی طرح کے اقدامات کا انتظار ہے۔ مگر چندریکا اب اپنے شوہر کو سمندر میں جانے نہیں دیتی۔ اس کا کہنا ہے کہ ’مجھے کچھ معلوم نہیں۔ لیکن اب میں اسے کشتی میں جانے نہیں دوں گی۔ بس اسے اب کوئی اور روزگار تلاش کرنا ہوگا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||