زندگی و موت کے بیچ آٹھ روز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سونامی کے بعد ایک ہفتہ تک بحیرہ عرب کے پانیوں میں پھنسے ایک درخت کے تنے سے چمٹا رہا۔ پانی کے ساتھ بہہ کر آنے والے ناریل کھاکر اور بارش کا پانی پی کر آٹھ روز موت و زندگی کی کشمکش میں رہنے والے اس شخص کو بالآخر بچا لیا گیا۔ تئیس سالہ رزال سوپورہ نے اپنی زندگی کے اس کڑے ترین وقت کا احوال بیان کیا ہے۔ سوپورہ کا کہا ہے کہ شروع میں جب سونامی کے ساتھ پانی چڑھنا شروع ہوا تھا تو ان کے ہمراہ زندگی بچانے کے لیے ان کے کئی دوست بھی جدوجہد کرتے رہے لیکن وہ سب ایک ایک کرکے پانی کے ساتھ بہہ گئے اور سوپورہ کے اردگرد صرف ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کے ڈھیر بچے۔ رزال نے بتایا کہ جب سونامی نے ان کے گاؤں پر دھاوا بولا تھا، اس وقت وہ بندہ آچے میں ایک مسجد کی صفائی کررہے تھے۔ زور آور لہروں نے انہیں سو میل دور سمندر میں لے جا پھینکا۔ انہوں نے بتایا ’میں نے آٹھ روز تک کچھ نہیں کھایا سوائے ناریل اور بارش کے پانی کے۔ مجھے کئی مرتبہ بحری جہاز دکھائی بھی دیئے مگر وہ بہت دور تھے۔ شروع میں میرے ساتھ میرے دوست بھی تھے مگر صرف میں زندہ بچ سکا‘۔ بالآخر منگل کے روز قریب سے گزرنے والے ایک بحری جہاز کے عملے نے ان کو دیکھ لیا اور یوں سوپورہ کو بچالیا گیا۔ بحری جہاز پر موجود ایک شخص ہونگ وین فینگ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے پانیوں کے بیچ رزال کو درخت کے تنے پر کھڑے دیکھا تو انہیں شدید حیرت ہوئی۔ زندہ بچنے والے سوپورہ کی ٹانگیں بری طرح زخمی ہیں۔ اب وہ ہسپتال میں ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔ تاہم ڈاکٹر ان کی حالت خطرے سے باہر بتا رہے ہیں۔ جمعہ کے روز ملیشیا میں ماہی گیروں کی ایک کشتی نے آچے کی ایک تئیس سالہ خاتون کو پانچ روز سمندر میں پھنسے رہنے کے بعد زندہ بچالیا۔ یہ خاتون بھی ایک ٹوٹے درخت کے تنے سے چمٹی رہیں۔ انڈونیشیا میں 26 دسمبر کے بعد سے چورانوے ہزار سے زائد افراد سونامی کی لپیٹ میں آکر ہلاک ہوچکے ہیں اور اس تعداد میں اب بھی اضافہ ہورہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||