سونامی سے ہزاروں یتیم ہوئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں سونامی کے باعث بہت سے بچے یتیم ہو گئے ہیں۔ کم از کم تین ہزار سے زائد بچے ایسے ہیں جن کے ماں باپ میں سے ایک مر چکا ہے۔ یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد صرف کیمپوں میں رہنے والے بچوں کی ہے۔ یونیسیف نے کہا ہے کہ اس نے اب تک بہت سی مقامی آبادیوں کا دورہ نہیں کیا ہے۔ گال میں بی بی سی کی نامہ نگار ڈومتھرا لتھرا کے مطابق سری لنکا ابھی بھی گنتی کر رہا ہے۔ سونامی کے اقتصادی اور انسانی نقصان کا تخمینہ ابھی تک لگایا جا رہا ہے۔ یونیسیف کے نمائندے ملک کے دیگر کیمپوں کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ جزیرے میں رہنے والے بچوں کی حالت کے متعلق معلومات حاصل کر سکیں۔ آٹھ سو زیادہ بچے ایسے ہیں جن کے ماں باپ اب دنیا میں نہیں ہیں اور ان کی دیکھ بھال کوئی خاندان یا دوست وغیرہ کر رہے ہیں۔ تین ہزار سے زائد ایسے ہیں جن کے ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہے۔ لیکن اس میں بھی کئی مسائل ہیں۔ یونیسیف کے مطابق اکیلے رہنے والی ماں یا باپ میں سے کوئی ایک بچوں کی نگہداشت نہیں کر سکتا۔ اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی کو خدشہ ہے کہ کہیں ان بچوں کو بعد میں یتیم خانے نہ بھیج دیا جائے۔ یہ اعداوشمار حتمی نہیں ہیں۔ ان کیمپوں سے باہر رہنے والے بچوں کو ابھی ان اعدادوشمار میں شامل نہیں کیا گیا۔ شاید یہ کبھی بھی نہ پتہ چل سکے کہ اس تباہی میں کتنے بچے ہلاک ہوئے۔ صرف اس بات کا اندازہ ہے کہ یہ بہت زیادہ تعداد میں ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||