BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہ تارا، وہ تارا، ہر تارا

سری لنکا میں تباہی
سونامی سے ہزاروں بچے یتیم اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں
گزشتہ دو ہفتوں سے سونامی کا پانی ہمارے چاروں طرف سے نہیں اترا۔ وہ ہمارے ذہن پر ہے، حواس پر، اخبارات میں، ٹی وی پر، زمین پر اور آسمان پر۔ ہر طرف ہے لاکھوں کہانیاں لیے ہوئے۔ کہانیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔

گیارہ ستمبر کے بعد ایسا لگتا تھا کہ وہ ہماری زندگیوں میں سب سے ہلا دینے والا منظر تھا۔ سو سے زائد منزلوں سے جان بچانے کے لیے زمین پر چھلانگیں لگاتے انسان۔ لگتا تھا اس کے آگے کچھ نہیں ہو گا، لیکن پھر بام آیا۔ اس وقت دلوں کا کوئی ایسا در یا بام نہ رہا جسے جھٹکا نہ لگا ہو۔ بام کے بعد بیسلان ہوا۔ خوف، ندامت، جرم اور عدم تحفظ کا احساس جھنجھوڑنے لگا اور ان سب نے مل کر ایک نئی شکل اختیار کر لی۔ خون میں لتھڑے بچے اور بچوں کے انتظار میں ماں باپ، انتظار لمبا ہوا، اور آخر بچوں کو زندہ دیکھنے کے منتظر ماں باپ بچوں کی لاشیں ڈھونڈنے لگے۔ کئی ایک کو ان کے جگر کے ٹکڑے بس ٹکڑوں ہی میں ملے اور کئی ایک ان سے بھی محروم رہے۔ پتہ نہیں ان میں سے بدنصیب کن کو کہا جائے۔

بیسلان کے بعد بس ہونا چاہیئے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

پچیس دسمبر کو میرا بیٹا سارا دن سانتا کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ کوئی تحفہ لائے گا۔ سانتا نہیں آیا لیکن یہاں سے ہزاروں میل دور سونامی آیا۔ سانتا تو کوئی تحفہ نہ لا سکا لیکن سونامی تحفہ ضرور لایا۔ وہ بھی موت کا۔ سینکڑوں، ہزاروں نہیں لاکھوں کی موت کا تحفہ۔

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ سونامی کیا ہے تو میں بس یہ کہوں گا کہ سونامی اک کہانی ہے۔ سونامی کی تباہ کاریوں کی طرح اس کہانی میں بھی ایک نہیں، دو نہیں بلکہ لاکھوں کہانیاں سمائی ہوئی ہیں۔ کہانیاں جو موت ہیں، کہانیاں جو زندگی ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں میں موت کی لاکھوں کہانیاں ہم سن چکے ہیں، دیکھ چکے ہیں اور سہہ چکے ہیں۔ لیکن پھر بھی زندگی کی ایک ہی کہانی جسم میں جان سی ڈال دیتی ہے۔ اس ماں کی کہانی جس کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ اپنے دو ننھے بچوں میں سے کس کو سنبھالے اور کس کو لہروں کے حوالے کرے اور کس طرح اس کی کہانی کا کرب کچھ دیر کے بعد اس وقت کم ہوا جب اس کا اپنے ہی ہاتھوں سے چھوڑا ہوا بچہ کسی اور جگہ زندہ پایا گیا اور کسی فرشتہ صفت انسان نے اسے اس کے ماں باپ کے حوالے کیا۔

سری لنکا میں بچے
بچوں کو بہت پیار اور اپنائیت کی ضرورت ہے

اس شخص کی کہانی جو دو ہفتے سمندر میں درخت کی چھال پر گزار کے زندہ رہا اور اس حاملہ عورت کی کہانی جس کے لیے ایک سوکھی ٹہنی ہی ہرا درخت ثابت ہوئی اور ایک ہفتے سے زیادہ سمندر میں رہنے کے باوجود وہ اور اس کے پیٹ میں اس کا بچہ صحیح سلامت رہا۔ اس کا گھر تو اجڑ گیا پر کھوکھ نہیں اجڑی۔ کہانی چلتی رہی۔

سری لنکا کے ایک تباہ حال قصبے پایا گالا میں ایک پناہ گزین کیمپ ہے۔ جہاں بچوں کو غم بھلانے کے لیے کاغذ پینسل دی گئی کہ کچھ ان کا دھیان بٹے۔ بچوں نے جو بنایا وہ ان کے گھر تھے یا اس سے جڑی ہوئی یادیں۔ نئی کہانیوں نے جنم لیا اور کئی ایک نے پانی میں بہتے ہوئے جسم بھی بنائے۔ لیکن بالآخر زندگی موت سے جیتی اور نیلے پیلے، لال اور ہرے رنگ موت کے سیاہ رنگ پر حاوی رہے۔

سونامی کی ایک کہانی سری لنکا کی وزیرِ اعظم کمارا تنگا بھی رقم کرنے والی ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ سونامی کی تباہی سے بھرے زخموں پر مرہم لگانے کے لیے تامل برادری کا ایک بچہ گود لیں گی۔ کمارا تنگا کا تعلق سری لنکا کی سنہالہ برادری سے ہے اور تامل اور سنہالہ کئی دہائیوں سے آپس میں موت کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ زندگی کا یہ رشتہ اس تباہ حال ملک میں شاید کوئی نئی امید لائے۔ لیکن کمارا تنگا ہی کیوں؟ ایک ہی بچہ اور وہ بھی تامل ہی کیوں؟ جنوبی ایشیا میں لاکھوں بچے یتیم ہوئے ہیں اور لاکھوں کو سر چھپانے کے لیے گھر چاہیئے۔ سب ہی کو اپنائیت سے بھرے شفیق ہاتھ اور پورا، اپنا اور مہرباں آسماں درکار ہے۔ سودیس بھی تو یہی ہے۔

یہ تارا، وہ تارا، ہر تارا
دیکھو جسے بھی لگے پیارا
یہ سب ساتھ میں جو ہیں رات میں
تو جگمگائے آسمان سارا

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد