یہ بچہ کس کا بچہ ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج بیس نومبر ہے۔ بیس نومبر یعنی یونیورسل چلڈرنز ڈے یا بچوں کا عالمی دن۔ اس دن اور مہینے سے میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ میں یہ بعد میں بتاؤں گا کہ بیس نومبر سے میرا تعلق کیسا ہے لیکن پہلے ذرا آج کی وانا سے آئی ہوئی وہ خبر سن لیں جن میں ایک خاندانی رنجش کی بنا پر رشتہ داروں نے سکول جاتے ہوئے ایک چھ سالہ بچے کو گولیاں مار کر قتل کرنے کی کوشش کی اور جب وہ جان بچا کر کسی کے مکان میں گھس گیا تو انہوں دروازہ توڑ کر اسے ڈھونڈ نکالا اور قتل کر دیا۔ آج بچوں کے حقوق کا دن ہے۔ اقوامِ متحدہ نے چودہ نومبر 1954 کو تجویز کیا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک بیس نومبر کو بچوں کے بھائی چارے اور ان کی فلاح بہبود کے طور پر منائیں۔ 1959 میں بیس نومبر کے دن ہی ڈیکلیریشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ اور 1989 میں کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ کو جنرل اسمبلی نے منظور کیا۔ اس طرح کے کنونشن اور ڈیکلیریشنز سے شائد دنیا کے بچوں کو بہت فرق پڑا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں بالعموم اور ترقی پذیر ممالک میں بالخصوص بچوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ اس سے کہیں مختلف ہے۔ کہیں بچوں کو اتنا کھلایا جاتا ہے کہ ان کا موٹاپا مصیبت اور کہیں اتنی بھوک ہے کہ زندگی عذاب ہے۔ آج بیس نومبر ہے۔ بچوں کے حقوق کا کنونش کہتا ہے کہ بچوں کو جینے اور مکمل جینے کا پورا حق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کو جینے ہی نہیں دیا جارہا۔ ایڈز، سوڈان، عراق اور فلسطین کہیں سے بھی بچوں کے لیے کوئی اچھی نوید نہیں آتی۔ آج بیس نومبر ہے۔ بچے مر رہے ہیں اور ہم سب چپ ہیں۔ انشا جی نے 1974 میں ایک نظم لکھی تھی۔ صبح ہی اسے دوبارہ پڑھنے بیٹھ گیا۔ سیدھی سیدھی لائنوں میں انہوں نے الفاظ کے نیزے مار مار کر جنجھوڑا۔ اس کی چند لائنیں ملاحظہ کیجیئے۔
یہ بچہ کیسا بچہ ہے جو ریت پہ تنہا بیٹھا ہے نا اس کے پیٹ میں روٹی ہے نا اس کے تن پر کپڑا ہے نا اس کے سر پر ٹوپی ہے نا اس کے پیر میں جوتا ہے نا اس کے پاس کھلونوں میں کوئی بھالو ہے، کوئی گھوڑا ہے نا اس کا جی بہلانے کو کوئی لوری ہے، کوئی جھولا ہے نا اس کی جیب میں دھیلا ہے نا اس کے ہاتھ میں پیسا ہے نا اس کے امی ابو ہیں نا اس کی آپا خالہ ہے گزشتہ دنوں امریکی فوج نے فلوجہ کو ’شدت پسندوں‘ سے خالی کرانے کا فیصلہ کیا۔ شدت پسند تو شائد ’خالی‘ ہو گئے اور ان کے ساتھ شہر بھی۔ بی بی سی عربی سروس نے وہاں رہ گئے ایک صحافی فادھل بدرانی سے انٹرویو کیے اور آنکھوں دیکھا حال پیش کیا۔ بدرانی فلوجہ میں گزرنے والی رات کا ایک منظر یوں پیش کرتے ہیں۔ ’بدھ کی رات کو میرے گھر سے چند دروازے پرے ایک گھر پر امریکی طیاروں نے بمباری کی۔ وہاں ایک تیرہ سالہ لڑکا مارا گیا۔ اس کا نام غازی تھا‘۔ فلوجہ کے رہنے والے اس غازی اور اس طرح کے کئی دوسروں کو شائد ہمیشہ شہید کے نام سے ہی یاد رکھیں گے۔ اسی طرح ایک عیسائی عورت ویوین سلیم بھی ہیں جن کے شوہر اور تین بچے امریکی ٹینک کے گولے کا شکار ہوئے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں کبھی امریکیوں کو معاف نہیں کروں گی۔ جنگ نے میرا کچھ نہیں چھوڑا۔ روزانہ عراق سے کئی تصاویر آتی ہیں جن میں عراقی جنگ کی بھینٹ چڑھنے والے بچوں کو دکھایا جاتا ہے۔ کیا بچوں کے حقوق میں یہ شامل نہیں ہے کہ نہ صرف وہ زندہ رہیں بلکہ ان کے سر پر ماں باپ کا سایہ بھی رہے۔ لاکھوں بچوں کو یتیم بنا کر آخر ہم انہیں کون سی زندگیاں دے رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹر بچوں کے لیے کتنا کچھ کرتے ہیں یہاں یہ بتانا مقصود نہیں بلکہ بات کرنے کی یہ ہے کہ دنیا میں کتنے بچے ایسے ہیں جو اس چارٹر کے ہوتے ہوئے اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ پیدا ہونے کے بعد زندہ رہنا ہر ایک کا بنیادی حق ہے اور زندہ رہنے کے لیے بنیادی حقوق کا ملنا بھی۔ بچوں کو صرف اپنے حقوق کے لیے ایک دن نہیں چاہیئے بلکہ ہر دن اپنے حقوق چاہیئں۔ ہمیں بیس نومبر کو ہر دن یاد رکھنا چاہیئے۔ بیس نومبر مجھے کیوں یاد رہتی ہے اسکی وجوہات میں اب بیان کرتا ہوں۔ یہ میرے عزیز دوست اشعر رحمان کا جنم دن ہے۔ اور اس دن ہی میرے بیٹے نے مجھے ایک جملہ کہا تھا جو مجھے ہمیشہ یاد رہےگا۔ ہوا یوں کہ ایک مرتبہ بارش میں میں اپنے بیٹے بلال کو سٹرالر یا اس کی بگھی میں بٹھائے نرسری لے کر جا رہا تھا کہ دل کا درد اچانک اٹھا اور اٹھا بھی ایسا کہ لگا شاید آخری وقت آ گیا۔ جب ہمت جواب دے گئی تو فٹ پاتھ پر ایک دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گیا۔ سوچا اب اس ننھی سی جان کو بھی کچھ بتا دوں کہ اس کا باپ کس کرب میں ہے اور اگر مجھے کچھ ہو جائے تو اسے فوراً کیا کرنا ہے۔ میں نے اسے بتانا شروع کیا ہی تھا کہ میرے دل میں بہت درد ہو رہا ہے اور۔۔۔ ابھی میں کچھ اور کہتا کہ بلال سٹرالر کے کور کے اندر سے بول پڑا (بابا جب میں ڈاکٹر بن جاؤں گا تو آپ کو ٹھیک کر دوں گا)۔ پتہ نہیں کہاں سے اتنی طاقت آ گئی کہ اٹھا اور سٹرالر دکھیلتا ہوا اسے سکول لے گیا۔ بچے ہماری طاقت ہیں۔ اور ہم ہیں کے دنیا میں ہر جگہ اپنے آپ کو کمزور کر رہے ہیں۔ نومبر ہی وہ مہینہ ہے جس میں اس شخص کا انتقال ہوا جس کا نام ہمارے ذہنوں میں اس وقت سے نقش ہے جب ہمیں نہ تو فلسطین لکھنا آتا تھا اور نہ ہی اسرائیل۔ فلوجہ تو اب کی بات ہے۔ لیکن وہ شخص ہمارے حقوق کی طرح ہمارے بچپن سےہمارے ساتھ رہا اور نومبر میں ہی فلوجہ پر امریکیوں نے ’فیصلہ کن‘ حملہ کیا۔ آج بیس نومبر ہے جو بچوں کے حقوق کا دن ہے۔ بچے چاہے بیسلان کے ہوں، رملہ کے یا فلوجہ کے۔ بچے بچے ہی ہیں اور انہیں جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کو۔ ’سب اِک داتا کے بندے ہیں |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||