BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 October, 2004, 17:43 GMT 22:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آخری رات کا ڈرامہ

حسام ابدو
ایک فلسطینی بچہ حسام ابدو جو بم باندھے اسرائیلی چیک پوائنٹ پر پکڑا گیا
شیکسپیئر نے کہا تھا کہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے۔ سٹیج تو یہ ہے ہی پر اس پر دکھایا جانے والا ڈرامہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ سب ایکٹر اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں پر ڈرامہ چلتا رہا ہے۔ گزشتہ دو کالم میں نے اس دنیاوی ڈرامے کو سامنے رکھ کر ڈرامے کی ہی صورت میں لکھے تھے۔ آج اس کی آخری قسط ہے پر دنیا کے حقیقی ڈرامے کی طرح یہ بھی آخری نہیں ہے۔ ہندی میں کہتے ہیں کہ ’شروعات کا کوئی انت نہیں‘ یعنی جب چیزیں شروع ہو جاتی ہیں تو کبھی نہیں رکتیں۔ خواہش ہے کہ اگر اس نے رکنا نہیں تو کم از کم وقفہ ہی ہو جائے۔ کچھ تو سکون ملے۔

آخری رات کا ڈرامہ

کردار:
پلانر: ایک انتہائی پڑھا لکھا شخص جو منصوبے بناتا ہے۔
ایکزیکیوشنر: جو دوسروں کے بنائے ہوئے منصوبوں پر عمل درآمد کرتا ہے۔

پردہ اٹھتا ہے۔

سین: ایک کمرہ جس میں ایک چارپائی پڑی ہے۔ پاس ہی ایک کرسی اور میز رکھا ہے اور دیوراوں پر چند پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔ روشنی قدرے دھیمی ہے اور دیوراوں کا مٹیالہ رنگ اس میں اور بھی اضافہ کر رہا ہے۔ ایک پچیس سال کا نوجوان کمرے میں موجود ہے جو قدرے مضطرب نظر آ رہا ہے۔

ایکزیکیوشنر: (بستر پر سے اٹھ کر دیوار کی طرف چلتے ہوئے) یہ رات کب ختم ہو گی۔ آج لگتا ہے کہ کسی نے اسے کھینچ کر اور لمبا کر دیا ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ خاموشی۔ روز دشمن گولے داغ داغ کر ہمیں ہر وقت آنے والی موت کا پیغام دیتے رہتے ہیں اور آج۔ آج تو موت سی خاموشی ہے۔ (دیوار پر کسی ایک نقطے پر نظر مرکوز کرتے ہوئے سوچتا ہے۔ رات خاموش ہے روٹھی ہوئی قسمت کی طرح/ دور ہی دور سے چپ چاپ چلی جائے گی/تم تو کچھ بات کرو تم میری قسمت تو نہیں/ تم میری بات میرا غم تو سمجھ سکتی ہو)۔ میری بات کوئی نہیں سمجھتا۔

(کرسی پر جا بیٹھتا ہے اور اپنے آپ سے ہی باتیں کرنا شروع ہو جاتا ہے) مجھے جو بھی کام دیا گیا ہے اسے بالکل ٹھیک طریقے سے سرانجام دینا ہے۔ کسی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر میں دشمن کو نہیں ماروں گا تو وہ مجھے مار دے گا۔ مگر دشمن کون ہے۔ صبح کو میرا نشانہ کون دشمن ہو گا۔ مجھے ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ صبح میرا نشانہ کون بنے گا اور کس کے لیے میں موت کا فرشتہ ثابت ہوں گا۔ یہ بتانے والے ابھی تک کیوں نہیں یہاں پہنچے۔ (ایک دم کرسی سے اٹھتا ہے اور ٹہلنا شروع کر دیتا ہے)۔ لیکن کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ میرا نشانہ کون ہو گا۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس مجھے تو اسے اس صفحۂ ہستی سے مٹانہ ہے۔ گاڑی لے کر جاؤں گا اور سیدھا اس پر اور اس کے محافظوں پر چڑھا دوں گا اور پھر بس۔

(دوبارہ بستر پر لیٹ جاتا ہے) ماں، ماں تم کیوں یاد آ رہی ہو۔ میں تمہارے پاس آ رہا ہوں سب کچھ ختم کر کے۔ مجھے نہیں معلوم کہ تم مجھ سے مل کر خوش ہو گی یا ناراض۔ میرے پاس تمہاری خوشی یا ناراضگی کے متعلق سوچنے اور کسی فیصلے پر پہنچنے کے لیے وقت نہیں ہے چاہے یہ رات کتنی ہی لمبی ہے۔ ہاں اگر تم ہوتی تو شاید حالات ذرا مختلف ہوتے۔ ویسے اچھا ہے کہ تم نہیں ہو۔ یہ دور زندہ رہنے کا نہیں ہے، ہر طرف موت ہے چاہے وہ ہماری طرف سے ہو یا ان کی طرف سے۔ مجھے بچپن کی جو پہلی باتیں یاد آ رہی ہیں ان میں تمہاری وہ بات بھی یاد ہے کہ بیٹا کبھی کسی جاندار چیز کو نہ مارو۔ ایک چیونٹی کو بھی مارنے سے گناہ ہوتا ہے۔ بہت عرصہ تو میں آگے کی بجائے زمین کی طرف دیکھتے ہوئے چلتا رہا۔ ماں اب وہ زمانہ نہیں ہے۔ اب تمہاری منتق اس دنیا پر لاگو نہیں ہوتی۔ گناہ اور ثواب کی تشریح بدل گئی ہے۔ شاید میرا تمہارے پاس آنا تمہیں اچھا نہ لگے۔

چلی میں مظاہرے
مشکلیں پیچھا نہیں چھوڑتیں

(پسینے میں بھیگا ہوا بستر سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے) کل فیصلہ کن جنگ ہے، کم از کم میرے لیے۔ مجھے جو حکم ملا ہے وہ ہر حال میں پورا کرنا ہے۔ میں اب واپس نہیں جا سکتا۔ میری گاڑی واپس جانے کے لیے نہیں بنی۔ ہاں اگر مجھے پتہ چل جائے کہ میرا نشانہ کون ہے تو شاید میرے جذبات کچھ مختلف ہوں۔ شاید مجھ میں اور زیادہ غصہ آ جائے۔ لیکن شاید اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ جسموں کے ٹکڑے اور خون کا رنگ سب کا ایک سا ہے۔ اے صبح تو آتی کیوں نہیں۔ جہاں سے آیا تھا وہاں خوش نہیں تھا، جہاں جا رہا ہوں وہاں بھی شاید خوش نہیں ہوں گا، مگر پھر بھی اتنی بیچینی۔

میری گاڑی کو کوئی نہیں روک سکتا۔

دوسرا سین: جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ ایک کمرہ، جہاں جا بجا نقشے لگے ہوئے ہیں اور الماریوں میں بےشمار کتابیں رکھی ہوئی ہیں۔ آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے ایک شخص کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا ہے اور اس کے چہرے سے صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ اپنے کسی منصوبے پر خوش ہے۔

پلانر: (میز پر مکا مارتے ہوئے) ان کو روکنا ہے، ان کو ختم کرنا ہے۔ اگر انہیں اور چھٹی دی گئی تو یہ پھیل جائیں۔ بالکل ناسور کی طرح۔ (انگلیاں تیزی سے کمپیوٹر کے کی بورڈ پر چلتی ہیں) پر یہ کنوینشنل جنگ نہیں ہے۔ دشمن ہے بھی اور نہیں بھی۔ سامنے بھی آتا ہے اور چھپا بھی رہتا ہے۔ (ایک نقشے پر انگلی رکھتے ہوئے) یہ آبادی دس لاکھ افراد کی ہے اور یہاں ان جگہوں پر روز صبح لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔ کل ملا کے دن میں چار گھنٹے ہوتے ہیں جب ان جگہوں پر رش رہتا ہے۔ میں ان جگہوں کو چار علاقوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ اور ہر علاقے میں دو سو کے قریب دکانیں ہیں۔ چار پانی کی ٹنکیاں اور دو فائر بریگیڈ کے دفتر۔ (دوسرے نقشے پر) اس مرتبہ ہمیں بم نہیں مارنے۔ کم از کم ہمیں نہیں۔ یہ لوگ خود ہی لڑیں۔ کیوں نہ ان دو ٹنکیوں کے پانی بند کر دیں یا انہیں بم مار دیں۔ ان جنگلیوں کو پتہ چلے کہ ہم سے لڑنے کا انجام کیا ہے۔ دو دن پیاسے رہیں گے تو سب جذبے خشک ہو جائیں گے۔ پانی پر لڑتے رہیں گے۔

(الماری میں سے پڑی کتابوں میں سے ایک کتاب نکال کر اسے پڑھنے لگتا ہے) ہاں چلی میں یہ اس طرح کیا گیا تھا، نکاراگوا میں اسی طرح، اور میکسیکو، ہیٹی، ایلسلویڈور، ڈومینیکن ریپبلک، پناما، انڈیا، پاکستان، کوریا، ویتنام، کمبوڈیا، لبنان، یوگوسلاویہ، صومالیہ اور اسرائیل یعنی فلسطین۔ ہمیں تاریخ کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔ اس سے کچھ سیکھنا چاہیئے اور جو غلطیاں پہلے ہوئی ہیں انہیں نہیں دہرانا چاہیئے۔

(کاغذ پر کچھ لکھتا ہے) یہ، یہ وہ جگہیں ہیں جہاں سے یہ کمزور ہیں۔ ان کی کمزوری کو ان کے خلاف استعمال کرنا چاہیئے۔ اتنا علم آخر کب کام آئے گا۔ سب ڈیٹا ہمارے پاس ہے۔ ہمیں کرنا ہے تو بس اسے استعمال کرنا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ دنیا ہمیں برا سمجھے، حقیقت میں اگر ہمارا مقصد آسانی سے حل ہو جائے تو ہم کچھ ایسا کرنا بھی نہیں چاہتے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ ہمیں ہماری مرضی سے جینے دیا جائے۔ مگر یہ لوگ۔ ان کو یہ پتہ بھی ہے کہ ہم سے ٹکرانا کتنا غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے مگر پھر بھی۔ انہیں جنگی حکمتِ عملی بالکل نہیں آتی۔ اور محبت اور جنگ میں تو سب جائز ہے۔

(چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ آتی ہے جیسے کوئی سراغ مل گیا ہو یا کوئی گتھی سلجھ گئی ہو)۔ یہ ان اشخاص کی لسٹ ہے جنہیں آج ہم اس علاقے میں بھیجیں گے۔ اگر یہ بچ گئے تو بھی ہمارا کام ہو جائے گا اور اگر مارے گئے تو کیس اور مضبوط۔ ہم بس کہیں گے کہ دہشت گرد تو بات ہی نہیں کرنا چاہتے، اس لیے ان سے بات ہی نہیں ہو سکتی۔ ویسے اگر سو پچاس لوگ مر جائیں تو ان کے خلاف نفرت اور بڑھے گی۔ اور پھر ان کے لیے دنیا اور تنگ ہو جائے گی۔ جتنا اثر چند لاشیں دکھاتی ہیں اتنا دنیا کی کوئی بڑی سفارتی کوشش نہیں کر سکتی۔ لاشیں ہی جنگ کرواتی ہیں اور لاشیں ہی اسے رکواتی ہیں۔ ایٹم بم نے بھی تو جنگ رکوائی اور وہ بھی کتنی جلدی۔ دشمن کو گھٹنے ٹیکنے ہی ہیں۔ یا تو تم ہمارے ساتھ ہو یا پھر ہمارے دشمن۔

تمہاری گاڑی ہمارے بغیر نہیں چل سکتی۔

(پردہ گرتا ہے)

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد