BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 January, 2005, 18:10 GMT 23:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونامی، ہولناکی کا اصل چہرہ
 جہاز
ماہرین کہتے ہیں کہ ہوائی اڈہ تمام دن بند رہے گا
انڈونیشیا کے صوبے آچے میں جاری امدادی کارروائیوں کے ساتھ ہی سونامی کی ہولناکی کا اصل چہرہ سامنے آرہا ہے اور امدادی کارکن اب یہ اندازہ لگانے کے قابل ہوئے ہیں کہ تباہی کس بڑے پیمانے پر پھیلی ہے۔

امدادی اداروں نے کچھ ایسے گاؤں دریافت کیے ہیں جہاں کی اسی فیصد آبادی سونامی کی نذر ہوچکی ہے جبکہ زندہ بچ نکلنے والے خوراک کی قلت کے باعث اب صرف ناریل پر گزارہ کررہے ہیں۔

سونامی سے ہونے والی ایک لاکھ چالیس ہزار ہلاکتوں میں سے چورانوے ہزار افراد صرف انڈونیشیا ہی میں ہلاک ہوئے ہیں۔

آچے کے واحد ہوائی اڈے پر اب امداد باقاعدہ طور پر پہنچائی جارہی ہے۔ یہ ایئرپورٹ ایک تباہ شدہ طیارے کے باعث پندرہ گھنٹے تک بند کرنا پڑا تھا۔

چھبیس دسمبر کو سونامی کی وجہ سے پھیلنے والی تباہی کے باعث متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء پہنچانے کے لیے فضائی رابطے بہت ہی اہم ہیں کیونکہ آمد و رفت کے دیگر ذرائع بھی مخدوش حالت میں ہیں۔

آچے کے قریبی قصبے میلیبو میں چالیس ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کے مطابق بندرگاہ کے اردگرد کوئی عمارت بھی نہیں بچی ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اصل تباہی کا تخمینہ لگانا اب بھی ناممکن ہے۔

آچے میں پھیلے ملبے میں اب تک وہ نشانات موجود ہیں جن سے وہاں لاشوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے تاہم یہ لاشیں اب تک جمع نہیں کی جاسکی ہیں اور فضا میں تعفن پھیلنا شروع ہوگیا ہے۔

ان اطلاعات کے بعد کہ آچے میں بچے سمگل کرنے والے مافیا نے رسائی حاصل کرلی ہے، انڈونیشیا کی حکومت نے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے آچے سے باہر منتقل کرنے پر پابندی لگادی ہے۔

بندہ آچے
امدادی اشیاء پہنچانے کے لیے فضائی رابطے بہت ہی اہم ہیں

دیگر پیش رفت
سری لنکا انڈونیشیا کے بعد سونامی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جبکہ دن بھر جاری رہنے والی بارشیں امدادی کارروائیوں کی راہ میں مزید مشکلات پیدا کررہی ہیں۔

بھارت کے انڈمان اور نکوبارجزائر میں رکٹر سکیل پر چھ اعشاریہ صفر تک کے زلزلے کے جھٹکے دوبارہ محسوس کیے گئے ہیں جن سے وہاں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دادرے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق برما میں حکومتی اعدادو شمار کے علاوہ دیگر سینکڑوں ماہی گیر ہلاک ہوئے ہیں۔

تھائی لینڈ میں نیشنل میٹریالوجی کے شعبے کے سربراہ کو معطل کردیا گیا ہے۔ وہاں یہ تحقیقات جاری ہیں کہ سونامی کے بارے میں پہلے سے کوئی وارننگ کیوں جاری نہیں کی گئی۔

یورپی یونین کے رہنما جمعرات کو جکارتہ میں سونامی بحران کے بارے میں ایک اجلاس میں شرکت کریں گے۔

آچے میں ایک فرانسیسی امدادی ادارے ایم ایس ایف کے کارکن ارون وانٹ لینڈ کے مطابق ادارے کو متاثرہ علاقوں میں ایسے بے شمار افراد ملے ہیں جو بری طرح زخمی تھے اور اب بھی بہت سے ایسے زخمی افراد ہیں جن تک اب تک امداد نہیں پہنچ سکی ہے جس کے باعث خدشہ ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ’جوں جوں ہم حالات سے زیادہ واقف ہورہے ہیں تباہی کی تصویر مزید تاریک ہوتی جارہی ہے‘۔

امدادی کاکنوں نے بیماریاں پھیلنے کے خدشے کا بھی اظہار کیا ہے۔

ٹائی ٹن نامی امدادی ادارے نے بی بی سی کوبتایا کہ بندہ آچے میں تین ہزار بے گھر افراد صرف چار غسلخانے استعمال کررہے ہیں۔

اس وقت سونامی سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے اور خدشہ ہے کہ اس تعداد میں اضافہ ہوگا۔

آچےبے رحم سمندر
بند آچے کسی میدان جنگ کا منظر پیش کرتا ہے
آفات میں ریاستیں اور افوج زیادہ مؤثر ہوتی ہیںسونامی اور ریاست
آفات میں ریاستیں اور افواج زیادہ مؤثر ہوتی ہیں
سونامی کی کہانیاںسونامی کی کہانیاں
’میں زمین پر واپس جانے سے خوفزدہ تھا‘
انڈامان کے قدیم باشندےقبائل محفوظ کیسے؟
فطرت سے قربت ان کی حفاظت کا سبب بنی
ہاتھیجانور بچ گئے
جانورچھٹی حس کی وجہ سے سونامی سے بچ گئے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد