BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 January, 2005, 15:28 GMT 20:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونامی: ریاست کا امدادی کردار

بھارتی فوج سونامی کے متاثرین کو امداد پہنچارہی ہے
بھارتی فوج سونامی کے متاثرین کو امداد پہنچارہی ہے
بحر ہند کے زلزلے اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والے سونامی طوفان نے خطے کے ساحلوں پرطوفانِ نوح جیسی جو تباہی مچا دی ہے ابھی تک اس کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدای کاموں کے انچارج یان ایگلینڈ کے مطابق شاید ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا قطعی اندازہ کبھی بھی نہ لگایا جا سکے۔ اسی طرح شاید قومی انفراسٹرکچر، لوگوں کی ذاتی جائیدادیں، تجارتی عمارتیں اور بہت ساری دیگر اشیاء کی جو تباہی ہو ئی ہے اس کا بھی مکمل طور پر تخمینہ نہ لگایا جسکے۔

تباہی جس انداز کی ہوئی ہے اوراس کے رد عمل میں جس سطح کا امدای کام شروع ہوا ہے اس لحاظ سے اس کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان کا یہ کہنا غالباً غلط نہیں کہ اقوام متحدہ نے اس سے پہلے اتنے بڑے پیمانے پر امدادی کام نہیں کیا ہے۔ اس تباہی پر جس طرح کا شروع شروع میں امیر ملکوں کی حکومتوں نے کنجوسی کا مظاہرہ کیا اور جس طرح پھر تنقید کے بعد انہیں اپنی اپنی امداد کے حجم میں اضافہ کر نا پڑا اس سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ اس طوفان نے نہ صرف بحر ہند میں تلاطم مچا دیا ہے بلکہ ہر سطح پر عالمی اداروں کو بھی جھنجوڑ دیا ہے۔

ایک بات تو یہ واضح ہو ئی ہے کہ امدادی کام غیر سرکاری تنظیموں کے بس کی بات نہیں ہے۔ خود یان ایگلینڈ نے تسلیم کیا ہے کہ امدادی کاموں کیلئے فوجی انفراسٹرکچر کی شدید ضرورت ہے کیونکہ دنیا کو جس تباہی سے سابقہ پڑا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امدادی کاموں کیلئے بحری بیڑے، ہیلی کاپٹرز اور بڑی بڑی ’ارتھ ریمونگ‘ (Earth Removing) مشینوں کی ضرورت ہے۔ یہ تمام سامان ریاست اور خاص طور پر فوج کے علاوہ کوئی اور مہیا کر نے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔ نجی اداروں سے اس قسم کی فراخدلی کی توقع نہیں کی جا سکتی البتہ جب ترقیاتی کام شروع ہو جائےگا تو یہ اس میں اپنا منافع حاصل کر نے ضرور آجائیں گے اور اس طرح ترقی میں ان کا بھی ایک مثبت کردار بن جائیگا۔

ہم عام طور پر یہ دیکھتے آئے ہیں کہ اکثر ملکوں میں اور خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں میں جب بھی کبھی قدرتی آفت آتی ہے تو امدادی اور بحالی کے کاموں کیلئے فوج کو طلب کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ملکی اور بعض اوقات غیر ملکی حکومتیں امدادی گرانٹیں دیتی ہیں۔ اس قسم کی حکومتی امدادوں کا سلسلہ گںشتہ چند سالوں سے بتدریج کم سے کم ہو تا جارہا ہے۔ اور اس رجحان کی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی تھی کہ ترقی کیلئے امداد پر انحصار کم کر کے دنیا کو نجی شعبے سے سرمایہ حاصل کر نا ہو گا۔ مگر سونامی طوفان نے اس نظریے کو چیلنج کر دیا ہے اور عالمی سطح پر اس کے نتیجے میں بننے والا معاشی اور سیاسی ڈھانچہ جو آئی ایم ایف، عالمی بینک، ڈبلیو ٹی او اور بین الاقوامی این جی اوز کی صورت میں اس وقت چل رہا ہے، یہ سب یا تو تاریخ حصہ بن جائیں گے یا انہیں اپنی نئے تقاضوں کے اپنی مطابق تنظیم نو کر نا ہو گی۔

اس کے ساتھ ساتھ ریاست کا کردار جو کے کم فعالی (Non-Activist) کی طرف گامزن تھا، غالب امکان ہے کہ اب پھر سے زیادہ فعال (Activist) اور متحرک صورت اختیار کرے گا۔ یہ متوقع تبدیلی نہ صرف ریاستی اداروں کےلئے نئے کردار کا تعین کریگی بلکہ نئی سیاسی اور ترقیاتی امکانات کا راستہ بھی کھولے گی۔ فوج ہی کے ادارے کو لےلیجئے جو اب تک سیاسی ساکھ کے لحاظ سے مائل بتنزلی تھا، اب قدرتی آفات کے خلاف انسانی طاقت کے مظہر کے طور پر سامنے آئیگا۔ یہ کردار تاریخی طور پر کوئی نیا نہیں ہو گا مگر گزشتہ دو دہائیوں میں ریاست محالف نظریات کے فروغ کے باعث غیر مقبول ہو گیا تھا۔

فوج کے اس قسم کے ترقیاتی کردار کی بہترین مثال بہترین امریکہ، چین، ترکی اور روس ہیں۔ مگر اب اس کردار کو نجی اور قومی شعبوں کے اشتراک کے ساتھ پھر سے فعال بنانے کا کام، کم از کم اکیڈمک سطح پر، اجاگر کر نے کا سہرا، امریکی کنسلٹنٹ پیٹر ڈریکر کے سر جاتا ہے۔

زلزلے اور سونامی طوفان کے تھپیڑوں سے سب سے زیادہ نقصان انڈونیشیا کو پہنچا ہے۔ مگر وقت دیکھے گا کہ یہی ملک سب سے پہلے کامیابی کے ساتھ اس بربادی کے ساتھ نبرد آزما ہو گا۔ وجہ اس کا ریاستی ڈھانچہ اور خاص کر اس کی فوج ہے۔ بھارت میں بھی تباہی سے نمٹنے کیلئے امدادی کام فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سری لنکا میں ریاست کا محدود کردار پھر سے بحال اور مضبوط ہوتاہوا نظر آرہا ہے۔ یہ تبدیلی صرف اسی خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے نتیجے میں ترقی یافتہ ممالک میں بھی ریاست کے فعال کردار کو بحال کر نے کے مطالبے کوتقویت ملے گی۔

دنیا میں جس طرح اس وقت ترقی (Development) کو مالیاتی شرائط کے اپنانے سے مشروط کر دیا گیا ہے اس میں بھی تبدیلی آنے کے غالب امکانات ہیں۔ موجودہ مالیاتی نظام کی شرائط کے ہوتے ہوئے سونامی طوفان سے متاثرہ ملکوں میں نہ صرف امدادی کام بلکہ بعد میں شروع ہو نے والے ترقیاتی منصوبے مشکل ہی نہیں، نا ممکن بھی ہیں۔ کسی نہ کسی کو تو اکیسویں صدی کا مارشل پلان تو پیش کر نا ہو گا۔اور بہت ممکن ہے کہ اپنی موجودہ قدامت پسندی کے باوجود امریکہ مجبور ہو گا کہ وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہو نے والے یورپی ترقی کے منصوبے کی طرح جنوب مشرقی ایشیا میں بھی اپنا کردار اپنی معاشی مفادات کے تحفط کیلئے ادا کرے۔ البتہ اس دفعہ یہ کردار تنہا امریکہ ہی ادا نہیں کرے گا بلکہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک بھی اس کے ساتھ برابری کی سطح پر اس میں شامل ہوں گے۔

بہر حال اس وقت فوری طور پر تو طوفان سے بچ جانے والے پچاس لاکھ انسانی جانوں کے بچائے جانے کیلئے نہ صرف دنیا بھر کے ادارے مصروف کار ہیں بلکہ تقریباً ہر ملک کا شہری بھی اپنی اپنی سطح پر کم از کم غمگین ضرور ہے۔ کئی لوگ چندے بھی دے رہے ہیں۔ نجی ادارے بھی عطیات کے اعلانات کر رہے ہیں۔ کھلاڑی اور فنکار بھی اسں کار خیر میں پیش پیش ہیں۔یہ سب کوششیں لوگوں کے دلوں میں اس المیے کے شکار انسانوں کیلئے دکھ بانٹنے کا ایک خوبصورت اظہار تو ضرور ہے مگر تعمیر نو کے لئے کافی نہیں ہیں۔بہر حال اس تباہی کے نتیجے میں پیدا ہو نے والی تبدیلی کس طاقت کے ساتھ سامنے آتی ہے اس بات کا انحصار امیر ملکوں (G-8) کی حکمت عملی پر ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد