 |  قرضوں کی وصولی منجمد کرنے کے سے متاثرہ ممالک کو تعمیرِ نو میں مدد ملے گی |
قرضے دینے والے ممالک کے گروپ پیرس کلب نے سونامی سے متاثرہ ممالک کے قرضوں کی وصولی منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قرضوں کی وصولی فوری طور پر اور بلاشرائط منجمد کر دی گئی ہے اور یہ ایک سال تک اسی طرح رہے گی۔ گروپ کے اراکین نے پورا دن معاہدے کی شرائط اور قرضہ معاف کرنے کی اپیل پر بحث کرتے رہے۔ کئی امدادی ایجنسیوں نے مطالبہ کیا تھا کہ قرضوں کی وصولی کو منجمد نہ کیا جائے بلکہ ان کو مکمل خاتم کیا جائے۔ پیرس کلب کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ابھی تک انڈونیشیا، سری لنکا اور سیشیلیز نے شرائط مانی ہیں۔ پیرس کلب کے رکن ممالک کو قرضوں کی وصولی کے سلسلے میں اس برس تقریباً پانچ ارب ڈالر کی ادائیگی باقی ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کی طرف سے سونامی کے متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیوں میں رابطہ کاری کرنے والے اعلیٰ اہلکار ژان ایگلینڈ نے امیر ممالک کی طرف سے متاثرین کے لیے فوری رقم فراہم کرنے کی یقین دہانی کا خیرمقدم کیا ہے۔  |  جینیوا میں اقوام متحدہ کا پرچم سرنگوں ہے |
جینیوا میں ہونے والی ایک کانفرنس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ژان ایگلینڈ نے کہا کہ امدادی ممالک نے طوفان کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی مدد کے لیے آئندہ چھ ماہ میں اکہتر کروڑ ستر لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ نے طوفان کے بعد اتنی قلیل مدت میں اس قدر خطیر رقم جمع کی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کا گروپ G7 پہلے ہی قرضوں کی وصولی منجمد کرنے کی تجویز کی حمایت کر چکا ہے۔ برطانیہ کے وزیر خزانہ G7 گروپ کے سربراہ ہیں۔ |