 |  انڈونیشیا میں سونامی سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10500 سے تجاوز کرچکی ہے |
انڈونیشیا کی حکومت نے امدادی اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ بغیر اجازت آچے کے دور دراز علاقوں میں نہ جائیں۔ انڈونیشیا کی فوج نے کہا ہے کہ امدادی اداروں کو بند آچے اور میلیبو کے علاوہ صوبے کے دیگر علاقوں میں جانے کے لیے حکومت سے اجازت لینا ہوگی۔ حکومت کو اس صوبے میں طویل مدت سے علیحدگی کی تحریک کا سامنا ہے۔ تاہم نامہ نگاروں کے مطابق حکومت ایک مرتبہ پھر آچے میں اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سونامی کے بحران کے باعث حکومت نے اس علاقے کو بیرونی اداروں کے لیے کھول دیا تھا۔ آچے میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومت کی اس نئی ہدایت کے باعث امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آچے میں امدادی کارکنوں کے تحفظ کی گارنٹی نہیں دے سکتی کیونکہ اس بحران میں اس کے بے شمار فوجی مارے گئے ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے ان خدشات کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے۔ اس سے قبل انڈونیشیا کی حکومت نے کہا تھا کہ اس نے باغیوں کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے مطابق ریلیف آپریشن کے دوران لڑائی روک دی جائے گی۔ انڈونیشیائی حکام کے مطابق ملک میں سونامی سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ پانچ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ |