باغیوں کے ساتھ حکومت کا معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے آچے کے صوبے میں امدادی کام بنا رکاوٹ کے جارے رکھنے کے لئے علیحدگی پسند باغیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کرلیا ہے ۔ آچے سونامی کے سمندری طوفان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ باغی اس بات کے لیے رضامند ہو گئے ہیں کہ وہ آچے میں ہونے والے امدادی کاموں میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ لندن کے دورے پر آئے ہوئے انڈونیشیا کے وزیر خارجہ حاسن ویرا جودہ نے کہا کہ انہیں امید کی ایک کرن نظر آرہی ہے کہ دونوں فریق مصالحت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ آچے میں باغی گزشتہ 15 سال سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پچھلے دو سال کے دوران وہاں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ مسٹرحاسن ویرا جودہاہ لندن اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کی غرض سے آئے ہیں جس کے تحت انڈونیشیا کے بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کو منجمد کر دیا جائے گا۔ بی بی سی کے ڈیوڈ لائین کا کہنا ہے حالانکہ باغیوں کے ساتھ اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں جلد ہی امن قائم ہوجائے گا لیکن انڈونیشیا کی نئی حکومت اس موقع کو امن مزاکرات کے آغاز کا راستہ کھولنے کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔ امن کے راستے میں سب سے بڑی روکاوٹ دونوں جانب انسانی حقوق کا خراب ریکارڈ ہے اور خاص طور پر سرکاری فوجی دستوں میں۔ امید کی جارہی ہے کہ سری لنکا میں بھی سونامی سانحے کی وجہ سے کشیدگی میں کمی آئے گی۔سری لنکا میں تامل ٹائیگرز نےمرکزی حکومت پرالزام لگایا تھا کہ وہ ملک کے تامل علاقوں میں امداد نہیں پہنچا رہی اور اس سانحے کی آڑ لیکر تامل قبضے والے علاقوں میں فوجی دستے بھیج رہی ہے۔ 2002 میں جنگ بندی ٹوٹنے سے پہلےسری لنکا کی اس 20 سال پرانی لڑائی میں 64000افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ آچے میں بھی 26 دسمبر سے پہلے مارشل لاء لگا ہوا تھا اور یہ علاقہ بین الاقوامی میڈیا اور امدادی ایجنسیوں کے لئے بند تھا۔سونامی کے بعد دونوں فریق نے جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن اس کے بعد بھی دونوں ہی جانب سے جھڑپوں اور ہلاکتوں کی اطلاعات ملتی رہیں۔دونوں ہی ایک دوسرے پر سونامی کی آڑ لیکر دوبارہ حملے شروع کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں سکی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||