جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سونامی سمندری طوفان سے ہونے والی تباہی کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کی حیران کن اور ناقابلِ یقین کہانیاں بھی سامنے آ رہی ہیں جو اپنے نصیبوں کی بنا پر ہلاک ہونے سے بچ گئے۔ بارہ سالہ بھارتی بچہ مرلی دھرن بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہے جنہیں سونامی کی تباہ کاری اپنا نشانہ نہیں بنا سکی اور جو دس روز تک پانی میں اکیلا گھرے رہنے کے بعد آخر ایک امدادی کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ مرلی دھرن کا کہنا ہے کہ اس نے یہ دس دن بغیر کچھ کھائے پیے گزارے۔ اس نے اپنے کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ پہلے تھوڑا پانی آیا اور پھر بہت پانی آنے لگا اور اس نے ہم پر اٹیک کر دیا۔جس کے بعد ہم الگ الگ ہو گئے، میرے پا پا اور ممی لوگ۔ اس کے بعد میں ایک پیڑ کو پکڑ کر بیٹھ گیا دس دن تک، نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ دس روز بعد جب مرلی دھرن بے ہوش ہو کر پانی میں گرا تو قریب ہی موجود بھارتی فوج کے کی ایک امدادی پارٹی کے لوگوں نے اسے دیکھ لیا اور اسے اٹھا کر جزائر انڈمان کے دارالحکومت پورٹ بلیئر کے ایک امدادی پہنچا دیا۔ مرلی دھرن اب بہتر حالت میں ہے اس نے آہستہ آہستہ کھانا پینا بھی شروع کر دیا ہے اور اس میں اتنی طاقت بھی آ گئی ہے کہ وہ اپنی کہانی بیان کرسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||