BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 January, 2005, 19:03 GMT 00:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد پہنچ رہی ہے: اقوام متحدہ
سونامی سے متاثرین کی تعداد کئی ملین ہے
سونامی سے متاثرین کی تعداد کئی ملین ہے
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ پرامید ہے کہ سونامی کی تباہی سے متاثر ہونے والے لوگ ہلاک نہیں ہوں گے کیونکہ انہیں وقت پر طبی اور دیگر امداد فراہم کی جارہی ہیں۔ امدادی اداروں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ بروقت غذا اور دوائیں نہ ملنے سے کئی افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔

غذا کی فراہمی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ جِم مورِس کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ سات دنوں کے اندر سونامی سے متاثر تمام افراد تک غذا پہنچا دی جائے گی۔

سونامی سے متاثرہ ایشیا کے ممالک میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد کئی ملین ہے۔ اقوام متحدہ نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ وقت پر امداد نہ ملنے سے کئی افراد بھوک اور بیماری کی نذر ہوسکتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار میٹ فرائی کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں حکام نے انہیں بتایا کہ سونامی سے متاثرہ علاقوں میں بیماری پر قابو پایا جارہا ہے اور کسی وباء کے پھیلنے کا خدشہ نہیں ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ امداد ’لگ بھگ ہر شخص تک پہنچ چکی ہے جو تباہی سے متاثر ہوا۔‘ جِم مورس کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پارٹنرز اور کئی غیرسرکاری اداروں کے ذریعے ہم نے ضرورت مندوں تک غذا پہنچانے کا طریقہ تلاش کرلیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ سری لنکا میں ساڑھے سات لاکھ متاثرین اور انڈونیشیا میں لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ متاثرین کو کھانے کی اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔ جِم مورس کا کہنا تھا کہ ’تعداد آئندہ پانچ یا چھ دنوں کے اندر تین لاکھ سے چار لاکھ ہوجائے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہماری ذمہ داری ہے کہ غذا لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ان کی جان بچ سکے، اور بچوں اور ان خواتین کی صحت کا خیال رکھیں جو ماں بننے والی ہیں۔‘ جِم مورس نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ غذا کی فراہمی کے لئے آئندہ چھ مہینوں میں دو سو اسی ملین ڈالر دستیاب ہوں گے اور اس سے لگ بھگ دو ملین افراد کو کھانے کی اشیاء فراہم کی جاسکیں گی۔

انڈونیشیا میں غذا کی فراہمی جمعہ سے تیز ہوسکتی ہے کیونکہ اس دن سے ملیشیا کے دارالحکومت کوالا لمپور کے قریب سبانگ کے مقام پر ایک امدادی فضائی اڈہ کھل جائےگا۔ اس وقت انڈونیشیا کے علاقے آچے میں امداد پہنچانے میں دوگنا وقت لگتا ہے۔

دریں اثناء سونامی سے متعلق حسب ذیل پیش رفت ہوئی ہے:

٭ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے سری لنکا کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ سری لنکا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس ہزار سے زائد ہے۔ کوفی عنان ان علاقوں میں نہیں جاسکے جہاں باغیوں کا کنٹرول ہے۔

٭ ہندوستان کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے انڈمان اور نکوبار کے جزیروں میں متاثرین کے لئے چالیس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

٭ امریکی صدر جارج بش نے امریکی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سونامی کے متاثرین کے لئے امداد دینا جاری رکھیں۔

٭ تھائی لینڈ کے وزیر اعظم تھاکسِن شیناواترا نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ تھائی لینڈ سے یورپ کو فروخت کی کی جانے والی اشیاء پر محصول میں نرمی کریں۔

٭ امیر ممالک کی تنظیم جی-8 نے اعلان کیا ہے کہ وہ سونامی سے متاثرہ ممالک کے قرضوں کی ادائیگی منجمد کرے گی۔


بحرہند کاطوفان، ایک لاکھ سے زیادہ ہلاک
سونامی کی روداد
سونامی: زلزلے سے تباہی تک
سونامی سے اب تک
تباہی کے بعد کی صورتحال، تصاویر میں
آچےبے رحم سمندر
بند آچے کسی میدان جنگ کا منظر پیش کرتا ہے
سونامی کیسے گزریسونامی کیسے گزری
سونامی نے 6 گھنٹے میں 4000 کلومیٹر طے کیے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد