BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 January, 2005, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونامی: زلزلے سے تباہی تک
ہلاکتوں کی کل تعداد ڈیڑھ لاکھ بتائی جاتی ہے
ہلاکتوں کی کل تعداد ڈیڑھ لاکھ بتائی جاتی ہے
سوماٹرا میں آنے والے زلزلے سی پیدا ہونے والی طوفانی موجوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی تباہی کی روداد کچھ یوں ہے۔

٭ چھبیس دسمبر دو ہزار چار کو کرِسمس کی خوشیاں مناکر لوگوں نے ابھی آنکھ کھولی ہی تھی کہ انڈونیشیا کے صوبے آچے میں سماٹرا کے قریب سمندر کی تہہ میں زمین کی ایک سطح کھسک گئی۔ کھسکنے والی زمین کی اس چٹان اور اس کے اوپر واقع چھ سو میل چوڑی چٹان میں گہری دراڑ پڑگئی۔

٭ اس زلزلے سے بحرہند کا پانی سمند کی سطح پر بڑی تیزی سے بپھر آیا اور طوفانی موجوں کی شکل میں پانچ سو فی میل کی رفتار سے مختلف اطراف میں چل پڑا۔ سونامی جاپانی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے سمندر کی سطح میں زلزلے یا آتش فشاں سے پیدا ہونے والی موجیں۔

٭ زلزلۂ پیما پر اس کی شدت آٹھ اعشاریہ نو بتائی گئی۔ گزشتہ چالیس برسوں میں یہ سب سے بڑا زلزلہ تھا۔ سن انیس سو کے بعد اسے پانچواں بڑا زلزلہ بتایا گیا۔ چند دونوں بعد امریکی جیولوجیکل سروے نے زلزلۂ پیما پر اس کی شدت نو بتائی۔

٭ اگرچہ اس زلزلے کا مقام سوماٹرا تھا، لیکن اس کی ابتدائی اطلاعات تھائی لینڈ میں پھوکیٹ، ہندوستان کے جنوبی شہر چننئی اور سری لنکا کے ساحل سے ملنی شروع ہوئیں۔ ابتدائی خبروں میں کہا گیا کہ طوفانی موجوں سے سینکڑوں لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ صرف چند گھنٹوں کے اندر ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جانے لگی۔ یہ اتوار کا دن تھا۔

٭ اتوار کی شام تک جب خبروں کی تفصیلات ملنی شروع ہوئیں تو یہ اندازہ ہونے لگا کہ یہ ایک بہت بڑا طوفان ہے۔ صبح جہاں ہلاکتوں کی تعداد صرف سینکڑوں میں بتائی جارہی تھی، شام ہونے تک یہ تعداد چودہ ہزار پہنچ گئی۔ اور یہ واضح ہونے لگا کہ انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ہندوستان اور سری لنکا کے علاوہ یہ طوفانی موجیں چھ ہزار میل دور براعظم افریقہ کے ساحل پر واقع ملک صومالیہ تک پہنچ چکی ہیں۔ سونامی کی موجیں عام طور پر سو میل سے دور نہیں جاتی ہیں۔)

٭ تاہم دوسرے روز بھی سوماٹرا سے واضح اطلاعات موصول نہیں ہورہی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سوماٹرا انڈونیشیا کے دور درواز علاقے میں واقع ہے۔ لوگ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر ہندوستان اور سری لنکا میں سونامی کی تباہی کا یہ عالم ہے تو سوماٹرا میں کیا ہوگا۔ ساتھ ہی سوماٹرا کے قریب ہی واقع بھارتی جزیرے انڈمان اور نکوبار پر موجود ساڑھے تین لاکھ کی آبادی کے بارے میں اظہار فکر کیا جانے لگا۔

سونامی سے ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی تعداد کافی ہے
سونامی سے ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی تعداد کافی ہے

٭ سونامی کے پہلے دن بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں نے امدادی اپیل کی تیاری کی۔ یورپی یونین نے تیس لاکھ یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اتوار کا دن تھا۔ پاپ جان پال دوئم نے متاثرین کے لئے دعاء کی۔ پہلے ہی ہندوستان نے سری لنکا میں امداد کے لئے بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر فراہم کیے۔

٭ سونامی کے دوسرے دن یعنی پیر کو صبح تک ہلاکتوں کی تعداد تئیس ہزار سے زائد نہیں بتائی جارہی تھی۔ ہلاکتوں کی اطلاعات ملیشیا، برما، مالدیپ اور صومالیہ سے ملنے لگیں۔ دوسرے دن پاکستانی دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں اعلان کیا کہ اس کے بحری جہازوں نے مالدیپ کے جزیروں پر متاثرین کو امداد پہنچائی۔

٭ دوسرے دن کی شام تک اس تشویش کا اظہار کیا جانے لگا کہ ہلاکتوں کی تعداد پچاس ہزار سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔ دوسرے دن کی شام تک ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ سری لنکا میں بتائی جارہی تھی، اگرچہ یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ سوماٹرا سے صحیح اطلاعات نہیں موصول ہورہی ہیں۔ پیر کو سری لنکا میں ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے گیارہ ہزار، انڈونیشیا میں ساڑھے چار ہزار، ہندوستان میں چھ ہزار اور تھائی لینڈ میں ساڑھے آٹھ سو کے قریب بتائی گئی۔

٭ سونامی سے تباہی کا صحیح اندازہ تیسرے روز یعنی منگل کو ہوا جب پانی اتر گیا اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگیں۔ تیسرے دن سوماٹرا میں ہلاکتوں کی تعداد پندرہ ہزار تصدیق کردی گئی۔ آچے کے شہر بانڈا پہنچنے والی بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی نے بتایا کہ سینکڑوں لاشیں سڑکوں پر بکھری پڑی ہیں۔ نامہ نگاروں نے بتایا کہ گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے غائب ہوگئے ہیں۔

٭ تیسرے دن اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ اس زلزلے سے سے متاثر دس ممالک میں امداد تقسیم کرنا ایک ایسا چیلنج ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ سری لنکا کی حکومت نے اٹھارہ ہزار ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی۔ بین الاقوامی تنظیمیں یہ اندازہ لگانے لگیں کہ سونامی کی طوفانی موجوں سے متاثرین کی تعداد کئی ملین ہوسکتی ہے۔

٭تیسرے دن بھی انڈومان اور نکوبار جزیرے سے صحیح اطلاعات نہیں مل رہی تھیں۔ ذرائع ابلاغ نے بھارت کی حکومت پر سونامی وارننگ کا نظام نہ قائم کرنے پر تنقید شروع کی۔ ملک کا دو ہزار کلومیٹر جنوب مشرقی ساحل طوفانوں کی زد میں تھا لیکن ہلاکتیں زیادہ تر جنوبی ریاست تامل ناڈو میں ہوئی تھیں۔ تیسرے دن عالمی بینک نے تباہی سے نقصانات کا اندازہ پانچ ارب ڈالر لگایا۔

٭چوتھے دن یعنی بدھ کو بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تجاوز کرسکتی ہے۔ چوتھے دن کی صبح تک صرف سڑسٹھ ہزار ہلاکتیں تصدیق کی گئی تھیں۔ امریکہ پر تنقید بھی کی جانے لگی تھی کہ وہ امداد کے لئے سامنے نہیں آرہا۔ برطانوی حکومت نے ڈیڑھ ملین پاؤنڈ کی امداد کا اعلان کیا، امریکی بحریہ کے جہازوں کے قافلے متاثرہ علاقوں کی جانب چل پڑے اور جرمنی نے انڈونیشیا اور صومالیہ سے قرضوں کی ادائیگی کو مؤخر کرنے کی بات کی۔

٭ زلزلے کے چوتھے دن دنیا کو سونامی کی تباہی کا صحیح اندازہ ہونے لگا تھا۔ پانچویں دن یعنی تیس دسمبر کو ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار بتائی گئی۔ سماٹرا سے اطلاعات موصول ہونے لگی تھیں اور انڈونیشیا کی حکومت نے اسُی ہزار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ حقیقت سامنے آنے لگی کہ سب سے زیادہ متاثر ملک انڈونیشیا ہے۔

جاپان میں زلزلے سے بچنے کے لئے بچوں کی تربیت دی جارہی ہے
جاپان میں زلزلے سے بچنے کے لئے بچوں کی تربیت دی جارہی ہے

٭ پانچویں دن تک عالمی برادری نے دوسو بیس ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا تھا جس میں امریکہ نے پینتیس ملین ڈالر کا وعدہ کیا تھا۔ عالمی رہنماؤں پر سونامی کی تباہی واضح نہیں تھی۔ بھارتی حکومت نے سونامی وارننگ سِسٹم کے قیام کے فیصلے کا اعلان کیا۔ پانچویں دن ہی امریکی جیولاجیکل سروے نے اعلان کیا کہ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ زمین اپنے محور پر ہِل گئی اور زلزلے سے جو قوت خارج ہوئی تھی وہ ساڑھے نو ہزار ایٹم بموں کے برابر تھی۔

٭ چھٹے دن یعنی اکتیس دسمبر کو انڈونیشیا کی بحریہ نے بتایا کہ آچے میں میلابو نامی جزیہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور جب فوجی وہاں پہنچے تو صرف دوسو لوگ زندہ تھے اور نوے فیصد جزیرہ بالکل تباہ ہوچکا تھا۔ ان افراد کا گزشتہ پانچ روز کے دوران باقی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ ایک فوٹوگرافر موٹر سائیکل سے بارہ گھنٹے کا سفر کرکے وہاں پہنچا تھا۔ چھٹے دن تھائی لینڈ میں امدادی کارکنوں نے بتایا کہ لاشوں کی شناخت میں مہینوں لگیں گے۔

٭ چھٹے دن امریکہ نے اپنی امدادی رقم دس گنا بڑھا دی جو اب ساڑھے تین سو ملین ڈالر ہوگئی۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان سے ملاقات کے دوران اس اضافے کا اعلان کیا۔ عالمی بینک نے ڈھائی سو ملین ڈالر، برطانیہ نے چھیانوے ملین ڈالر، یورپی یونین نے چوالیس ملین ڈالر اور جاپان نے تیس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔ متاثرہ ممالک کے قرضے معاف کرنے کی جرمنی کی تجویز کی فرانس اور اٹلی نے حمایت کی۔

٭ چھ جنوری تک تین ارب ڈالر کی امداد کے وعدے کیے گئے جن کی تفصیلات کچھ یوں تھی۔ یورپی یونین: اس وقت تیس ملین ڈالر کی رقم براہ راست امداد کے لئے خرچ کی جارہی ہے، ایک سو بتیس ملین ڈالر شارٹ ٹرم امداد ملے گی اور چار سو پچپن ملین ڈالر تعمیر نو کے لئے۔ آسٹریلیا: آٹھ سو دس ملین ڈالر پانچ سالوں میں، اس میں سے آدھا قرضہ ہوگا۔ جرمنی: چھ سو چوہتر ملین ڈالر پانچ سالوں میں۔ جاپان: پانچ سو ملین ڈالر، آدھا دوطرفہ امداد، باقی بین الاقوامی اداروں کے ذریعے۔ امریکہ: ساڑھے تین سو ملین ڈالر، کوئی معینہ مدت نہیں۔ برطانیہ: چھیانوے ملین ڈالر جس میں سے تیرہ ملین ڈالر خرچ ہوچکا ہے۔

٭ اکتیس دسمبر کی شب دنیا کے مختلف علاقوں میں عوام نے نئے سال کا خیرمقدم سونامی کے متاثرین کو یاد کرتے ہوئے کیا۔ متاثرین کی امداد کے لئے انٹرنیٹ کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔ سونامی کے ساتویں دن یعنی پہلی جنوری کو اقوام متحدہ نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ بتائی۔ صرف انڈونیشیا میں ہلاکتوں کی تعداد اسُی ہزار تھی۔

٭ دو جنوری کو بھارتی حکومت انڈمان اور نکوبار کے دور دراز جزیروں میں امداد پہنچانے میں پہلی بار کامیاب ہوئی۔ اہلکاروں نے پہلے بتایا تھا کہ ان جزیروں میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہزار ہوسکتی ہے۔ لیکن بعد میں کہا گیا کہ یہاں ہلاکتوں کی تعداد صرف تین ہزار ہے۔ سبھی ماہرین کا کہنا ہے کہ صحیح حالات کا اندازہ شاید کبھی نہ لگے کیونکہ لاتعداد لوگ سمندر کی موجوں میں بہہ گئے۔

سونامی نے دنیا کی حکومتوں اور عوام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ غیرسرکاری امدادی اداروں نے حکومتوں اور افواج کی جانب سے فراہم کی جانے والی ہنگامی امداد کو کافی سراہا ہے۔ بعض لوگوں نے اپنے بچوں کے نام سونامی رکھے ہیں۔ یہ ایک زلزلہ تھا جسے نسلیں یاد رکھیں گی۔


بحرہند کاطوفان، ایک لاکھ سے زیادہ ہلاک
انڈونیشیاتباہی کے مناظر
انڈونیشیا میں تباہی کے مزید مناظر سامنے آئے
سونامی متاثرینمافیا کی زد میں
سونامی کے بعد بچوں کو لاحق خطرات
سوپورہزندگی و موت کے بیچ
ایک شخص آٹھ دن تک بحیرہ عرب میں پھنسا رہا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد