بچوں کی بحالی کوترجیح :یونیسیف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے بہبود اطفال (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے بچوں پر سونامی کی تباہی کے اثرات کو کم نہ سمجھا جائے۔ جنیوا میں یونیسیف کی ترجمان خاتون نے کہا کہ اس تباہی سے ہلاک ہونے والوں میں ایک تہائی یعنی پچاس ہزار کے قریب بچے تھے۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیرل بیلامی کے مطابق جو بچے سونامی سمندری طوفان میں بچ گئے ہیں ان میں سے بہت سے زخمی ہیں اور والدین سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر شدید صدمے کی حالت میں ہیں جن کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔ یونیسیف کی اعلیٰ عہدیدار کے مطابق سونامی کے متاثرین کی بحالی کے لیے کام کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ طوفان سے محفوظ رہنے والے بچوں کے لیے صاف پانی، خوراک اور طبی سہولتوں کی فراہم کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی دوسری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وہ والدین سے بچھڑ جانے والے یا محروم ہوجانے والے بچوں کی نگہداشت کریں اور انہیں کسی بھی طرح کے استحصال سے محفوظ رکھیں۔
انڈونیشیا میں حکومت نے بھی بچوں کو صوبہ آچے سے باہر لے جانے پر پابندی لگا دی ہے کیونکہ یونیسف نے خبردار کیا تھا کہ بچوں کی خرید و فروخت کرنے والے حالات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دریں اثنا جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے دفتر نے اپیل جاری کی ہے کہ جلد از جلد سی 17 ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز مہیا کیے جائیں، جو صرف امریکہ اور برطانیہ دے سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے ہیلی کاپٹر، اِن کو لےجانے والے بحری جہاز، کشتیاں، ہوائی ٹریفک کنٹرول کا ساز و سامان، بجلی کے جینریٹر اور پانی صاف کرنے والے آلات بھی مانگے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک اور ایجنسی بین الاقوامی تنظیم محنت نے کہا ہے کہ متاثرہ ملکوں کی اقتصادی بحالی کے لۓ ماہرین کو جمع کیا جارہا ہے تاکہ لوگ جلد از جلد روز گار پر لگ سکیں اور مفلسی میں مزید اضافہ نہ ہو۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ امدادی سرگرمیوں کے لئے اپنے ہیلی کاپٹروں کی تعداد دو گنا کرنے والا ہے۔ بحرالکاہل کی کمان کے سربراہ نے بتایا کہ محکمۂ دفاع ایک جہازی ہسپتال بھی بھیجنے پر غور کررہا ہے۔اس وقت پینتالیس امریکی ہیلی کاپٹر اور تیرہ ہزار فوجی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ برطانیہ نے انڈونیشیا میں امدادی سرگرمیوں کے لئے سو سے زیادہ فوج کی پیش کش کی ہے۔ اگر انڈونیشی حکومت سے مذاکرات کے بعد فوج بھیجی گئی تو یہ گورکھا فوج ہوگی جو برونائی میں تعینات ہے۔ برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ اسی طرح کی پیش کش سری لنکا کو بھی کی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||