سماٹرا میں امدادی پروازیں شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں حادثے کے باعث جس ہوائی اڈے کو بند کر دیا گیا تھا، اسے اب امدادای کارروائیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امدادی اشیاء سے بھرے ہوئے جہازوں نے پھر سے اس ہوائی اڈے کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ انڈونیشیا کے صوبے آچے میں باندا کے مقام پر واقع یہ واحد ہوائی اڈہ اس وقت بند کرنا پڑا تھا جب امدادی سامان لانے والا ایک طیارہ رن وے پر ایک گائے سے ٹکرا گیا تھا۔ چھبیس دسمبر کو سونامی کی وجہ سے پھیلنے والی تباہی کے باعث متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء پہنچانے کے لیے فضائی رابطے بہت ہی اہم ہیں کیونکہ آمد و رفت کے دیگر ذرائع بھی مخدوش حالت میں ہیں۔ اس وقت سونامی سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ ہے اور خدشہ ہے کہ اس تعداد میں اضافہ ہوگا۔ سمارٹا کے ایک قصبے میں جہاں سونامی سے پھیلنے والی تباہی سے قبل پچانوے ہزار افراد بستے تھے، وہاں چالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق آچے کے صوبے میں رن وے پر حادثے کے بعد امدادی سامان لانے والا جہاز رن وے سے کافی دور جا کر رکا۔ فوجی حکام کہتے ہیں کہ جہاز کا انجن اور لینڈنگ گیئر کو اس حادثے میں کافی نقصان پہنچا ہے اور جب تک ہوائی اڈے پر نقصان زدہ جہاز کو ہٹانے کا سامان نہیں پہنچ جاتا، اسے دیگر پروازوں کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ پہلے ہی ہوائے اڈے کے محدود ہونے پر اپنی تشویش ظاہر کر چکا ہے۔ اس ہوائی اڈے کا رن وے فوجی اور عام شہری دونوں مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ پائلٹوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ ہوائی اڈہ تمام دن ہی بند رہے۔ امریکی بحریہ نے جو فضائی ذرائع سے پہنچنے والی امداد کو متاثرہ افراد میں تقسیم کر رہی ہے کہا ہے کہ اس کے پاس کافی تعداد میں خوراک ہے جسے ہیلی کاپٹروں سے متاثرہ لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تاہم سرکاری اہکاروں کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے کو کھول کر پروازوں کی بحالی ان کی اولین ترجیح ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||