عالمی امداد کے وعدے تین ارب ڈالر سے بڑھ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے سونامی سے پھیلنے والی تباہی کے بعد امدادی کاموں اور متاثرہ افراد میں خوراک کی تقسیم کے لیے ہیلی کاپٹروں کی تعداد دگنی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ابھی تک سونامی سے متاثرہ ممالک کے لیے کل تین ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ آسٹریلیا نے سب سے زیادہ امداد کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سونامی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک انڈونیشیا کو 765 ملین ڈالر دے گا۔ ساتھ ہی جرمنی اور برطانیہ نے بھی امریکہ اور جاپان کی طرح سونامی سے متاثرہ ممالک کی امداد میں اضافہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جرمنی کے چانسلر گریہرڈ شروڈر نے ایک اعلان میں کہا کہ ان کا ملک اب متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے چھ سو چوہتر ملین ڈالر فراہم کرے گا۔ پہلے جرمنی نے صرف ستائیس ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا تھا۔ برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ اگلے چند ہفتوں میں سونامی کے متاثرین کو کئی سو ملین ڈالر کی امداد دے گا۔ دریں اثناء برطانیہ میں بدھ کے روز سونامی کی وجہ سے ہلاک ہوجانے والوں کی یاد میں تین منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کے جزیرے آچے میں سونامی سے جتنی خوفناک تباہی پھیلی ہے اتنی انہوں نے ماضی میں نہ کبھی دیکھی اور نہ سنی۔ ہیلی کاپٹر پر باندا آچے کا دورہ کرنے کے بعد انہوں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ تباہی اتنی شدید ہے کہ نہ ایسا جنگوں میں نظر آتا ہے اور نہ ہی دوسری قدرتی آفات کے دوران۔ اس ہفتے کولن پاول سری لنکا بھی جا رہے ہیں۔ امدادی کاموں کے لیے تیرہ ہزار امریکی فوجی تعینات کیے گئے ہیں اور پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امدادی کاموں کے لیے مزید مدد بھی فراہم کرے گا۔ ادھر شمالی سری لنکا میں سونامی سے آنے والی تباہی کے بعد پہلی بار ماہی گیروں نے دریا کا رخ کیا ہے اور مچھلی پکڑ کر صدر چندریکا کمارا تنگا کو بھیجی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر لوگوں کے سامنے یہ مچھلی کھائیں تاکہ دوسروں کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ بھی مچھلی کھائیں۔ ماہی گیروں کے اس اقدام کی وجہ مقامی لوگوں میں پایا جانے والا یہ خوف ہے کہ سمندر میں لاشوں کی موجودگی سے مچھلی میں بھی جراثیم آ گئے ہیں اور اسی وجہ سے لوگ مچھلی نہیں خرید رہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس نے صومالیہ میں سونامی سے متاثرہ علاقوں میں ایک سو پچاس ٹن سے زیادہ کی خوراک تقسیم کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے خوارک کے عالمی پروگرام نے کہا ہے کہ نوے ہزار افراد کو مدد فراہم کر دی گئی ہے جبکہ ایک لاکھ اسی ہزار مزید افراد کو آئندہ چند دنوں میں امداد دی جائے گی۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے بہبود اطفال (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے بچوں پر سونامی کی تباہی کے اثرات کو کم نہ سمجھا جائے۔ جنیوا میں یونیسیف کی ترجمان خاتون نے کہا کہ اس تباہی سے ہلاک ہونے والوں میں ایک تہائی یعنی پچاس ہزار کے قریب بچے تھے۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیرل بیلامی کے مطابق جو بچے سونامی سمندری طوفان میں بچ گئے ہیں ان میں سے بہت سے زخمی ہیں اور والدین سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر شدید صدمے کی حالت میں ہیں جن کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔ یونیسیف کی اعلیٰ عہدیدار کے مطابق سونامی کے متاثرین کی بحالی کے لیے کام کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ طوفان سے محفوظ رہنے والے بچوں کے لیے صاف پانی، خوراک اور طبی سہولتوں کی فراہم کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی دوسری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ وہ والدین کے بچھڑ جانے والے یا محروم ہوجانے والے بچوں کی نگہداشت کریں اور انہیں کسی بھی طرح کے استحصال سے محفوظ رکھیں۔
انڈونیشیا میں حکومت نے بھی بچوں کو صوبہ آچے سے باہر لے جانے پر پابندی لگا دی ہے کیونکہ یونیسف نے خبردار کیا تھا کہ بچوں کی خرید و فروخت کرنے والے حالات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دریں اثناء افغانستان کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ سری لنکا اور بھارت میں سونامی سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم اور طبی سامان بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وزراتِ دفاع کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اگرچہ افغان خود مشکلات کا شکار ہے لیکن وہ خود اقوام کے خاندان کا ایک حصہ ہے اور افغان عوام اس المیے پر بہت دکھی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||