کیا سونامی خدا کی مصلحت تھا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحیرہِ ہند میں سونامی طوفان کے نتیجے میں ہونے والی خوفناک تباہی نے بہت سے مذاہب کے ماننے والوں کے دل دہلا دیئے ہیں۔ آخر اتنے وسیع پیمانے پر قدرتی آفت کے ذریعے تباہی پھیلانے میں خدا کی کیا مصلحت ہوسکتی ہے؟ اس حوالے سے ایک مسلمان، ایک ہندو، ایک عیسائی، ایک بدھسٹ اور ایک دھریہ اپنے تاثرات کے ذریعے اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔ آپ اس ضمن میں کیا کہتے ہیں؟
’اسلام کی تعلیمات یہ کہتی ہیں کہ یہ سب خدا کی مرضی سے ہوا ہے۔ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں نے اس پر جس ردِّ عمل کا اظہار کیا ہے۔ لوگ یہ جاننا چاہیں گے کہ آخر انسانی جانوں کی اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکت کیوں لیکن اس کا یہ پہلو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور اس پر ہمارا پختہ ایمان ہے کہ اس طرح کی آفت یا قدرتی مصیبت صرف خدائے برتر کے اختیار میں ہے۔ اللہ ہی اسے بہتر جانتا ہے۔ یقیناً ہمیں سوال کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ وہ وقت ہے کہ ہم اپنے آپ پر غور کریں، سوچیں، اپنے افعال اور کردار کو بغور دیکھیں۔ یہ اشارہ ہے کہ ہم سے کوئی بھی ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا چنانچہ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ ہم اپنی زندگی مثبت طور پر گزاریں۔ موت آنی ہی آنی ہے۔ ہمارا پیدا ہونا اس عمل کی ضمانت ہے کہ ہمیں مرنا بھی ہے لیکن کب، کہاں اور کیسے، یہ ہم نہیں جان سکتے۔ مذاہب کے ماننے والوں کو اس پر مکمل یقین رکھنا چاہیے کہ آخر میں یہ خدا کی مرضی ہے اور انسانیت کی فلاح کے لیے ہے۔‘
’سونامی نے ہندوؤں کی انفرادی اور اجتماعی تقدیر کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں۔ موخرالذکر کے حوالے سے ہم پیدا ہی تباہی کے دور میں ہوئے ہیں، جسے کل یُگ کے نام سے جانا جاتا ہے اور جو کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ تریسٹھ ہزار سال کا دور ہو گا۔ اس میں سے تقریباً پانچ ہزار سال گزر چکے ہیں اور اس دور کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ ہے ہی مشکلات، تکالیف اور دکھوں کا دور۔ شاید اسی لیے ہی ہمیں ایڈز اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری قدرتی آفات کا بھی سامنا ہے کہ قدرت نے ہمیں اپنے غضب کے رخ دکھانے ہیں۔ انسانیت کو نیا جیون حاصل کرنے کے لیے اس سے گزرنا ہی ہے۔ جہاں تک میری انفرادی قسمت کا سوال ہے تو ہندو مت میں اس کے بارے میں کوئی ایسا مرکزی متن موجود نہیں ہے جیسا کہ دوسرے مذاہب میں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لیے ہمیں خود اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق راستے کا تعین کرنا ہے اور اس پر یقین رکھنا ہے بالآخر ہم ایک دن جنم اور موت کے اس ناتمام چکر سے نکل کر واپس اپنے خالق کے پاس پہنچ جائیں گے۔ میرا ایمان ہے کہ میں تمام انسانوں سے جڑا ہوا ہوں سو اس لیے جہاں سونامی میں مارے جانے والوں کے لیے میرا دل روتا ہے، وہیں میں ان کے لیے افسوس نہیں کرتا کہ وہ میرے اور خدا کے ہمہ جہت وجود کا حصہ ہیں۔ ان کی ہلاکتیں ان کے ’کرموں‘ کا اظہار ہیں یعنی اپنی پچھلی اور آنے والی زندگیوں میں ہونے والے واقعات و حادثات اور اس میں حاصل کیے گئے نفع و نقصان کے مطابق۔‘
’آج کے اس عہد میں جہاں ہم مستقل ہر عمل کا الزام کسی کے سر دھرنے کی فکر میں رہتے ہیں، جب ہمیں کوئی نہیں ملتا تو سارا الزام خدا کے سر پر ڈال دیتے ہیں کیونکہ یہ ایک قدرتی آفت ہے۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ دنیا عدم مساوات سے بھری ہوئی ہے لیکن میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ خدا اوپر بیٹھا یہ ڈوریں ہلا رہا ہے۔ سونامی کی صورت میں خدا نے ہم عیسائیوں کو چیلنج کیا ہے کہ ہمارا ردِّعمل کیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یسوح مسیح ہم میں موجود ہیں اور وہ بھی ان ہی حقائق سے گزر رہے ہیں کیونکہ یہ ان کی تعلیمات میں ہے تم اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ جو سلوک کرو گے، وہ میرے ساتھ کرو گے۔ اس لیے سونامی کا شکار ہونے والوں کے لیے جو کچھ کرنے میں ناکام ہوں گے، ہم وہ یسوح مسیح کے لیے کرنے میں ناکام ہوں گے۔ کم از کم اب تک ہمارے ردِّعمل میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی اور کلیسا امدادی کوششوں میں سب سے آگے ہی ہیں۔‘
’جلد یا بدیر ہم سب کو مرنا ہے۔ کچھ کی عمر لمبی ہوتی ہے اور کچھ کی کم جو انسان کا ’کرم‘ ہے یعنی اس کی تمام زندگیوں کے اعمال کی سزا اور جزا۔ ہوسکتا ہے کہ سونامی کے آنے کی یہ وجہ ہو کہ بہت سے ایسے لوگ ایک جگہ جمع ہوگئے تھے جن کی زندگیوں کو مختصر رہنا تھا اور شاید ان علاقوں میں لوگ بہت زیادہ جمع ہوگئے تھے۔ زیرِ آب چٹانوں کے جگہیں بدلنے کا عمل تو ناگزیر ہے لیکن متاثرہ علاقوں میں اگر آبادی کم ہوتی تو انسانی جانوں کا نقصان بھی کم ہوتا۔ جب ہم ٹی وی پر خبریں دیکھ رہے ہوں، اخبار پڑھ رہے ہوں یا سونامی کے بارے میں سوچ رہے ہوں تو ہمیں اس بدھ کے بارے میں سوچنا چاہئے جسے ہم سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں، یعنی سرخ بدھ، لامتناہی روشنی کا بدھ۔ یہ ہم اس لیے کرتے ہیں تاکہ جب اس آفت کے نتیجے میں مرنے والے موت کی دہشت سے جاگیں، جس میں ہمارے عقیدے کے مطابق تین دن لگتے ہیں، تو وہ اس بدھ کے پاس لوٹیں جو ہمارے خیال میں رہا۔ بدھ مت کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ روح ناقابلِ فنا ہے اس لیے کچھ عرصے کے بعد اگر کوئی چاہتا ہے اور اس قابل ہے تو وہ معاشرے میں دوبارہ ایسے فرد کے طور پر پیدا ہونے کا انتخاب کرسکتا ہے جو دوسروں کی مدد کرے۔‘
’مذہب سونامی کی توجیح پیش کرنے سے قاصر ہے اور اگرچہ مرنے والوں کے لیے دعا دعا مانگنے والوں کو سکون دے سکتی ہے لیکن اس سے متاثر ہونے والوں کو کوئی عمل مدد نہیں مل سکتی۔ باجود اس کے کہ ہم ابھی سونامی اور زلزلوں اور آفات کے بارے میں قطعی طور پر مکمل پیشین گوئی نہیں کر سکتے تاہم سائنس پھر بھی اس کی توجیہات پر روشنی ڈال سکتی ہے۔ خواہ ہمارا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو یا ہم بالکل لا مذہب ہوں، ایک ہمدرد انسان ہونے کے ناطے ہمارا سونامی اور دوسری قدرتی آفات کے بارے میں یہ ردِّعمل ہونا چاہیے کہ ہم متاثرین کی جتنی بھی مدد کرسکتے ہیں، کریں۔ خدا پر ایمان بذاتِ خود لوگوں کے لیے آفات سے تحفظ، بچ جانے والوں کی بقاء یا ان کی زندگیوں کی تعمیرِ نو کی ضمانت نہیں ہے۔ ہمیں اپنے ساتھی انسانوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنی تمام تر کوششیں عملی طور پر اس پر مرکوز کرنی ہوں گی کہ جن افات پر ہم قابو پاسکتے ہیں، وہ پیش نہ آئیں، جن پر نہیں پاسکتے، ان کے لیے تیار رہیں، پہلے سے خبردار کردینے والے آلات اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کریں اور ان سے تاثر ہونے والے لوگوں کی مدد کریں۔ ہم دنیا کے مسائل کے حل کی ذمہ داری خدا کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے۔ ہم اس دنیا کے انسان ہی انسانیت کی واحد امید ہیں۔‘
یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ محمد کامران، برطانیہ: یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اللہ موجود ہے۔حیرت انگیز طور پر ایک مسجد کا بلکل محفوظ رہنا جبکہ اس کے گرد سب کچھ تباہ ہوگیا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام ایک سچا مذہب ہے۔ ہم سب دنیا میں مخصوص مدت کے لیے آئے ہیں اور ایک دن ہم نے مرنا ہے۔ ہمیں اپنی آئندہ آنے والی زندگی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ عادل ، بھارت: اصغر خان، چین: نذیر احمد شیخ، پاکستان: فضاء خان، برطانیہ: یاسر میرپور: طاہر، پاکستان: تنویر کاظمی، پاکستان : حسیب خان، ملتان: نذر کریم بھٹی، پاکستان: فیصل حفیظ، سعودی عرب: عبدالغفور، کینیڈا: آفتاب عالم، بھارت: منصور علی، ڈنمارک: غلام فرید شیخ، پاکستان: عبداللہ، دبئی: |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||