BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 January, 2005, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا سونامی خدا کی مصلحت تھا؟
بحیرہِ ہند میں سونامی طوفان کے نتیجے میں ہونے والی خوفناک تباہی نے بہت سے مذاہب کے ماننے والوں کے دل دہلا دیئے ہیں۔ آخر اتنے وسیع پیمانے پر قدرتی آفت کے ذریعے تباہی پھیلانے میں خدا کی کیا مصلحت ہوسکتی ہے؟

اس حوالے سے ایک مسلمان، ایک ہندو، ایک عیسائی، ایک بدھسٹ اور ایک دھریہ اپنے تاثرات کے ذریعے اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔ آپ اس ضمن میں کیا کہتے ہیں؟


اقبال سکرانی - مسلمان:

News image

’اسلام کی تعلیمات یہ کہتی ہیں کہ یہ سب خدا کی مرضی سے ہوا ہے۔ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں نے اس پر جس ردِّ عمل کا اظہار کیا ہے۔ لوگ یہ جاننا چاہیں گے کہ آخر انسانی جانوں کی اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکت کیوں لیکن اس کا یہ پہلو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور اس پر ہمارا پختہ ایمان ہے کہ اس طرح کی آفت یا قدرتی مصیبت صرف خدائے برتر کے اختیار میں ہے۔ اللہ ہی اسے بہتر جانتا ہے۔

یقیناً ہمیں سوال کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہ وہ وقت ہے کہ ہم اپنے آپ پر غور کریں، سوچیں، اپنے افعال اور کردار کو بغور دیکھیں۔ یہ اشارہ ہے کہ ہم سے کوئی بھی ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا چنانچہ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ ہم اپنی زندگی مثبت طور پر گزاریں۔ موت آنی ہی آنی ہے۔ ہمارا پیدا ہونا اس عمل کی ضمانت ہے کہ ہمیں مرنا بھی ہے لیکن کب، کہاں اور کیسے، یہ ہم نہیں جان سکتے۔ مذاہب کے ماننے والوں کو اس پر مکمل یقین رکھنا چاہیے کہ آخر میں یہ خدا کی مرضی ہے اور انسانیت کی فلاح کے لیے ہے۔‘


رانی مورتی - ہندو:

News image

’سونامی نے ہندوؤں کی انفرادی اور اجتماعی تقدیر کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں۔ موخرالذکر کے حوالے سے ہم پیدا ہی تباہی کے دور میں ہوئے ہیں، جسے کل یُگ کے نام سے جانا جاتا ہے اور جو کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ تریسٹھ ہزار سال کا دور ہو گا۔ اس میں سے تقریباً پانچ ہزار سال گزر چکے ہیں اور اس دور کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ ہے ہی مشکلات، تکالیف اور دکھوں کا دور۔ شاید اسی لیے ہی ہمیں ایڈز اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری قدرتی آفات کا بھی سامنا ہے کہ قدرت نے ہمیں اپنے غضب کے رخ دکھانے ہیں۔ انسانیت کو نیا جیون حاصل کرنے کے لیے اس سے گزرنا ہی ہے۔

جہاں تک میری انفرادی قسمت کا سوال ہے تو ہندو مت میں اس کے بارے میں کوئی ایسا مرکزی متن موجود نہیں ہے جیسا کہ دوسرے مذاہب میں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لیے ہمیں خود اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق راستے کا تعین کرنا ہے اور اس پر یقین رکھنا ہے بالآخر ہم ایک دن جنم اور موت کے اس ناتمام چکر سے نکل کر واپس اپنے خالق کے پاس پہنچ جائیں گے۔ میرا ایمان ہے کہ میں تمام انسانوں سے جڑا ہوا ہوں سو اس لیے جہاں سونامی میں مارے جانے والوں کے لیے میرا دل روتا ہے، وہیں میں ان کے لیے افسوس نہیں کرتا کہ وہ میرے اور خدا کے ہمہ جہت وجود کا حصہ ہیں۔ ان کی ہلاکتیں ان کے ’کرموں‘ کا اظہار ہیں یعنی اپنی پچھلی اور آنے والی زندگیوں میں ہونے والے واقعات و حادثات اور اس میں حاصل کیے گئے نفع و نقصان کے مطابق۔‘


پال چتنیز - عیسائی:

News image

’آج کے اس عہد میں جہاں ہم مستقل ہر عمل کا الزام کسی کے سر دھرنے کی فکر میں رہتے ہیں، جب ہمیں کوئی نہیں ملتا تو سارا الزام خدا کے سر پر ڈال دیتے ہیں کیونکہ یہ ایک قدرتی آفت ہے۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ دنیا عدم مساوات سے بھری ہوئی ہے لیکن میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ خدا اوپر بیٹھا یہ ڈوریں ہلا رہا ہے۔ سونامی کی صورت میں خدا نے ہم عیسائیوں کو چیلنج کیا ہے کہ ہمارا ردِّعمل کیا ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ یسوح مسیح ہم میں موجود ہیں اور وہ بھی ان ہی حقائق سے گزر رہے ہیں کیونکہ یہ ان کی تعلیمات میں ہے تم اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ جو سلوک کرو گے، وہ میرے ساتھ کرو گے۔ اس لیے سونامی کا شکار ہونے والوں کے لیے جو کچھ کرنے میں ناکام ہوں گے، ہم وہ یسوح مسیح کے لیے کرنے میں ناکام ہوں گے۔ کم از کم اب تک ہمارے ردِّعمل میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی اور کلیسا امدادی کوششوں میں سب سے آگے ہی ہیں۔‘


لاما اول نیداہل - بدھسٹ:

News image

’جلد یا بدیر ہم سب کو مرنا ہے۔ کچھ کی عمر لمبی ہوتی ہے اور کچھ کی کم جو انسان کا ’کرم‘ ہے یعنی اس کی تمام زندگیوں کے اعمال کی سزا اور جزا۔ ہوسکتا ہے کہ سونامی کے آنے کی یہ وجہ ہو کہ بہت سے ایسے لوگ ایک جگہ جمع ہوگئے تھے جن کی زندگیوں کو مختصر رہنا تھا اور شاید ان علاقوں میں لوگ بہت زیادہ جمع ہوگئے تھے۔

زیرِ آب چٹانوں کے جگہیں بدلنے کا عمل تو ناگزیر ہے لیکن متاثرہ علاقوں میں اگر آبادی کم ہوتی تو انسانی جانوں کا نقصان بھی کم ہوتا۔ جب ہم ٹی وی پر خبریں دیکھ رہے ہوں، اخبار پڑھ رہے ہوں یا سونامی کے بارے میں سوچ رہے ہوں تو ہمیں اس بدھ کے بارے میں سوچنا چاہئے جسے ہم سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں، یعنی سرخ بدھ، لامتناہی روشنی کا بدھ۔ یہ ہم اس لیے کرتے ہیں تاکہ جب اس آفت کے نتیجے میں مرنے والے موت کی دہشت سے جاگیں، جس میں ہمارے عقیدے کے مطابق تین دن لگتے ہیں، تو وہ اس بدھ کے پاس لوٹیں جو ہمارے خیال میں رہا۔ بدھ مت کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ روح ناقابلِ فنا ہے اس لیے کچھ عرصے کے بعد اگر کوئی چاہتا ہے اور اس قابل ہے تو وہ معاشرے میں دوبارہ ایسے فرد کے طور پر پیدا ہونے کا انتخاب کرسکتا ہے جو دوسروں کی مدد کرے۔‘


ہین سٹنٹن - دھریہ:

News image

’مذہب سونامی کی توجیح پیش کرنے سے قاصر ہے اور اگرچہ مرنے والوں کے لیے دعا دعا مانگنے والوں کو سکون دے سکتی ہے لیکن اس سے متاثر ہونے والوں کو کوئی عمل مدد نہیں مل سکتی۔ باجود اس کے کہ ہم ابھی سونامی اور زلزلوں اور آفات کے بارے میں قطعی طور پر مکمل پیشین گوئی نہیں کر سکتے تاہم سائنس پھر بھی اس کی توجیہات پر روشنی ڈال سکتی ہے۔ خواہ ہمارا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو یا ہم بالکل لا مذہب ہوں، ایک ہمدرد انسان ہونے کے ناطے ہمارا سونامی اور دوسری قدرتی آفات کے بارے میں یہ ردِّعمل ہونا چاہیے کہ ہم متاثرین کی جتنی بھی مدد کرسکتے ہیں، کریں۔

خدا پر ایمان بذاتِ خود لوگوں کے لیے آفات سے تحفظ، بچ جانے والوں کی بقاء یا ان کی زندگیوں کی تعمیرِ نو کی ضمانت نہیں ہے۔ ہمیں اپنے ساتھی انسانوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنی تمام تر کوششیں عملی طور پر اس پر مرکوز کرنی ہوں گی کہ جن افات پر ہم قابو پاسکتے ہیں، وہ پیش نہ آئیں، جن پر نہیں پاسکتے، ان کے لیے تیار رہیں، پہلے سے خبردار کردینے والے آلات اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کریں اور ان سے تاثر ہونے والے لوگوں کی مدد کریں۔ ہم دنیا کے مسائل کے حل کی ذمہ داری خدا کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے۔ ہم اس دنیا کے انسان ہی انسانیت کی واحد امید ہیں۔‘


آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


محمد کامران، برطانیہ:
یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اللہ موجود ہے۔حیرت انگیز طور پر ایک مسجد کا بلکل محفوظ رہنا جبکہ اس کے گرد سب کچھ تباہ ہوگیا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام ایک سچا مذہب ہے۔ ہم سب دنیا میں مخصوص مدت کے لیے آئے ہیں اور ایک دن ہم نے مرنا ہے۔ ہمیں اپنی آئندہ آنے والی زندگی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

عادل ، بھارت:
میرے خیال سے مسلمان اس کی وجہ کو سمجھتے ہیں۔ اگر غیر مسلم نہیں سمجھتے تو یہ اللہ کی کتاب قرآن کو پڑھنے کا صحیح وقت ہے۔ آپ کو ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذکر قرآن میں ہے اور آپ کو صرف اسے پڑھنا ہے اور اچھی طرح سمجھنا ہے۔

اصغر خان، چین:
یہ فورم اس قسم کے مذہبی عقائد پر بحث کرنے کے لیے مناسب نہیں ہے۔ یہ سوال کسی ایسے شخص سے پوچھا جانا چاہیے جسے اپنے دین اور سونامی دونوں کے بارے میں اچھی طرح سےعلم ہو۔ یہاں پر دیئے گئے چند لوگوں کے نظریات اس مذہب کے تمام لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔

نذیر احمد شیخ، پاکستان:
یہ اللہ کی طرف سے دنیا والوں کے لیے خاص طور پر ان مسلمانوں کے لیے جن کے دل و دماغ پر امریکہ کی دہشت بیٹھ گئی ہے، عبرت کا نمونہ ہے کہ ایک طاقت ایسی بھی ہے جس کے آگے ہر طاقت کم پڑ جاتی ہے۔ اللہ جس کو چاہے اور جب چاہے نیست ونابود کر سکتا ہے۔ پھر ساری سائنس دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔اللہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب رسی کھینچتا ہے تو پھر۔۔۔۔

فضاء خان، برطانیہ:
جی، اسلام ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ اس طرح کی قدرتی آفات اور نقصانات پر
اِنااللہ پڑھیں اور صبر کریں۔ یہ حقیقت پسندی ہے کیوں کہ انسان لاکھ کوشش کے باوجود ان آفات سے بچ نہیں سکتا تو پھر ان آفات کے بعد غم کھا کھا کر خود کو جلانے کا کیا فائدہ؟

یاسر میرپور:
سونامی ہمارے لیے پیغام ہے۔ ہم اپنے روزمرہ کے کاموں میں اتنے مصروف ہیں کہ خدا کو بھلا چکے ہیں۔ ہم بھول چکے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اس دنیا میں کیوں بھیجا ہے۔ ہمارا پیدائش اور موت پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ اختیار صرف اللہ کو ہے۔ دنیا میں انصاف ختم ہو چکا ہے۔ ہمیں اللہ سے معافی مانگنی چاہیے اور اس کی رحمت کی دُعا مانگنی چاہیے۔

طاہر، پاکستان:
اسلام یہ کہتا ہے کہ مسلمانو، سنبھل جاؤ اور اپنا ایمان اور عقائد صحیح کرو۔ یہ قیامت کے آثار ہیں۔ ان جنگوں اور تباہیوں کی پشین گوئی چودہ سو سال پہلے ہمارے پیغمبر نے کر دی تھی۔

تنویر کاظمی، پاکستان :
جی ہاں یہ اللہ کی مصلحت تھی اور ان کے لیے اشارہ بھی جو اپنے آپ کو اس دنیا میں طاقتور سمجھتے ہیں ۔ اللہ نے اپنی کتاب قرآن میں بار بار تنبیہ کی ہے کہ انسان برے کام چھوڑ کر اس ایک اللہ کی بنددگی کریں۔ سونامی ہمارے لیے ایک نشانی ہے۔ دنیا میں موجود برائیوں کے خلاف لڑنے اور اللہ کے احکامات پر عمل کرنے میں ہی ہماری نجات ہے۔ ہم اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں لیکن ایک ہی جھٹکے میں ہمارے سارے انتظامات دہرے کے دہرے رہ گئے۔ اللہ ہمیں اچھے کام کرنے کی توفیق دے۔

حسیب خان، ملتان:
دیکھیے صاحب، ان سب حضرات کے نقطہِ نظر پڑھ کے یہی لگتا ہے کہ خدا تو ایک ہی ہے اور زندگی کا چکر بھی ایک ہی کہ باالاًخر سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے، اسے آپ اللہ کہیں یا کچھ بھی۔ اصل بات یہ ہے کہ جب انسان خدا کی برابری کرنے پر اتر آتے ہیں تو ایسے واقعات اسے اس کی بے بسی کی نشان دہی کرواتے ہیں۔ اگر خدا پر ایمان ہو تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ غریب ہی کیوں شکار ہوتے ہیں لیکن منطق سے سمجھیں تو یہ لگتا ہے کہ جو طاقت ور ہوتے وہ اپنی حفاظت کا سامان بھی بہت بڑے پیمانے پر کرکے چلتے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ اگر بش یا بلیئر صاحب وہاں چھٹیوں پر ہوتے تو کیا ان علاقوں کی یہ حالت بنتی؟ کیا دنیا بہت تیزی سے حرکت میں نہ آجاتی؟ جب تک دنیا کے آئیڈیلز نہیں بدلتے یہ سب تو ہوگا ہی۔ کبھی قوم، کبھی نظریہ اور کبھی مذہب کے نام پر لڑنے کی وجہ سے ہی تو ہمارے آئیڈیلز نہیں بدل رہے۔ یہ آئیڈیلز کہ غربت اور عدم مساوات کو ختم کیا جائے۔ یہ کہ تمام انسان اللہ کی تخلیق ہیں اور سب کی جانیں اسی روحِ لافانی کا حصہ ہیں۔ یہ کہ جہاں غربت ہوگی وہاں ان آفات سے نقصان بھی بڑھ جائے گا۔ سوچئے کہ جس علاقے میں علیحدگی پسندی کی بہت پرانی تحریک چل رہی تھی وہاں نہ اس کے حق میں لڑنے والے بچے اور نہ ہی اس کے خلاف۔ جب ہم دنیا کے تمام وسائل چند لوگوں کے مفادات کے لیے کبھی یورپ کی جنگ، کبھی امریکہ اور روس کی جنگ اور کبھی اسامہ اور بش کی جنگ پر لگاتے رہیں گے تو قدرت ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرے گی ہی۔ دیکھیے کہ اس پر سب ایک ہی بات کر رہے ہیں لیکن کب تک۔ جلد ہی یہ اپنی پرانی جنگوں کی طرف لوٹ جائیں گے۔ بس کسی بھی خدا کو ماننے سے صبر آنے میں آسانی رہتی ہے۔

نذر کریم بھٹی، پاکستان:
یہ بات تو سو فیصد درست ہے کہ یہ تمام تکالیف اللہ رب العزت کی طرف سے ہی آتی ہیں اور قرآن مجید میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ جب تمام لوگ غیر فطرت اور عریانی میں اندھوں کی طرح پھنس جائیں اور اللہ کا حکم نہ مانیں تو پھر اللہ اس زمین کو حکم دیتا ہے کہ پھٹ جا، پھر زلزلے اور آفات آتی ہیں اور ناسمجھ انسان کچلے جاتے ہیں۔

فیصل حفیظ، سعودی عرب:
اس بات کا دکھ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس سانحہ میں اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہی ہوتا ہے۔ ہمیں ان لوگوں کے لیے دعُا کرنی چاہئے جنھوں نے اس سانحہ میں اپنی جانیں گوا دیں۔

عبدالغفور، کینیڈا:
آسمانی یا زمینی آفت کو مذہب کی نظر سے دیکھنا قدیم ترین انسانی روایات میں سے ایک ہے۔ یہ انسانی غفلت کی بہترین مثال ہے۔ آج کل ہر ملک اسلحہ اور تباہی کے ہتھیاروں کی خریداری پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کو تیار ہے مگر کچھ رقم خرچ کر کے ایسا کوئی نظام اپنانے کا خیال کسی کو نہیں آیا جو اس قسم کی آفت کے بارے میں بر وقت خبردار کر سکتا۔اگر تو یہ اللہ تعالٰی کا عذاب ہے تو یہاں پر یہ سوال جنم لیتا ہے کہ اللہ تعالٰی کا یہ عذاب ان غریب لوگوں پر ہی کیوں جو کہ دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، ان ظالم حکمرانوں پر کیوں نہیں جو ظلمت کے سفید محلوں میں بیٹھے انسانیت پر ظلم کرنے اور آزاد ملکوں کی آزادی سلب کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ ہر چیز کا ذمہ دار اللہ کو ٹہرانا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے اور ہم اپنا دماغ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، چاہے وہ ہماری اپنی حفاظت کے لیے ہو یا پھر دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے۔

آفتاب عالم، بھارت:
یہ سونامی بلاشبہ تمام انسانوں کے لیے اللہ کا پیغام ہے کہ وہی سب سے زیادہ طاقتور ہے اور اس کے علاوہ کوئی سُپر پاور نہیں ۔ سونامی قیامت کے نشاندہی کرتا ہے۔

منصور علی، ڈنمارک:
اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے بلکہ ہم خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ ان ساحلوں پر ہر قسم کے گناہ ہوتے تھے تو عذاب تو آنا ہی تھا۔ اور جب آگ لگتی ہے تو بے گناہ بھی جلتے ہیں۔ سب اللہ کے اختیار میں ہے ۔ ہمیں اپنے گناہوں کے معافی مانگنی چاہیے۔ یہ باقی دنیا میں رہنے والوں کے لیے سبق ہے اور یہ کہ ہم سب کو ایک دن مرنا ہے۔ کب، کہاں اور کیسے یہ سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔

غلام فرید شیخ، پاکستان:
میں تو کیا کسی کو بھی کچھ کہنے کا حق نہیں ہے کیوں کے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہی کہ یہ اتنا بڑا زلزلہ اور وہ بھی سمندر میں کیوں آیا اور کیا وجہ تھی؟ باقی یہ کہ ان سب کی زندگی پوری ہو گئی تھی اور جو بچ گئے ان کی زندگی شاید ابھی باقی تھی۔

عبداللہ، دبئی:
سونامی یا اللہ کی پکڑ؟ ہم سب ایک بات جانتے ہیں کہ انسان جو پیدا ہوا ہے اسے ایک دن مرنا ہے اور اس ایک دن میں ایک ہی جگہ پر ایک ہزار یا ایک لاکھ کی تعداد میں مریں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔


بحرہند کاطوفان، ایک لاکھ سے زیادہ ہلاک
بحر ہند میں زلزلے اور انسانی تباہیآپ کی رائے
بحر ہند میں زلزلے اور انسانی تباہی
عقائد میں تفریق
کیا مذہب اور روحانیت جدا ہیں؟ آپکی رائے
اہلِ کتاب کے درمیان امن کیسے ہو؟ مذاہب میں مکالمہ
اہلِ کتاب کے درمیان امن کیسے ہو؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد