 |  ’شراب، تھوڑی سی جائز؟‘ |
برطانیہ کی مسلم لاء کونسل نے مسلمانوں کو ایسی سافٹ ڈرنکس پینے کی اجازت دے دی ہے جن میں شراب اور سور کے گوشت کی جزوی سی مقدار پائی جاتی ہے۔ اس سے قبل ’لوکوزیڈ‘ اور ’رائبینا‘ نامی سافٹ ڈرنکس حرام قرار دی گئی تھیں۔ لوکوزیڈ میں 0.01 فیصد شراب پائی جاتی ہے جبکہ رائبینا بنانے میں پہلے ’جیلیٹن‘ کا استعمال کیا جاتا تھا جو لحم خنزیر سے بنتا ہے مگر اب رائبینا نے اس کا استعمال بند کر دیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ یہ مقدار بہت ہی کم ہے اور اس کی وجہ سے لوکوزیڈ کو حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کونسل اس نتیجہ پر گزشتہ سالوں میں اس بارے میں ہونے والے فیصلوں کا مطالعہ کرنے کے بعد پہنچی ہے۔ تاہم مسلمان ممالک میں بھی الکحل اور ایسے کئی عناصر کا استعمال دوائیوں اور طبی معاملات میں کیا جاتا ہے اور اکثر مغربی ممالک میں شراب بیچنا بھی مسلمان دوکانداروں کی مجبوری ہوتی ہے۔ آپ کا اس کے بارے میں کیا مؤقف ہے؟ آج کے جدید عہد میں حلال اور حرام کے بارے میں آپ کا کیا نقطۂِ نظر ہے؟ کیا پاکستان میں اور دوسرے اسلامی ممالک جہاں شراب پر پابندی ہے، شراب نہیں پی جاتی؟ اگر شراب پینا گناہ ہے تو کیا اسے بیچنا جائز ہے؟ اس پابندی کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں؟ آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں۔
سمینہ، نامعلوم: یہ فیصلہ کرنے والوں کے حق میں صرف دعا کی جا سکتی ہے۔ شراب کا چھینٹہ بھی اگر کپڑے پر گر جائے تو وہ ناپاک ہو جاتا ہے، اسے پینا تو بہت دور کی بات ہے۔ بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی صاحب۔ لگتا ہے کہ فیصلہ کرنے والے خود نشے میں تھے۔ محمد نواز، پاکستان: بالکل جائز ہے اور پینی چاہئیے۔ عرفان، پاکستان: میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ’تھوڑی سی مقدار‘ کیا ہے اس کا فیصلہ کون کرےگا۔ غلام رسول، پاکستان: میں اس بات سے بالکل متفق نہیں ہوں۔ امتیاز احمد خان،پاکستان: شراب خود اسلام میں حرام ہے۔ اس کا تعلق صرف نشے سے نہیں ہے۔ اگر حرام چیز کو حلال میں ملا دیا جائے تو بھی حرام ہو جاتی ہے۔ نوید احمد، پاکستان: اللہ نے انسان کو بنایا ہے اور زندگی گزارنے کے لیے اپنا قانون ’اسلام‘ کی شکل میں فراہم کیا ہے۔ہمیں چاہئیے کہ اپنی زندگی اسلام کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔ لیکن ہم ایسے مسائل پر بحث کرتے ہیں جن کے بارے میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ شراب حرام ہے اور اس پر بحث فضول ہے۔ محمد حسن، آسٹریلیا: شراب حرام ہے۔ مقدار سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مسلم لاء کونسل کے فیصلہ کی وجہ میری سمجھ میں تو نہیں آرہی ہے۔ قیامت کے دن ہم اللہ سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں لاء کونسل نے اجازت دی تھی۔ وقار الطاف، پاکستان: اسلام میں شراب کو صاف طور پر حرام قرار دیا گیا ہےاور اسے تمام برائیوں کی جڑ بتایا گیا ہے۔ اس لیے شراب حرام اور جائز سی بات ہے کہ ایک مسلمان پر اس کا بیچنا بھی حرام ہے۔ کونسل کے کہنے پر پینا صحیح نہیں ہے کیونکہ قیامت کے دن خود جواب دینا پڑےگا۔ اواطف، جاپان: اصل بات نشے کی ہے مگر ہمارے مسلمان تو لکیر کے فقیر ہی رہیں گے۔ کلیم، کینیڈا: حلال اور حرام کا فیصلہ صرف اللہ کر سکتے ہیں اور انہوں نے شراب کو حرام قرار دیا ہے۔ اس لیے اس بارے میں بحث کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ محمد فدا، کینیڈا: یہ بہت اچھی خبر ہے۔ آخرکار ہماری قوم ماضی سے باہر نکل رہی ہے۔ ت بخاری، پاکستان: قران میں نشے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ نماز نشے میں نہیں پڑھنی چاہئیے۔ تو شراب حرام کیسے ہوئی؟ شراب انسانوں کے لیے بنی ہے ملاؤں اور جانوروں کے لیے نہیں۔ محمد فحداللہ، پاکستان: ابھی زندہ ہوں تو جی لینے دو۔۔ بھری برسات میں جی لینے دو۔ نصراللہ، پاکستان: میرا تعلق متوست طبقے کے ایک خاندان سے ہے۔ میں اور میرے دوست اکثر مل کر شراب پیتے ہیں۔ ہم سب پڑھے لکھے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان میں شراب بہت آسانی سے خریدی جا سکتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے پاکستانی شراب پیتے ہیں۔ میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس منافقت کو چھوڑ دینا چاہئیے اور باقائدہ ’بارز‘ کھولنے کے لیے تحریک چلانی چاہئیے۔ نوشیروان، جرمنی: اکیسویں صدی میں بھی بےوقوف مسلمان شراب کے مسائل پر بحث کر رہے ہیں! ادنان قریشی، سپین: دراصل ہم اسلام کو سمجھے ہی نہیں ہیں۔ ہم بس وہی جانتے ہیں جو ملا ہمیں بتاتے ہیں۔ اگر شراب ہر حال میں حرام ہے تو پھر اسے پاکستان میں بیچا کیوں جاتا ہے؟ اگر شراب پینا حرام ہے تو پاھر اسے بیچنا جائز کیسے ہے؟ محمود اخطر، امریکہ: ایسے مولویوں نے ہی اسلام کو اس حال پر پہنچایا ہے۔ شاکر خان، پاکستان: اللہ نے قران میں کہا ہے کہ شراب کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ تاہم اس کے نقصانات زیادہ ہیں اور اس کے پینے سے عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ تو اس حساب سے شراب کی اتنی مقدار جس سے انسان مکمل ہوش میں رہے جائز ہونی چاہئیے۔ احمد علی، پاکستان: ہوئی مہنگی بہت ہے شراب کہ تھوڑی تھوڑی پیا کرو۔۔۔ رجیہا، پاکستان: تھوڑی شراب ہو یا زیادہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شراب شراب ہوتی ہے تھوڑی ہو یا زیادہ۔ یہ مسلمانوں کے لیے حرام ہے اور کسے حالت میں حلال نہیں ہو سکتی۔ سرمد خان، نامعلوم: اگر میں صحیح سمجھ رہا ہوں یو اس فیصلے کے مطابق کوئی بھی حرام کام اگر کم کیا جائے تو وہ حلال ہو سکتا ہے۔ میں اس فیصلے کو کیسے مان لوں؟ جناب کچھ توجہ جوانوں کے مسائل پر بھی دیں۔ ندیم احمد، پاکستان: شراب حرام ہے اور یہ اللہ کا حکم ہے جسے ماننا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ چاہے وہ 0.01 فیصد ہو یا 10 فیصد۔ اگر کھانے میں 0.01 فیصد غلازت ملا دی جائے تو کیا آپ کھائیں گے؟ رحمت اللہ شنواری، پاکستان: شراب پینے پر ہمارے رسول نے پابندی لگائی تھی کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ لوگ نشے میں اچھے برے کا فرق بھول جاتے ہیں۔ اس لیے شراب ہمارے لیے حرام ہے۔ عبداللہ، لاہور: ہر وہ چیز حرام ہے جس سے نشہ ہو تا ہے۔ تھوڑی مقدار ہو یا زیادہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اظفر خان، کینیڈا: اسلامی اصول تو یہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ مقدار پینے سے نشہ ہوجائے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ اسلام میں حلال اور حرام کا تعلق فرد کی اپنی تعبیر سے بھی ہے۔ اے مسلمان اپنے دل سے پوچھ، ملا سے نہ پوچھ۔ قیصر، پاکستان: میں اس کے حق میں نہیں ہوں کیونکہ آحر وہ ہوتی تو شراب ہی ہے۔ الیاس خان، پاکستان: شراب ہر حالت میں حرام ہے۔ یاسر ممتاز، پاکستان: زہر چاہے کم ہو یا زیادہ زہر ہی ہوتا ہے۔ جب اللہ نے قران میں شراب کو حرام قرار دیا ہے تو پھر مقدار سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عثمان حمید، فیصل آباد: شراب کو حلال قرار دے دینا اسلام کی توہین ہے۔ راجیحہ، فیصل آباد: الکحل تھوڑی یا زیادہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ مسلمان پر حرام ہے۔  | کاؤنسل کے آسرے پر  معاف کیجئے گا اگر پیشاب کا ایک قطرہ پانی میں گر جائے اور معلوم بھی ہو کہ وہ جگ میں صرف 0.01 ہے تو کیا لیوکو زیڈ کو حلال ماننے والے وہ پانی پی سکتے ہیں۔ حرام حرام ہے خواہ وہ سوفیصد ہو یا ایک فیصد۔ چار دن کی زندگی ہے بھائی پھر اللہ کو یہ جواب دوگے کہ ہم نے کاؤنسل والوں کے آسرے پر پی تھی؟  وجاہت خان، کراچی |
وجاہت خان، کراچی: معاف کیجئے گا اگر پیشاب کا ایک قطرہ پانی میں گر جائے اور معلوم بھی ہو کہ وہ جگ میں صرف 0.01 ہے تو کیا لیوکو زیڈ کو حلال ماننے والے وہ پانی پی سکتے ہیں۔ حرام حرام ہے خواہ وہ سوفیصد ہو یا ایک فیصد۔ کاؤنسل ولوں نے یہ حلال بھی اپنے فائدے کے لئے کی ہوگی یا لیوزیڈ والوں سے پیسے کھائے ہوں گے۔ چار دن کی زندگی ہے بھائی پھر اللہ کو یہ جواب دوگے کہ ہم نے کاؤنسل والوں کے آسرے پر پی تھی؟ تنویر احمد، جہلم: میں کونسل کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا۔ پرویز مخدومی، گجرانوالہ: باامرِ مجبوری دوائی تو کھائی جا سکتی ہے مگر عام پینے کے لئے شراب خواہ کتنی ہی کم کیوں نہ ہو، حرام ہی ہوگی۔ ویسے میں ایک خلیفہ کے بارے میں یہ روایت پڑھ رہا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ اگر نو پیالے شراب پیو اور نشہ نہ چڑھے تو وہ حلال ہے اور اگر چڑھ جائے تو حرام ہے۔ بہرحال میرے نزدیک یہ حرام ہی ہے۔ گل منیر، برطانیہ: اتنی حلال ہے جتنی ہضم ہوجائے۔ امان اللہ مری، بینکاک: اسلامی نقطۂِ نظر سے بہتر یہ ہوگا کہ کسی ایسے عالمِ دین سے اس پر رائے لی جائے جو قرآن اور سنت پر عبور رکھتا ہو۔ ہر سخص بذاتِ حود یہ طے نہیں کر سکتا کہ کیا حرام ہے اور کیا حلال۔ اسلام میں یہ بات واضح ہے کہ آپ اپنے تمام مسائل کا حل بالترتیب ان چیزوں سے حاصل کریں، قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ محمد امتیازالدین، حیدرآباد: اگر شریعت اسے حرام قرار دیتی ہے تو پھر بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ عبدالصمد، اوسلو: فوڈ اور بیوریج میکنگ کے پروسیس میں کیمیائی اور قدرتی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس دورانئے سے گزرنے کے بعد جو الکحل کی تھوڑی سی مقدار اس میں شامل ہو جاتی ہے، اسے استعمال کرنے کا تو دفاع کیا جا سکتا ہے۔ رہا اس کا بیچنا اور استعمال وغیرہ تو اسے انفرادی انتخاب پر چھوڑ دینا چاہئے۔ عثمان حمید، فیصل آباد: شراب کو حلال قرار دے دینا اسلام کی توہین ہے۔  | لسّی کا گلاس  صرف0.01 فیصد پر ہم اتنا شور مچارہے ہیں۔ اس سے زیادہ نشہ تو لسّی کے ایک گلاس پر ہوجاتا ہے۔  انوار خان، کراچی |
انوار خان، کراچی: 0.01 صرف فیصد پر ہم اتنا شور مچارہے ہیں۔ اس سے زیادہ نشہ تو لسّی کے ایک گلاس پر ہوجاتا ہے۔ جان رحمان خان، اردن: شراب کو اللہ نے قرآن میں حرام قرار دیا ہے لہٰذا اس کے حلال ہونے کا تو کوئی جواز ہی نہیں۔ رسول نے اسے امّ الخبائث قرار دیا۔ نشے کے عالم میں تو انسان جانور بن جاتا ہے، نہ ماں کی تمیز رہتی ہے نہ بہن کی۔ یاسر، میرپور: بیئر پینے والے کو انسانیت سے خالی کردیتی ہے۔ جسے قرآن اور رسول نے منع کیا، اس کی اجازت دینا ناممکن ہے۔ میرا خیال ہے کہ جو اسلام میں اس کی اجازت چاہتے ہیں ان کا ایمان خطرے میں ہے۔ محمد علی، برطانیہ: یہ سراسر جھوٹ ہے، میں صبح سے چار ’لوکوزیڈ‘ پی چکا ہوں، اس میں سے تو کچھ نہیں نکلا۔ |