BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2004, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویلنٹائن ڈے: آپ کیا کررہے ہیں؟
ویلنٹائن ڈے اب مشرق میں بھی مقبول ہورہا ہے
ویلنٹائن ڈے اب مشرق میں بھی مقبول ہورہا ہے
چودہ فروری یعنی ویلنٹائن ڈے کو ہر سال محبت کرنیوالے یومِ اظہارِ محبت کی حیثیت سے مناتے ہیں۔ بالخصوص مغربی ممالک میں یہ دن بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ لیکن اسلامی ممالک میں اس کا کوئی رواج نہیں ہے۔ ہندوستان میں جہاں ویلنٹائن ڈے نوجوانوں میں مشہور ہوتا جارہا ہے، ہر سال دائیں بازو کے سخت گیر ہندو کارکن محبت کے ایسے جوڑوں کے خلاف دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کو آپ کیا کررہے ہیں؟ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

آپ کے خیالات

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


آصفہ رشید، بہاولنگر: ہمیں اس جیسے کسی دن کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں اجازت ہی نہیں دیتا۔ جہاں تک محبت کا تعلق ہے تو جسے ہمارے نوجواں لوگ محبت کہتے ہیں یہ بے راہ روی ہے۔ اگر ہم یہ دن مناتے ہیں تو یہ قابلِ شرم بات ہے۔

عصمت اللہ باجوہ، کراچی: محبت اپنے محبوب کی پیروی کرنے کا نام ہے لہٰذا ایک مسلمان کو صرف اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنی چاہئے۔ بیوی اور والدین سے صرف پیار ہوتا ہے۔ لڑکی کوئی چیز نہیں ہوتی وہ صرف بیوی، بہن، ماں یا بیٹی ہوتی ہے۔

عارف، پاکستان: میں تو ابھی تک لڑکی ہی ڈھونڈھ رہا ہوں۔

ندیم اکرم، سویڈن: ہمیں اپنی ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے تہوار منانے چاہئیں مثال کے طور پر ہیر رانجھا ڈے اور سسی پنوں وغیرہ۔

ہارون رشید، سیالکوٹ: میں اپنے بھائی کی شادی میں ہوں کیونکہ اس نے اسی مناسبت سے ویلنٹائن ڈے کو ہی شادی کا دن رکھا۔

عبدالحلیم، جرمنی: یہ ہم پر اللہ کا احسان ہے کہ ہم والدین کی عزت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور بہن بھائیوں میں اس قدر پیار ہوتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کی اور نہ ہی کسی اور ڈے کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ تو ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں کبھی کبھار پیار نصیب ہوتا ہے۔

شاہد، پاکستان: ویلنٹائن ڈے ایک اچھی چیز ہے خاص طور پر گھٹن کے اس ماحول میں جہاں نوجوان نسل مشرق اور مغرب کے درمیان پِس رہے ہیں۔

عباس ہمیہ، ہنزہ: ویلنٹائن ڈے سب کو منانا چاہئے لیکن میں نہیں منا سکتا کیونکہ اس بھری دنیا میں ہمارا کوئی دوست نہیں ہے۔

شاہد، پاکستان: ہاں بش نے ضرور صدام کو یاد کی ہوگا جو اس کو الیکشن جیتوائے گا۔

وحید مراد، کشمیر: ویلنٹائن ڈے فضول دن ہے کیونکہ محبت کرنے والے کسی دن کا انتظار نہیں کرتے۔

پرویز بلوچ، بحرین: میں ابھی مناما سے آرہا ہوں، وہاں میں نے دیکھا کئی جگہ پھول اور مختلف تحائف محبت کرنے والوں کے منتظر تھے۔ بحرین ایک اسلامی ملک ہے، لیکن محبت کرنے والے کہتے ہیں کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔

طاہر فاروق آرائین، پاکستان: کیا صدر بش اور وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اس دن پر کسی کو محبت سے یاد کیا؟ مثال کے طور پر عراق، افغانستان، بوسنیا، وغیرہ۔

اقبال بیگ، پاکستان: میں اس دن بیئر پیتا ہوں۔

محمد یومان، میرپور خاص، پاکستان: ویلانٹائن ڈے کو تو میں اپنا کنٹیکٹ ختم کرکے سکون سے سوتا ہوں۔ میں کبھی اکثریت میں نہیں جاتا۔

مرزا عاصم محمود، گجرات: مغربی دنیا مادہ پرستی میں اس قدر مگن ہو چکی ہے کہ اب اسے اپنے لطیف جذبات کے اظہار کے لئے بھی ایام کا سہارا لینا پڑتا ہے مثال کے طور پر ویلنٹائن ڈے، مدر ڈے، فادر ڈے وغیرہ۔ میرے خیال میں ہمیں ایسی چیزوں سے پرہیز ہی کرنی چاہئے جن میں مغربی تہذیب کے دلدادہ ہمیں بھی گھسیٹنا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس اپنے جذبات کے اظہار کے دیگر باآخلاق ذرائع بھی ہیں۔

نامعلوم: مادر پدر آزاد معاشروں میں تو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے لیکن اسلامی معاشروں میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ ’باپ، بھائی، بیٹا یا ماں، بہن اور بیٹی اگر اپنے گھروں پر نظر رکھیں تو ویلنٹائن ڈے کا تصور ہی ختم ہو جائے گا‘۔ انٹرنیٹ کا مثبت استعمال بہت سی بیماریوں سے بچا سکتا ہے جن میں ویلنٹائن ڈے بھی شامل ہے۔

نذر انر، کوریا: یہ دن بہت اچھا ہوتا ہے۔

صالح محمد، راولپنڈی: ویلنٹائن ڈے ایک مغربی تہوار ہے اور ہم دوسری چیزوں کو طرح اسے بھی اپنانا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں غربت اور غم اس قدر زیادہ ہے کہ ہم ویلنٹائن ڈے کے متحمل ہی نہیں ہو سکتے۔ ہم سب کو اپنی ذات سے باہر نکل کر سوچنا ہو گا۔ یہ ویلنٹائن ڈے تو صرف ان ملکوں کو زیب دیتا ہے جو ترقی یافتہ ہیں، غریب بےچارہ تو پیٹ کی فکر میں ہی رہتا ہے۔

نجم ضیاء، لاہور: یہ بہت قبیح صورت حال ہے۔ ویلنٹائن ڈے ایک غیر اسلامی تہوار ہے اس لئے ہمیں کسی بھی صورت اسے منانے سے گریز کرنا چاہئے اور اس دب کی خشیوں میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ اسلام کا ماضی سنہرا دور تھا جسے ہم مسلمانوں نے تباہ کر دیا ہے۔

عبدالہادی، کرغستان: تاریخی اعتبار سے یہ دن ایک عیسائی ولی سے منسوب ہے۔ میرے خیال میں محبت کے اظہار یا علامت کے لئے کسی ایک شخص کے نام پر دن مخصوص کرنا دیگر لو لیجنڈز کے ساتھ ناانصافی ہے۔ میرے خیال میں سال کا ہر دن محبت کے نام ہونا چاہئے۔

محمد ثاقب احمد، بہار: میں اس دن کو مانتا ہی نہیں اور نہ ہی کسی ایسے فرد یا گروہ میں شامل ہوتا ہوں جو ایسی حرکت کرتے ہیں۔ یہ بالکل ایک غیر اخلاقی، غیر مذہبی، غیر سماجی، غیر معاشرتی اور غیر انسانی فعل ہے۔ اس سے عریانیت، نفسانیت، شہوانیت پھیلتی ہے۔ یہ عیاشی کا دن ہے۔

چوہدری عمر فاروق، ملتان: میں ایک طالبعلم ہوں اور ویلنٹائن ڈے کو کچھ اچھا نہیں سمجھتا لیکن میں اپنی انا کی خاطر ان دوستوں کو نظرانداز نہیں کر سکتا جنہوں نے مجھے ویلنٹائن کارڈ ارسال کئے ہیں۔ اس لئے میں اپنے دوستوں کو بھی ایسے ہی کارڈ بھیجوں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ویلنٹائن ڈے کی آڑ میں بازار والے رقم بٹورنے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں اور یوں ویلنٹائن ڈے کی تقریبات کے موقع پر پیسہ کمانے کی دھن غالب آ جاتی ہے۔

حامد سعید بلوچ، پاکستان: اسلامی ملک کے لیِ یہ ایک غیر شرعی دن ہے۔ اس روز فضول خرچی کی جاتی ہے۔ یہ دن منانے والوں کے لئے خدا کی طرف سے لعنت فرمائی گئی ہے۔

خانم سومرو، کراچی: ویلنٹائن ڈے ایک بہت ہی فضول سا دن ہے کیونکہ محبت کرنے والے کے لئے ہر دن ویلنٹائن ڈے ہونا چاہئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد