BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2004, 10:37 GMT 15:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کلوننگ سے انسانی جین تیار
News image
سائنسدان ایسا خلیے بنانے کی جستجو میں ہیں جن سے بعد میں کسی بھی عضو میں بدلا جا سکے
جنوبی کوریا میں سائنسدانوں نے کلوننگ کے ذریعہ تیس انسانی جنین بنائے ہیں جن کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ ایک دن انہیں امراض کے علاج کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔ سیول نیشنل یونیورسیٹی کے ووسک ہوانگ اور ان کے رفقاء نے عام انسانی خلیے سے جینیاتی مادہ حاصل کرنے کے بعد اسے بیضوں انڈوں میں منتقل کر دیا۔

اس طرح وجود میں آنے والے انسانی جنین کو بعد میں کلچر کرکے ’سٹم سیل‘ یا مخصوص قسم کے خلیوں میں بدل دیا۔ سٹم سیل خلیہ کی وہ بنیادی قسم ہے جس سے جسم کا کوئی بھی خیال بنایا جا سکتا ہے۔ خیال ہے کہ ان خلیوں کو ذیابیطس اور الزہمیر کے مریضوں کے جسم میں داخل کرکے نئی بافتیں بنائی جا سکیں گی۔

کلونِنگ سے انسانی جین کی تیاری پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ کے خیال میں یہ ایک اخلاقی دریافت ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


آصفہ رشید، بہاولنگر: کلوننگ کیا ہے؟ صرف خدا کے بنائے گئے نظام میں خرابی پیدا کرنے کا نام ہے۔

صلاح الدین لنگا، جرمنی: اگر میرے پاس بش کی فوٹو کاپی آ جائے تو کیا ہی بات ہے۔

ارشاد آفریدی خان، کوہاٹ: انسان خالقِ حقیقی کی تخلیق ہے اس لئے کلوننگ سے کچھ ہونے والا نہیں جب تک کہ اللہ کی رضا نہ ہو۔

خانم سومرو، کراچی: میرے خیال میں اس عمل سے جہاں انسان کو کچھ فائدہ ہو گا وہیں اس کے نقصانات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی شروع ہو جائے گا۔

ہارون رشید، سیالکوٹ: اس کے باعث کائنات میں حیاتیاتی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے اور انسانوں کے لئے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اسلم زاہد، بورے والا، پاکستان: انسانی صحت کے لئے یہ بہت بڑی دریافت ہے۔

عباس ہمیہ، ہنزہ، پاکستان: یہ میڈیکل سائنس کا ایک ایسا کارنامہ ہے کہ جس پر پوری دنیا کو فخر ہونا چاہئے۔ اگرچہ یہ ایک مسئلے کے طور پر بھی سامنے آسکتا ہے لیکن پھر بھی انسانی عقل سلیم کا یہ ایک شاندار کارنامہ ہے۔ کلونِنگ کو انسانی عضو بنانے کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے، اس سے ہزاروں انسانوں کی بیماریوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ہر دریافت کے منفی اور مثبت نتائج ہوسکتے ہیں لیکن سے ضرور مثبت طور پر استعمال کرنا چاہئے۔ اس دریافت پر انسان جتنا بھی فکر کرہا ہے کم ہے۔

ڈاکٹر افضال ملک، راولپنڈی: کلونِنگ سے انسانی جین بنانا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، آج نہیں تو کل اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔

عبدالحادی، کرغزستان: مسلمان کا عقیدہ ہے کہ کوئی انسان اللہ کا کام نہیں کرسکتا۔ تو یہ سوچنا کہ اللہ کے کام میں مداخلت کی جائے میرے خیال میں درست نہیں ہے۔ اگر یہ اللہ کا کام ہے تو انسان سے ہوگا نہیں۔

سیما، کینیڈا: میری بیٹی کو ڈائبیٹِز ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کلونِنگ سے کوئی علاج ممکن ہوجائے۔

محمد افضال خان، اٹک، پاکستان: سائنس روز بروز ترقی کررہی ہے، کلونِنگ بھی اسی کی ایک قسم ہے۔ کلوننِنگ کو انسانی اعضاء بنانے کے لئے استعمال کیا جائے تو بہت اچھا ہے لیکن اگر اس سے انسان بنائے گئے تو اس کا بہت برا نتیجہ نکلے گا جس سے پوری انسانیت شرم سے سر جھکائے گی۔ اس لئے عالمی سطح پر قوانین بنائے جائیں جس سے اس کو روکا جاسکے۔

نامعلوم: کلونِنگ کے عمل سے جہاں انسان کو فائدہ ہے، وہیں نقصانات بےشمار ہونگے۔

ڈاکٹر عبدالمجید، فیصل آباد: اگر یہ ایک حد تک اور صرف علاج کے لئے کیا جائے تو کلونِنگ بہت ہی اچھا ہے۔ لیکن اس کام میں بھی ایٹومِک انرجی کی طرح دو پہلو نکلتے ہیں: ایک مثبت اور ایک منفی۔ سائنسدانوں پر حد لگانا مشکل ہے۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی: میرے خیال میں یہ جوکچھ ہورہا ہے قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔

انوار احمد، پشاور: اسٹیم سیل سے انسانی بیماریوں کو دور کرنے میں کافی مدد حاصل ہوگی۔

خرم شہزاد شیخ، جرمنی: اگر کلونِنگ کو انسانی عضو بنانے کے لئے استعمال کیا جائے تو یہ میڈیکل سائنس کا ایک شاندار کارنامہ ہوگا۔ لیکن اگر ایک نئے انسان کو وجود میں لانے کے لئے کلونِنگ کی جائے تو اس سے شاید بہت خطرناک مسائل اور بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ اس لئے کلونِنگ کو محدود کرنے کے لئے ایک عالمی قانون بنانا چاہئے۔

محمد اقبال، کوٹلی، کشمیر: انسان جتنی کوشش کرے گا اتنا آگے بڑھ سکتا ہے، بیس پچیس سال پہلے پاکستان میں لوگ ٹی وی کو یقین نہیں کرتے تھے۔ جو کام مسلمانوں کو کرنا چاہئے وہ غیرمسلم کررہے ہیں۔

محمد اشرف بشیر، ملتان: دیکھیں گے، اگر اس دریافت کا بنیادی مقصد انسانیت کی فلاح ہے تو اس میں کوئی حرض نہیں۔ اگر اس دریافت سے انسانی امراض کا علاج ہوسکے گا تو یہ تو انسانیت کی خدمت ہوگی، یہاں تک تو ٹھیک ہے۔ لیکن اس سے آگے کا سوچنا خطرناک ہوگا۔

ساجد ریحان، امریکہ: مجھے لگتا ہے کہ آنیوالے دنوں میں اب سائنسدان اس کی مدد سے انسان بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ معلوم نہیں کہ یہ غلط قدم ہوگا یہ صحیح؟

ابو انتظام سید، ملتان: اس ٹیکنالوجی کو اگر صرف علاج وغیرہ کے لئے استعمال کیا جائے تو اس میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن ایک انسان کی کلونِنگ سے اسی جیسے دوسرے انسان پیدا کرنا معاشرتی، اخلاقی، مذہبی اور قانونی لحاظ سے بالکل غیرفطری عمل ہے جس کی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے۔

اسماعیل مرزا، پاکستان: میرے خیال میں یہ ایک غیرشرعی کام ہے، کیونکہ اس پر اللہ ہی قدرت رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد