| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی کلوننگ بند کرنے کی اپیل
برطانیہ میں رائل سوسائٹی کے سربراہ لارڈ رابرٹ مے نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں انسانوں کی کلوننگ پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کچھ دیگر سائنسدانوں کی آواز سے آواز ملاتے ہوئے ذرائع ابلاغ سے انسانوں کی کلوننگ کے دعووں کے بارے میں خبریں نشر نہ کرنے کی اپیل کی۔ لارڈ میں اور درجن بھر دوسرے سائنسدانوں نے صحافیوں کے نام ایک خط پر بھی دستخط کئے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ انسانوں کی کلوننگ کے کسی بھی غیر مصدقہ دعوے کے بارے میں خبر شائع نہ کریں۔ گزشتہ ہفتے ایک امریکی ڈاکٹر پینوس زیووس نے دعویٰ کیا تھا کہ افزائش نسل کے ایک متنازعہ امریکی ماہر نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے مثل پیدا کرنے کے حامل جنین کو ایک عورت کی بچہ دانی میں داخل کر دیا ہے۔ لارڈ مے کا کہنا تھا کہ انسانوں کی کلوننگ دوسرے جانداروں کی نسبت مشکل کام ہے اور ایسا کرنا غیر ذمہ داری ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انسانوں کی کلوننگ کے خواہشمند دراصل شہرت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ٹیکنالوجی اور اس کے ممکنہ استعمال کو سمجھنا چاہیے۔ لارڈ مے کا کہنا تھا کہ لوگوں کو یقن دہانی کی ضرورت ہے کہ سائنسی معلومات کا غلط استعمال نہیں کیا گیا۔ رائل سوسائٹی نے کلوننگ پر تحقیق کرنے والوں سے ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے کہا ہے کہ آیا انہوں نے اس عمل میں عورت اور بچے پر پڑنے والے اثرات کو مد نظر رکھا ہے، کیا ثبوت ہیں کہ انسانوں کی کلوننگ کا تجربہ کامیاب ہوگا اور کیا ان کی تحقیق تجزیے کے لئے پیش کی جائے گی یا نہیں؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||