BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 January, 2004, 18:31 GMT 23:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسانی کلون کی تیاری کا دعوٰی
کلوننگ
کلوننگ کے عمل نے سو فیصد ہوبہو یا مثل پیدا کرنا ممکن بنا دیا۔

افزائش نسل کے ایک متنازعہ امریکی ماہر نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے مثل پیدا کرنے کے حامل جنین کو ایک عورت کی بچہ دانی میں داخل کر دیا ہے۔

ڈاکٹر پینوس زیووس جو دورے پر لندن آئے ہوئے ہیں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ عمل کب اور کہا کیا گیا ہے۔

تاہم انہوں نے اتنا کہا کہ ایسا حال ہی میں ہوا ہے اور یہ کہ ایسا امریکہ، برطانیہ یا یورپ کے کسی دوسرے ملک میں نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر زیووس نے اس کا اعلان لندن میں سنیچر کے روز منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

انسانی بیضہ
عورت سے حاصل کیا گیا بیضہ یا انڈہ جس میں اس شخص کے جسم کے کسی خلیہ سے حاصل شدہ کیمیائی مادہ ’ڈی این اے‘ داخل کیا جاتا ہے جس کی مثل یا کلون پیدا کرنا مقصود ہو۔

انہوں نے اس عمل کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ بیضہ یا انڈہ ایک پینتیس سالہ بانجھ عورت کی بیضہ دانی سے لیا گیا ہے جبکہ اس کی تخم ریزی کے لئے مذکورہ عورت کے شوہر کی جلد سے خلیہ حاصل کیا گیا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس قلم کی بار آور ہونے کے امکانات تیس فی صد ہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس وقت میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس عمل کے نتیجہ میں حمل ٹھہر گیا ہے۔ اس کے لئے ہمیں دو تین ہفتہ اور انتظار کرنا پڑے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس پورے عمل کی فلم بندی بھی کی گئی ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے جو کچھ کہا ہے انہوں نے اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، اور اگر یہ سچ بھی ہو تو یہ انتہائی غیراخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ فعل ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی وہی ہے جو ایک بھیڑ ڈالی کی پیدائش کے لئے استعمال کی گئی تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد