یکم دسمبر کو ایڈز کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ لیکن اس دن کے آنے سے پہلے اقوامِ متحدہ کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں یہ بات پھر سامنے آئی ہے کہ اب بھی ایڈز دنیا میں پھیل رہی ہے۔عورتیں اور کم عمر لڑکیاں بیماری کا خاص نشانہ بن رہی ہیں۔ اگرچہ ایڈز کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں افریقہ آتا ہے لیکن گذشتہ برسوں میں یہ موذی مرض برِ اعظم ایشیا کے کئی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ خاص طور پر انڈیا کو۔ اگرچہ پاکستان میں اب تک سرکاری طور پر ایڈز کے دو ہزار تین سو مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔لیکن مختلف بین الاقوامی ایجنسیوں کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی پوزیٹو کیسوں کی تعداد ستر ہزار کے قریب ہو سکتی ہے۔ کیا ایڈز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد آپ نے کبھی خوف محسوس کیا ہے؟ کیا ایڈز پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کافی ہیں؟ پاکستان میں حکومت کو اس سلسلے میں کیا کچھ کرنا چاہیے؟ ہمیں جنس کے موضوع پر آگہی بڑھانے اور جنسی تعلیم کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ آپ کیا سوچتے ہیں؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہےاور قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
نواب خان، مظفر گڑھ: سب سے پہلے تو ہم کو یہ بات ختم کرنی چاہئے کہ ایڈز کے تمام مریض جنسی طور پر ہی یہ مرض حاصل کرتے ہیں۔ ہر شخص ایڈز کے مریض سے نفرت کرتا ہے اور اس کو بہت بڑا گناہ گار سمجھتا ہے، حالانکہ ایڈز پھیلنے کے کئی اسباب ہیں۔ اور پاکستان میں اگر ایڈز کا مرض پھیلا تو اس کے ذمہ دار ڈاکٹر ہوں گے جو ایک ہی سرنج کئی مریضوں کو لگاتے ہیں۔ مہین صدیقی، کراچی: ایڈز سے واقعی بہت ڈر لگتا ہے۔ یہاں صرف بےراہ روی ہی ایک وجہ نہیں، پاکستان میں اس کا ایک اور بھی وجہ ہے: یہاں وہ لوگ بھی جو صاف ستھری زندگی گزارتے ہیں صرف چند لوگوں کی لالچ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سعید احمد بلوچ، الخوبر: ایڈز سے بچاؤ تعلیم کے ذریعے ممکن ہے۔ نعیم مینن، امریکہ: پہلی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہم ایمانداری سے اس بات کا اعتراف کریں کہ یہ ہمارے معاشرے میں ایک بڑا مسئلہ ہے اور پھر تعلیم و آگہی کی کوشش کریں۔  | استعمال شدہ سرنج کے مافیا  اگر یہ انجکشن کو ایک ایڈززدہ شخص نے پہلے استعمال کرلیا ہو اور مافیا کی بدولت دوبارہ پیک کرکے یہ سرنج مارکیٹ میں ہے تو میں تو مریض بن چکا ہوں اور میری بیوی بھی اس سے متاثر ہوچکی ہے۔۔۔۔  فیصل رضا، فیصل آباد |
فیصل رضا، فیصل آباد: میں ایک عام مسلم پاکستانی ہوں، بہت احتیاط سے زندگی گزار رہا ہوں۔ نماز ادا کرتا ہوں، حسب توفیق خیرات کرتا ہوں، اپنی بیوی تک محدود ہوں، ایک بچہ ہے، ہم میاں بیوی بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک دن میں بخار میں ڈاکٹر کے پاس جاتا ہوں، ڈاکٹر پاکستان میں اسی فیصد مریضوں کو انجکشن لگانا پسند کرتے ہیں کیونکہ اس سے بیماری میں فورا آرام ملتا ہے۔ میں میڈیکل اسٹور سے انجکشن لیکر کلنک جاتا ہے اور کمپاؤنڈر مجھے انجکشن لگاتا ہے۔ اب اگر یہ انجکشن کو ایک ایڈززدہ شخص نے پہلے استعمال کرلیا ہو اور مافیا کی بدولت دوبارہ پیک کرکے یہ سرنج مارکیٹ میں ہے تو میں تو مریض بن چکا ہوں اور میری بیوی بھی اس سے متاثر ہوچکی ہے۔۔۔۔ حماد رضا بخاری، فیصل آباد: خوف کی بات ہے۔ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے کافی ہونے کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان میں حکومت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا احساس ہی کرلے تو بڑی بات ہے۔ ہاں جنسی تعلیم اور آگہی بھی ضروری ہے۔ انسان اس طرح کی بیماری پر قابو تو ایک نہ ایک دن پاہی لے گا لیکن سوچنا یہ ہے کہ اس طرح کے آفات آتے کیوں ہیں؟ پرویز اختر محمد، دوبئی: ہمیں نصاب میں کچھ کتابیں شامل کرنی چاہئے تاکہ لڑکوں کو سیکس کے بارے میں بتایا جائے۔ ہمارے ملک میں یہ کافی مشکل ہے۔ ایک خصوصی عمر میں اس کی تعلیم دی جانی چاہئے۔ نفیس نصیر، اٹلانٹا: ایچ آئی وی اور ایڈز کے بارے میں پہلے صحیح جانکاری کی ضرورت ہے۔ محسن اقبال، کوٹلی: میرے خیال سے ایڈز اور ایچ آئی وی اللہ کی طرف سے دی جانے والی سزا ہے کیونکہ انسان اللہ کے قوانین میں تبدیلی کررہا ہے، ہم جنس پرستی کو فروغ دے کر۔۔۔۔  | کنڈوم، کنڈوم، کنڈوم؟؟؟  ایڈز سے بچنے کے لیے صرف کنڈوم کنڈوم کی آواز لگائی جارہی ہے۔ یہ میسج دیا جارہا ہے کہ جتنی مرضی ہو بےحیائی کرلیں کوئی حرض نہیں، ہاں کنڈوم ضرور لگائیں۔ میں کہتی ہوں کہ یہ لوگ صرف اتنی تعلیم کیوں نہیں دیتے کہ ’صرف جائز جنسی تعلق ہونا چاہئے”۔  شازیہ علی، لندن |
شازیہ علی، لندن: مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے کہ آخر کنڈوم کے استعمال پر اتنا زیادہ زور کیوں دیا جارہا ہے؟ اگر صرف حلال اور جائز جنسی تعلق رکھا جائے، یعنی صرف اپنے شریک حیات کے ساتھ، تو پھر اس کنڈوم کی ضرورت کیا ہے؟ غیرسکرین شدہ خون، گندے تولیے اور ناجائز جنسی تعلقات سب مل کر ایڈز پھیلاتے ہیں۔ اور ایڈز سے بچنے کے لیے صرف کنڈوم کنڈوم کی آواز لگائی جارہی ہے۔ یہ میسج دیا جارہا ہے کہ جتنی مرضی ہو بےحیائی کرلیں کوئی حرض نہیں، ہاں کنڈوم ضرور لگائیں۔ میں کہتی ہوں کہ یہ لوگ صرف اتنی تعلیم کیوں نہیں دیتے کہ ’صرف جائز جنسی تعلق ہونا چاہئے”۔ محمد خالد، تونسہ شریف: ہر شہری ایڈز سے ڈرا ہوا ہے۔ حکومتی کوششیں کافی نہیں ہیں۔ میڈیا، بالخصوص ریڈیو کو اہم کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ اسی فیصد عوام کی رسائی ریڈیو تک ہے۔ سیکس کے بارے میں بھی محدود تعلیم کی ضرورت ہے۔ کنول ظہار، لاہور: ایڈز حقیقت میں ایک خطرناک بیماری ہے اور لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ صرف جنسی ریلیشن سے نہیں پھیلتی ہے، بلکہ پاکستان میں اس کے پھیلنے کے اور بھی بہت سے اسباب ہیں جن کے لیے کچھ سدباب کے لیے حکومت کچھ نہیں کررہی ہے، صرف اور صرف زبانی باتیں ہیں۔ جہاں تک جنسی تعلیم کی ضرورت ہے تو یہ اس سے بچاؤ کے لیے لازمی ہے اور جو لوگ اسلام کے نام پر اس کی غلط کہتے ہیں تو کیا قرآن میں جنس کے بارے میں تعلیم نہیں دی گئی ہے؟ جنسی عمل کو غلط یا برا کام نہیں، صرف لیگل ہونا چاہئے۔ ابو بکر ہاشمی، نیوزی لینڈ: میں سمجھتا ہوں کہ سیکس کے بارے میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ اس پر دستاویزی فلمیں بھی بنانے کی ضرورت ہے جس میں ایڈز کے مریضوں کی مشکلات پر روشنی ڈالی جائے۔ علی اطہر، ملتان: ایڈز موت کا دوسرا نام ہے اور اس سے خوف آنا ایک قدرتی امر ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے اسلامی تعلیمات کے ذریعے شعور کو بیدار کرنا چاہیے جبکہ جنسی تعلیم مزید خرابیوں کو جنم دے گی لیکن اگر یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو تو اچھے نتائج آئیں گے۔ محمد بلال ملک، لاہور: اسلامی شریعت کو نافذ کرکے اس مسئلے سے بخوبی نمٹا جاسکتا ہے۔  | خدارا جاگیے  ہم کسی ایسے جزیرے پر نہیں رہ رہے جو اسلام کا قلعہ ہے اور یہاں تک یہ بیماری نہیں پہنچ سکتی۔ بہت اچھی بات ہے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا لیکن جو ہوچکا اس سے آنکھیں بند کرنا ہرگز اچھی بات نہیں ہے۔  عائشہ صابر، لاہور |
عائشہ صابر، لاہور: جو بچہ ایڈز کے ساتھ پیدا ہو، اسلام اس کے لیے کیا کرسکتا ہے؟ اس طرح کے بچوں کی تعداد انڈیا اور افریقہ میں بہت زیادہ ہے۔ ہمیں جاگنا ہوگا۔ ہمارے اردگرد چاروں اطراف ایڈز موجود ہے۔ ہم کسی ایسے جزیرے پر نہیں رہ رہے جو اسلام کا قلعہ ہے اور یہاں تک یہ بیماری نہیں پہنچ سکتی۔ بہت اچھی بات ہے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا لیکن جو ہوچکا اس سے آنکھیں بند کرنا ہرگز اچھی بات نہیں ہے۔ ایڈز صرف جنسی عمل کے ذریعے نہیں ہوتی، اس کی اور بھی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں اور پھر اگر گناہ گار کو اللہ معاف کرنے کو تیار ہے تو اسلام کے ٹھیکیدار کیوں تیار نہیں۔ ثناء خان، کراچی: ایڈز کا شکار لوگ کسی ہمدردی کے مستحق نہیں، جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ مدثر نذر شاہزادہ، جھنگ: جنسی تعلیم وقت کی ضرورت ہے۔ کالج اور سکول کی سطح پر اس تعلیم سے ہم اس بیماری کے خلاف کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ نواز بھٹہ، لاہور: ایڈز، ہیپیٹائٹس اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے آگہی ضروری ہے اور یہ کام حکومت، شہری تنظیموں اور علماء کا ہے کہ وہ صحتِ عامہ کے لیے شعور بیدار کریں۔ وجیہہ قیوم، کینیڈا: یہ سب جنسی تعلیم کی زیادتی ہی کا تو کیا دھرا ہے اگر تعلیم دینی ہی ہے تو مذہبی اور قرآنی تعلیم دیں۔ جاپانی سپیشل، سنگاپور: حکومتِ پاکستان کو سیاست سے فرصت ملے تو وہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچیں۔ منشیات اس کی سب سے بڑی وجہ ہیں، ان سب کا کوئی بندوبست کرنا چاہیے۔ سید رضوی، کراچی: ایڈز کے معاملے میں پاکستانی حکومت کو عوام میں جنسی تعلیم کے لیے ایسی آسان زبان استعمال کرنی ہوگی جو لوگوں کو سمجھ آئے۔ یہاں ابھی بھی لوگوں کو نہیں پتہ کہ ایڈز کیوں ہوتی ہے۔ شہلا اظہر، ٹورنٹو: جنسی سے زیادہ اسلامی تعلیم کی ضرورت ہے کیونکہ میں ہر چیز کا حل موجود ہے۔ ظفر اقبال، بحرین: پاکستان میں اب تک کیے جانے والے اقدامات کافی نہیں ہیں اس لیے بہت کچھ کرنا ہوگا۔ امتیاز محمود، برطانیہ: ایڈز کا وائرس جان بوجھ کر چھوڑا گیا تھا تاکہ دنیا کی آبادی میں کم کامیاب لوگوں کو دو ارب تک کم کیا جاسکے۔ ایڈز ویکسین بھی اسی وقت تیار کرلی گئی تھی اور جب مقصد ہورا ہوجائے گا تو سامنے آجائے گی۔ افریقہ، انڈیا اور چین بھونچال کے اوپر بیٹھے ہیں۔ ہمارے لیے انفرادی بچاو کی واحد صورت محفوظ جنسی عمل ہی ہے اور صحتمند دوستوں کے درمیان ایمرجنسی کے لیے بلڈ پول قائم کرنا ہے۔ یقیناً یہ انصاف نہیں لیکن ہمیشہ کی طرح یہ ’سروائیول آف فٹیسٹ‘ ہی کے نظرئیے کے مطابق ہے۔  | سب ٹھیک ہوجائے گا  اسلامی تعلیمات کے مطابق صحیح وقت پر شادی کردیجئے۔ ایک مرد کو چار شادیوں کی اجازت اور زنا کاروں کو اسی کوڑے کی سزا دیجیے۔  جاوید مغل، برطانیہ |
جاوید مغل، برطانیہ: بالکل قابو پاسکتے ہیں، بس ذرا اسلامی تعلیمات کے مطابق صحیح وقت پر شادی کردیجئے۔ ایک مرد کو چار شادیوں کی اجازت اور زنا کاروں کو اسی کوڑے کی سزا دیجیے۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔بابر راجہ، جاپان: بدقسمتی سے تعلیم کا اتنا فقدان ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ایڈز صرف جنسی فعل سے نہیں پھیلتی۔ اس میں غربت، سرنج کا بار استعمال، خون کی تبدیلی بھی بڑی وجوہات ہیں۔ حکومت کو اسلام کی تعلیمات پھیلانی اور لوگوں کو اس پر مکمل عمل کرنا ہوگا اور مرض خود بخود ختم ہوجائے گا۔ یاسر امین، آسٹریلیا: اسلامی طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے سے یہ مرض کبھی نہیں لگے گا لیکن اب یہ پھیل چکی تو اس کے خلاف جدوجہد ضروری ہے۔ نوید صدیقی، لودھران: ایک بات زیادہ زور دے کر اجاگر کرنی چاہیے کہ ہم صرف شادی شدہ زندگی گزاریں اور اس سے باہر یا غیر فطری جنسی تعلقات سے مکمل پرہیز کریں۔ پھر میڈیا کو بھی جنسی پہلو بھڑکانے سے باز رکھا جائے۔ عمران صدیقی، ملیر، کراچی: ہماری حکومت کا برا مسئلہ ایڈز نہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ جہاں تک جنسی تعلیم کا تعلق ہے اس کی ضرورت ہے۔ ٹھیک ہے کہ ہماری اخلاقی اقدار اس کی اجازت نہیں دیتیں لیکن آج کی نوجواں نسل کے لیے یہ بہت ضروری ہے کیونکہ وہ مغربی ذرائع ابلاغ سے بہت متاثر ہے۔ کم از کم انہیں احتیاط کا تو معلوم ہو۔ محمد ابراہیم خان، اسلام آباد: مجھے فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں لیکن مجھے ڈر ہے کیونکہ ہمارے اندر اس کے شکار افراد موجود ہیں۔ شعیب اختر، بنوں: جنسی تعلیم کے لیے حکومت کو کچھ نہیں کرنا چاہیے اگر عوام کچھ کرنا چاہتی ہے تو اسلام پر چلے۔ جنسی تعلیم تو اسے بڑھانے کا کام کرتی ہے۔ راجہ عبدالجبار، دوبئی: حکومتِ پاکستان کو اس خطرناک مرض کے لیے زیادہ بہتر اقدامات کرنے ہوں گے۔ جس طرح پولیو کے خاتمے کے لیے گھر گھر ٹیمیں جاتی ہیں، اسی طری اس پر بھی گھر گھر جاکر لوگوں کو سمجھانا ہوگا۔ سب کی سکریننگ کرنا ہوگی تاکہ اس بیماری کو روکا جاسکے۔ اکرم ساندھو، امریکہ: اسلام پر عمل ہی اس سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ فیصل حفیظ، سعودی عرب: میرے خیال میں ایڈز اور ہیپیٹائٹس کی تمام اقسام وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ امریکہ کی سپر پاور دوسرے ملکوں میں دخل اندازی میں مصروف ہے اور اس کا حل ڈھونڈنے کے لیے کچھ نہیں کررہی۔ ہمیں اپنے اردگرد اس تعلیم عام کرنی چاہیے۔ حکومت کو عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا ہوگا کیونکہ اس کے پھیلنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو نہیں معلوم کہ یہ کیسے پھیلتی ہے۔  | اگر یہی رویہ رہا تو۔۔۔  یہاں تو ایڈز کا مطلب صرف اور صرف جنسی بے راہ روی سے پھیلنے والی بیماری ہے اور اس پر کھل کر بات کرنے کا مطلب یہاں بے ہودہ اور فحش باتیں کرنا ہے۔  فراز قریشی، کراچی |
فراز قریشی، کراچی: پہلے لوگوں کو یہ تو بتائیں کہ ایڈز کا مرض ہے کیا اور کیسے ہوتا ہے۔ یہاں تو ایڈز کا مطلب صرف اور صرف جنسی بے راہ روی سے پھیلنے والی بیماری ہے اور اس پر کھل کر بات کرنے کا مطلب یہاں بے ہودہ اور فحش باتیں کرنا ہے۔ اگر یہی رویہ رہا تو پاکستان میں ایڈز کے مریض ستر ہزار نہیں سات لاکھ نکلیں گے۔ جبران خلیل، لاہور: جنسیات کا موضوع پہلے ہی بہت منظرِ عام پر آچکا ہے اور ایڈز اسی کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ اب برائے مہربانی مذہب کا موضوع منظرِ عام پر لائیں تاکہ انسانیت کو کچھ سکون ملے۔ یاسر، میرپور: ہم کیوں ڈریں؟ اگر ہم اسلام پر عمل کریں تو خطرہ ہی کیا ہے۔ علی احمد، پاکستان: میں ڈرتا ہوں کسی عورت کے قریب جانے سے بھی۔ میری شادی نہیں ہوئی اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میری بیوی اس مرض میں مبتلا نہ ہو۔ شازیہ، کینیڈا: ہمارے ملک میں جنسی تعلیم کو عام کرنا چاہیے تاکہ لوگوں میں شعور پیدا ہو کہ یہ ایک لاعلاج بیماری ہے۔ ہمارے ملک میں جنسیات پر بات کرنا ہی برا سمجھا جاتا ہے لہٰذا اسے پرائمری سکول سے ہی شروع کرنا چاہیے خاص طور پر لڑکوں کے لیے۔ ارشاد حسین خان، کراچی: مجھے کبھی ایڈز سے خوف محسوس نہیں ہوا۔ اس سے بچاؤ کا واحد ذریعہ اسلامی تعلیمات پر عمل ہے۔ پاکستان میں لوگوں کو اس بارے میں آگہی بہت کم ہے۔ حکومت کام تو کررہی ہے لیکن اس کام کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایم عرفان احسن پاشا، لاہور: ایڈز کے منظرِ عام پر آنے کے بعد لوگ ازدواجی اور خصوصاً غیرازدواجی تعلقات کے حوالے سے زیادہ محتاط ہوگئے ہیں اور جنسی عمل ایک خطرناک سی چیز بن گیا ہے۔ چونکہ یہ ایک لاعلاج بیماری ہے اس لئے اس پر خصوصاً آگہی کی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی حکومت نے اپنی بھرپور کوشش کی ہے اور شہری علاقوں میں تو خاصی آگاہی ہے مگر دیہات میں ابھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جنسی عمل زندگی کا ایک اہم امر ہے اور نوبالغ لڑکے اس پر آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے الٹے سیدھے کاموں میں پڑ جاتے ہیں۔ اس پر کھل کر بات کرنے اور ان کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر اسے ہائی سکول کی سطح پر نصاب میں بھی شامل کریں اور اس حوالے سے جھجھک کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے۔ کرن جبران، کینیڈا: ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم مذہبی تعلیمات کی طرف لوگوں کی توجہ دلائیں۔ اسی میں سب کی بھلائی بھی ہے اور مسئلے کا حل بھی۔ احمد جمیل ترک، پاکستان: جی ہاں، جہاں جہالت اور پیسے کے لیے سب کچھ کیا جاسکتا ہو حتیٰ کہ انسانی اعضاء بھی بیچے اور خریدے جاتے ہوں وہاں خوف تو ہوتا ہی ہے۔ میرے خیال میں یہ مستقبل اور اخلاقیات دونوں ہی کی ضرورت ہے کیونکہ جہاں اگاہی تھی وہاں بھی اخلاقی اقدار کی کمی نے یہ صورتِ حال پیدا کی ہے۔ جاوید احمد ڈوگر، لاہور، پاکستان: یہ انتہائی خطرناک بیماری ہے اس لیے حکومت کو اس پر آگہی پھیلانے کے لیے سیمینار اور ٹی وی پروگرام شروع کرنے چاہئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس خطرے کو جان سکیں۔ افتخار احمد خان، بصرہ، عراق: ہمارے نبی نے چودہ سو سال پہلے جس چیز سے منع کیا تھا آج دنیا تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے۔ میرے نزدیک تعلیم کی کمی پوری کرنے سے ہی ہم ایڈز پر قابو پاسکتے ہیں۔ شاہنواز شانی، راولپنڈی: ایچ آئی وی سے دنیا کو بچانے کا واحد راستہ اسلام ہی ہے۔ مجھے کبھی اس سے خطرہ محسوس نہیں ہوا کیونکہ میں اپنی ’خواہشات‘ کو ان حدوں کے اندر ہی محدود رکھتا ہوں جو اسلام نے متعین کی ہیں۔  | میڈیا مہم بھی، نصاب بھی  اس سلسلے میں ایک میڈیا مہم کی اشد ضرورت ہے جو نہ صرف شہروں اور قصبوں کی گلیوں تک پھیلائی جائے بلکہ اسے سکول اور کالج کے نصاب کا لازمی حصہ بھی بنانے کی ضرورت ہے۔  نیر محمود، لاہور |
نیر محمود، لاہور: پاکستان میں ایڈز اور ایچ آئی وی کے متعلق آگہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پوری آبادی میں ایک فیصد لوگوں کو اس کے بارے میں معلوم ہے۔ اس مسئلے کو سرکاری اور غیرسرکاری دونوں سطحوں پر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ایک میڈیا مہم کی اشد ضرورت ہے جو نہ صرف شہروں اور قصبوں کی گلیوں تک پھیلائی جائے بلکہ اسے سکول اور کالج کے نصاب کا لازمی حصہ بھی بنانے کی ضرورت ہے۔ عوامی سطح پر جنسی عمل کے حفاظتی طریقے کا علم پھیلانے کی ضرورت ہے کیونکہ پرہیز بہرحال علاج سے زیادہ بہتر ہے۔سہیل مرزا، برطانیہ: پاکستانی ہونے سے پہلے ہم مسلمان ہیں۔ اگر اس سوال کا جواب ہم اپنے مذہب میں دیکھیں تو بات صاف ہے اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ حکومت کو جنسی تعلیم کے انتظامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جی این طیب، دوبئی: ایڈم پر قابو پانے کے لیے پوری دنیا اور خصوصاً پاکستان میں نسلِ نو کے لیے میڈیا پر ایسے ڈرامے، فلمیں اور پروگرام بنانے کی ضرورت ہے جن کے نتیجے میں وہ اس مہلک بیماری سے ڈریں۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں فحاشی کے اڈے بند کرنا چاہئیں اور زنا اور ایسے اعمال سے گریز کرنا چاہیے جو ایڈم کا راستہ کھولتے ہیں۔ ایک تو اس میں ثواب ہے اور دوسرا بچاؤ۔ بس سٹینڈوں اور ہوٹلوں وغیرہ میں اشتہاری مہم چلائی جائے اور ہسپتالوں میں غریب آدمی کے لیے جگہ ہو، یہ نہ ہو کہ غریب اس میں مبتلا ہو تو اسے مار دیا جائے۔ اللہ کرے کہ پوری دنیا میں یہ بیماری ختم ہوجائے۔ آصف ججہ، ٹورنٹو: مسئلہ ہے کہ پاکستان میں لوگ تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ ڈسپوز ایبل انجیکشن کا استعمال اور بلڈ سکریننگ کو یقینی نہیں بنایا جاتا اور پھر جنسی تعلیم بھی نہیں ہے کیونکہ معاشرہ اس قدر انتہا پرست ہے۔ رضوان اسلم، راولپنڈی: میرے خیال میں ایڈز پاکستان کا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے جتنا کہ ہیپیٹائٹس اور ہمیں اس کے بارے میں عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ طارق سعید، پاکستان: اگر لوگ اسلام کے جنسی اصولوں پر عمل کریں تو ایڈز پھیلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صرف اپنی بیوی سے تعلقات اور پاکیزگی کے حکم پر عمل کرکے ایڈز کے جراثیم سے بچا جاسکتا ہے۔ حکومت کو اسلامی تعلیمات پر عمل کے پراپیگنڈہ کو تیز کرنا چاہیے۔ |