| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان: ایڈز سے بچاؤ کا نیا منصوبہ
پاکستانی حکومت نے ملک میں ایڈز کی موجودگی کی تردید کرتی رہی ہے لیکن اب نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت اس مرض کے سدباب کے لیے ایک نئے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ پڑوسی ملک بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کہیں کم ہے۔ اس سلسلے میں حکومت اور مذہبی رہنماؤں کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اسلام کا طرز حیات اور مسلم معاشرے کی سماجی و اخلاقی اقدار اس مرض کو پھیلنے سے روکنے میں کارفرما رہی ہیں۔ لیکن اب حکومت ان امکانات کا جائزہ لے رہی ہے جن کے تحت دیگر مسلم ممالک میں یہ مرض ایک دم سے پھیلا۔ نیشنل ایڈز پروگرام کا یہ پانچ سالہ منصوبہ چالیس کروڑ ستر لاکھ ڈالر کی لاگت سے شروع ہو رہا ہے اور یہ کوشش بھی کی جائے گی کہ مذہبی رہنماؤں کے ذریعے اس کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ حال ہی میں دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایڈز کے مرض یا ایچ آئی وی وائرس کے متاثر مریضوں کی تعداد ستر سے اسی ہزار تک ہے تاہم سرکاری طور پر صرف دو ہزار کے لگ بھگ افراد کے بارے میں تصدیق ہوسکی ہے کہ وہ اس مرض یا وائرس سے متاثر ہیں۔ لیکن ایک غیر سرکاری خیراتی ادارے ’عمل‘ سے منسلک عمران ریاض کا کہنا ہے کہ اصل میں تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے ’یہ اعداد وشمار ہمیشہ متنازعہ رہے ہیں۔‘ ’ہم نگرانی کے سلسلے میں کافی کمزور ہیں اور میرا خیال ہے کہ ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ صحت کے معاملے میں ہمارا بنیادی ڈھانچہ بھی کمزور ہے۔ اس ملک میں اس مرض کے بارے میں امتیازات ہیں۔۔۔اسے کلنک کا ٹیکہ سمجھا جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس بات میں مانع ہے کہ لوگ اس مرض کے سدباب کے لیے آگے آئیں۔‘ عمران ریاض کی بات اپنی جگہ مگر پاکستان میں بھی حالات پڑوسی ملک بھارت سے کچھ مختلف نہیں جہاں اس وائرس کے چالیس لاکھ متاثرین موجود ہیں۔ عمران ریاض کا کہنا ہے ’جن حالات کی وجہ سے بھارت میں یہ وبائی مرض اس قدر پھیلا پاکستان میں بھی وہی حالات موجود ہیں۔ اور محض تین سال قبل بھارت بھی اسی انداز میں اس بارے میں تردیدیں جاری کرتا رہا ہے۔‘ ’اصل میں تو ایڈز یا ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ کی پانچ یا چھ وجوہات ہوتی ہیں جن میں غربت کی بڑھتی ہوئی سطح، جنسی بنیادوں پر امتیازات یعنی خواتین کی کمتر حیثیت، نس میں لگائے جانے والے ٹیکوں کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہیں۔‘ تیئس سالہ محمد احمد ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہیں۔ انہیں یہ مرض چار برس قبل کچرے کے ایک ڈھیر میں پڑے استعمال شدہ ٹیکوں پر پیر پڑجانے سے لگا تھا۔ وہ کہتے ہیں ’اب میرے بعض رشتہ دار مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ مجھے بچوں سے بہت محبت ہے مگر اب میں اس کا اظہار نہیں کرسکتا کیونکہ مجھے اندازہ ہوا ہے کہ ان کے ماں باپ کا یہ خیال ہے کہ اگر بچے میرے ساتھ رہے یا کھیلے تو ان بچوں کو بھی یہ مرض لگ جائے گا۔‘ پاکستان میں بااثر مذہبی حلقے اب تک یہی سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کو ایڈز کا مرض لاحق ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ بتائے ہوئے راستے سے ہٹ گیا ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد میں قائم اسلامی یونیورسٹی کے پروفیسر محمد جنید کا کہنا ہے کہ اخلاقی اقدار کے بارے میں اسلام کا اپنا ایک نظام ہے ’جو خود بخود ان تمام غیر اخلاقی رویوں کی روک تھام کرتا ہے جو بالآخر ایڈز یا اس جیسے دیگر امراض کے پھوٹ پڑنے کا باعث بنتے ہیں۔‘ ’پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ان غیر اسلامی ممالک میں موجود ان مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں نسبتاً کہیں کم ہے۔‘ اور پروفیسر جنید کی طرح یہ وہم بعض سرکاری شخصیات کو بھی لاحق ہے کہ اس ملک میں اس مرض کے پھیلاؤ میں روک تھام کی وجہ اسلام کی اخلاقی اقدار ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسیف سے منسلک کیٹے گروساون کے مطابق اب تبدیلی آرہی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’یونیسیف کے خیال میں اس وبائی مرض کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے سے روکنے کے لیے سب سے اہم ذریعہ بلوغیت ہے۔‘ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو ایڈز کے مرض سے لڑنے کے لیے پانچ برس کا عرصہ درکار ہوگا۔ ایڈز پر قابو پانے کے لیے ایک ایسے ملک میں جہاں شعبۂ صحت کی حالت بدتر ہو اور ایسی سماجی رکاوٹیں موجود ہوں وہاں پانچ سال کا عرصہ بہت کم مدت ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||