جنسی عمل سے گریز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پندرھویں عالمی ایڈز کانفرنس میں جنسی عمل سے گریز کی امریکی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ صحت اور ایڈز کے تدارک کے لئے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسی پالیسی مسئلے کا اصل حل نہیں بلکہ اصل حل کونڈمز کا استعمال ہے۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے خبردار کیا کہ عالمی برادری اس مسئلے کے حل کے لئے ناکافی اقدامات کر رہی ہے کیونکہ صرف پچھلے برس ایچ آئی وی وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد پچاس لاکھ رہی جو ایک ریکارڈ ہے۔ کوفی عنان نے کہا کہ ایشیائی ممالک خاص طور پر ایڈز کے خطرے کی زد میں ہیں۔ پاکستان میں غیر سرکاری اندازوں کے مطابق انیس سو چورانوے میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد ستر ہزار سے اسی ہزار کے درمیان تھی جو دس برس گزرنے کے بعد بھی یہی تعداد بتائی جا رہی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں ایڈز کے تدارک کے لئے کئے جانے والے اقدامات کافی ہیں؟ پاکستان میں ایڈز پر آگہی پیدا کرنے اور اصل صورتِ حال کو جاننے کے لئے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جانی چاہئے؟ کیا آپ جنسی عمل سے گریز کی پالیسی سے متفق ہیں؟ کیا آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو ایڈز ہے؟ آپ اپنی کہانیاں بھی ہمیں لکھ کر بھیج سکتے ہیں۔ ہم آپ کی کہانیاں علیحدہ سے شائع کریں گے اور اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کا نام اور پتہ ظاہر نہیں کریں گے۔ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں عمر آفتاب، کارڈِف: کونڈوم کے استعمال کو اس لیے غیر ضروری سمجھنا کہ پاکستان شرعی قوانین پر کاربند ہے، بلی دیکھنے پر کبوتر کی طرح آنکھیں موند لینے کے مترادف ہے۔ ہمارے ملک میں معاشرتی تبدیلیاں بہت تیزی سے آ رہی ہیں۔ شادی سے پہلے جنسی تعلق کا رجحان پہلے کے مقابلے میں قدرے عام ہو گیا ہے اور تمام پاکستانی اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مغربیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ملک میں جنسی تعلیم کو عام نہ کیا گیا تو متعدد جنسی بیماریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہارون عباس، پاکستان: امریکہ بالکل غلط ہے اور ویسے بھی میرے خیال میں ایڈز کے وائرس کا وجود ہی نہیں ہے۔ اصل میں ایڈز پر قابو پانے کے لیے حفاظتی ٹیکہ ایجاد کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ لوگوں کو سیکس کرنے سے روکنے کی کوشش کی جائے۔ مشتاق اختر، گلگت: ایڈز ایک حقیقت ہے اور ہمیں اپنی جنسی زندگی کے طور طریقے بدلنے ہوں گے۔ ہمیں کونڈوم استعمال کرنا چاہیے کیونکہ زندگی کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ ساجد امیر، پاکستان: ایک طرف تو اقوام متحدہ کے تمام رفاہی ادارے ایڈز کے خلاف مہم چلا رہے ہیں لیکن دوسری طرف میڈیا زیادہ مؤثر طریقے سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ ایم عمران غفور بھٹی، سرگودھا: ایڈز ایک انتہائی مہلک مرض ہے۔ میں پوری دنیا سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ جنسی بےراہروی سے پرہیز کی جائے۔ ابرار انصاری، ممبئی: اسلام پر چلو ایڈز سے بچو۔ محمد عرفان، عرفان: میرے خیال میں جو لوگ کونڈوم استعمال کرنے کی بات کرتے ہیں وہ لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آزادی سے سیکس کرو لیکن کونڈوم استعمال کرو۔ عظیم عالم خان، لاہور: ایڈز کا واحد حل صرف اور صرف اسلامی اصولوں پر زندگی گزارنا ہے۔ ارشد اقبال، پاکستان: سب سے پہلے ہمیں میڈیا کی عیاشی ختم کرنی پڑے گی کیونکہ اسی کی وجہ سے سیکس کی طرف رجحان میں اضافہ ہوتا۔ یہ بات درست ہے کہ اسلامی راستے پر کاربند رہنے سے ایڈز سے محفوظ رہا جا سکتا ہے مگر صرف سیکس ہی نہیں اور بھی کافی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ایڈز پھیل رہی ہے۔ عبید قاضی، قطر: امریکہ بالکل غلط ہے۔ حامد بخاری، پاکستان: شریعت اور فطرت پر عمل ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔ رضوان الحق، پیرس: اگر اسلامی طرز زندگی ایڈز کو روک سکتا ہے تو پھر ہیپیٹائٹس سی کو کیوں نہیں روک سکتا جو ایڈز سے زیادہ خطرناک ہے اور پاکستان میں بہت تیزی پھیل چکی ہے۔ کنول زہرہ، لاہور: ایڈز کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں خصوصاً پاکستان میں لوگ ایڈز کی وجہ محض جنسی عمل کو سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں جنسی عمل سے گریز کی امریکی پالیسی درست نہیں ہے۔ اس کے بجائے لوگوں کو ایڈز کے بارے میں تعلیم دینی چاہیے اور کوئی صحیح علاج دریافت ہونے تک کونڈوم کا استعمال محفوظ طریقہ ہے۔ عابد رفیق، ٹورانٹو: جنسی عمل کے دوران کونڈوم کا استعمال ایڈز سے بچاؤ کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ شریک حیات کے ساتھ بہتر رشتہ ہی ایڈز جیسے مرض سے بچا سکتا ہے۔ محمد اظہر فاروق، چیچہ وطنی: میرے خیال میں اگر اسلام کے اصولوں پر کاربند رہا جائے تو ایسی کوئی بیماری ہمارے پاس بھی نہیں پھٹک سکتی۔ ایڈز خدا کی راہ سے بھٹک جانے والوں کے لیے ایک عذاب ہے۔ شکیل الرحمٰن، پشاور: حکومت ایڈز کے تدارک کے لیے صرف اتنا کر رہی ہے کہ اس نے الیکٹرونک میڈیا پر عیاشی مزید بڑھا دی ہے۔ بلال منیر، لاہور: میں اپنے تمام دوستوں سے کہتا ہوں کہ صرف اپنے شریک حیات تک ہی محدود رہو۔ محمد پرویز اختر، دبئی: خود کو اپنے شریک حیات تک ہی محدود رکھیئے اور صرف کونڈوم کا ہی استعمال کیجیئے۔ صالح احمد، راولپنڈی: مغرب کو اسلام پر یہ اعتراض بھی ہے کہ مرد ایک سے زائد شادیاں کر سکتا ہے۔ اب جبکہ ایڈز بہت تیزی سے پھیل چکا ہے اور سب لوگ اس کی وجوہات سے بھی آگاہ ہیں تو پھر یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ اسلام میں کسی وجہ سے ہی ایک سے زائد شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہو گی۔ شاکر اللہ حمید الدین، پاکستان: ہمیں اپنے شریک حیات تک ہی محدود رہنا چاہیے اور کونڈوم کا استعمال غیر مسلم ممالک کی پالیسی ہے۔ ابرار، واشنگٹن: ایڈز سے بچاؤ کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان جنسی معاملات میں خاصا محتاط رہے۔ بھرت سچدیو، بلوچستان: پاکستان جیسے اسلامی ملک میں ایڈز کا مرض۔۔۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ دشمن ممالک نے میڈیا کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔ حکومت پر تمام ذمہ داری عائد کرنے کی بجائے خود کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اعجاز عباسی، امریکہ: میرے خیال میں ہمیں اپنے مذہب پر کاربند رہنا چاہیے اور میڈیا سے دور رہنا چاہیے جو ہماری ثقافت اور مذہب کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمیں اپنے لوگوں کو تبدیلیِ خون اور پرانے ٹیکے استعمال کرنے کے بارے میں مزید معلومات دینی ہوں گی۔ طاہر احمد، لاہور: میرا خیال ہے کہ ایک تو ہمیں احتیاط برتنی چاہیے اور دوسری بات یہ کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت لوگوں کو ایڈز کی آگہی دینے کے لیے بھرپور مہم کا آغاز کرے۔ مامون رشید، اسلام آباد: ہم اسلامی اصولوں پر کاربند ہو کر ہی ایسی وباؤں سے بچ سکتے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جنسی تعلقات صرف اپنے ہمسفر سے استوار رکھنا ضروری ہیں۔ نامعلوم: ایڈز سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ سب کو اپنے ساتھی تک محدود رہنا چاہیے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: کوریا جاتے ہوئے مجھے ایک بار بنکاک جانے کا اتفاق ہوا۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی ’بیڈ گرلز‘ ہر اجنبی کو روک لیتی ہیں اور برائی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ میرے ساتھ میرا ایک دوست تھا۔ میں نے اسے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی لیکن سیکس چیز ہی ایسی ہے کہ بڑے بڑے ہار مان جاتے ہیں۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں۔۔۔ خدا اس کی مغفرت کرے۔ انعام اللہ، شارجہ: جنسی عمل سے مکمل گریز تقریباً ناممکن ہے۔ مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں زندگی بسر کرنی چاہیے۔ جسپریت سنگھ، پاکستان: میرے خیال میں پاکستان میں ایڈز کی بڑی وجہ غیر محفوظ جنسی عمل نہیں بلکہ ٹیکوں کا بارہا استعمال اور تبدیلیِ خون ہے۔ اگر لوگوں کو اس مرض کے بارہ میں زیادہ سے زیادہ آگہی دینے کی مہم چلائی جائے تو بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ طاہر ریاض، سعودی عرب: میرے خیال میں ایڈز کا واحد حل اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنا ہے نہ کہ کونڈوم استعمال کرنا۔ پاکستان میں ایڈز کی شناخت اور اس کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا فقدان ہے۔ زاہد محمود، لاہور: حکومت اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے کچھ نہیں کرتی۔ لوگ صرف اپنی کرسی کو مضبوط کر رہے ہیں۔ سمی بلوچ، ضلع خاران: میرے خیال میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات استوار نہیں کرنے چاہئیں اور ایسا کرنے والوں کو گولی مار دینی چاہیے۔ غلام مرتضیٰ، گلگت: ایک سے زیادہ ساتھیوں سے جنسی تعلقات استوار رکھنا ایڈز کا باعث بنتا ہے۔ میں وادی ہنزہ میں رہتا ہوں اور یہاں کوئی شخص اس مرض میں مبتلا نہیں ہے۔ شہاب سوری، کویت:
محمد عامر خان، کراچی: ایڈز کے بارے میں لوگوں میں شعور بہت کم ہے۔ ایڈز اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ ہے۔ پاکستان میں اس کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ایک باعثِ تشویش بات ہے۔ جو لوگ جنسی بے راہ روی اور نشہ آوار ادویات سرنج کے ذریعے استعمال کرنے کی وجہ سے اس مرض کا شکار ہوتے وہ تو ایک طرف، ان لوگوں کا کیا قصور ہے جو خون کی منتقلی کی وجہ سے اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کو بلڈ ٹرانسفیوژن میں بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ عمران زاہد، لاہور: عظیم قریشی، ناروے: لال خان، دوبئی: نوید پریول، لاہور، پاکستان: ظہور خان، دوبئی: رحمان رضی، امریکہ: حاجی امداد، امریکہ: شاد خان، ہانگ کانگ: |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||