| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایڈز: حفاظتی ٹیکہ ناکام
ایڈز کے مرض سے بچاؤ کے ممکنہ حفاظتی ٹیکے کی آزمائش میں محققین کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تھائی لینڈ میں ایڈزویکس نامی حفاظتی ٹیکہ تیار کرنے والی کمپنی ’ویکس جین‘ نے کہا ہے اس تجربے کے ابتدائی نتائج ناکام رہے ہیں کیونکہ جن افراد کو یہ تجرباتی ٹیکے لگائے گئے ان کے ایڈز میں مبتلا ہونے کے امکانات میں کوئی کمی نہیں آئی اور نہ ہی ان میں اس مرض کے پھیلاؤ کی رفتار کم ہوئی ہے۔ ویکس جین کے صدر ڈونلڈ فرانسس نے کہا ہے کہ اس تجربے کی ناکامی نے محققین کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ایڈز سے متعلق کامیاب حفاظتی ٹیکہ تیار کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو دگنا کر دیں۔ اگرچہ اس تجربے کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے نہیں آئے لیکن تھائی لینڈ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو یہ ٹیکے لگائے گئے ہیں تاکہ وسیع پیمانے پر اس ٹیکے کے نتائج مرتب کیے جا سکیں اور یوں یہ تجربہ اپنے آخری مراحل میں ہے۔
اس تجرباتی ٹیکے کے کوئی خاص ضمنی اثرات دیکھنے میں نہیں آئے لیکن جنہیں یہ ٹیکے لگائے گئے اور جنہیں یہ ٹیکے نہیں لگائے گئے، ایڈز کے خلاف دونوں طرح کے لوگوں کی قدرتی مدافعت میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ اس تجربے میں بنکاک کے ان ڈھائی ہزار افراد کو شامل کیا گیا جو پہلے سے ٹیکے لگا رہے ہیں۔ ان میں سے نصف تعداد کو تجرباتی دوا سے بھرے ٹیکے لگائے گئے جبکہ نصف کو ’پلاسیبو‘ یعنی ایسے ٹیکے لگائے گئے جن کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ تجربے سے حاصل کردہ اعداد و شمار سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پلاسیبو لینے والے ایک سو پانچ افراد ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہوئے لیکن وہ لوگ جنہیں تجرباتی دوا کے ٹیکے لگائے گئے تھے اور وہ ایچ آئی وی سےمتاثر بھی ہوئے، ان کی تعداد ایک سو چھ تھی۔ اس مطالعے کی بنا پر اب محققین کی تمام تر توجہ افریقہ اور دیگر ممالک میں جاری ایڈز سے تحفظ کے تجربات کی طرف مبذول ہو گی کیونکہ دیگر تجربات اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں البتہ ان کے نتائج سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||