ایڈز: ایشیا خطرے کے نشان پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایڈز کے بارے میں اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تین کروڑ اسی لاکھ افراد ایڈز کے جان لیوا مرض میں مبتلا ہیں۔ ادارے کے اعداد شمار کے مطابق صرف گزشتہ سال ایڈز کے پچاس لاکھ نئے مریض سامنے آئے۔ ایڈز کی بیماری کی دریافت سے اب تک ایک سال میں اتنی بڑی تعداد میں مریض سامنے نہیں آئے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایشیا میں یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ یہ ایک بہت بڑی وبا کی صورت اختیار کر جائے گا۔ ادارے نے خبر دار کیا کہ برے اعظم افریقہ میں صحرائے اعظم کے جنوبی علاقے اور مشرقی یورپ ایچ آئی وی کی وبا کی زد میں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایشیا میں گزشتہ سال ایڈز کے گیارہ لاکھ مریض سامنے آئے جو کسی ایک سال میں سامنے آنے والوں مریضوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ چین، انڈونشیا اور ویتنام میں بھی ایڈز کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ اس علاقے میں دنیا کے ساٹھ فیصد لوگ آباد ہیں اور اس خطے میں ایڈز کے پھیلنے سے پوری دنیا کے لیے مشکالات پیدا ہو سکتی ہیں۔ تھائی لینڈ میں ایڈز سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی رپورٹ میں تعریف کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تھائی لینڈ میں انیس سو اکانوے میں ایک لاکھ چالیس ہزار مریض تھے اور دو ہزار تین میں یہ تعداد صرف اکیس ہزار رہ گئی ہے۔ صحرائے اعظم کے جنوبی علاقوں میں ایڈز کے مریضوں میں کمی ان مریضوں کی اموات کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن ایچ ائی وی سے لوگ اب بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سال دنیا بھر میں تیس لاکھ افراد ایڈز کے مرض سے ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ اس مرض سے بچاؤ کے لیے زیادہ سے زیادہ رقوم فراہم کرنا ہوں گی اور یہ رقم سن دو ہزار تین میں مختص کیے جانے والے پانچ ارب ڈالر سے سن دو ہزار سات تک بیس ارب ڈالر تک بڑھنا ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق اس بیماری سے زیادہ تر نوجوان اور عورتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایڈز وسطی ایشیا، روس، مشرقی یورپ کے علاوہ امریکہ میں بھی پھیل رہی ہے۔ برطانیہ میں دوہزار ایک میں صرف چوبیس ہزار افراد ایڈز میں مبتلا تھے جن کی تعداد دو ہزرا تین میں بڑھ کر بتیس ہزار ہو گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||