| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایڈز کا علاج، بھارتی کمپنی کا کمال
ایک بھارتی دوا ساز کمپنی ’سِپلا‘ کا کہنا ہے وہ ایڈز کی نہایت سستی دوائیں فراہم کر سکتی ہے۔ دواوں کی نامور کثیر الملکی کپمنیاں ایڈز کی ادویات فی مریض سالانہ بارہ ہزار ڈالر کی قیمت پر فراہم کرتی ہیں لیکن ’سپلا‘ کے سربراہ کہتے ہیں کہ ان کی کپمنی یہ ادویات فی مریض صرف ایک سو چالیس ڈالر سالانہ پر فراہم کر سکتی ہے۔ سپلا کے سربراہ ڈاکٹر یوسف حمید نے دو سال قبل برسلز میں ہونے والے یورپی کمیشن کے اجلاس کو یہ کہہ کر حیران کر دیا تھا کہ ان کی کمپنی ایڈز کی ادویا سستے داموں بیچنے کو تیار ہے۔ اس وقت ایک مریض کے لئے دوا کی سالانہ قیمت انہوں نے آٹھ سو ڈالر بتائی تھی۔ اس کے ایک سال بعد انہوں نے اعلان کیا تھا کہ یہ قیمت مزید کم کر کے تین سو ڈالر کی جا سکتی ہے ۔ اور اکتوبر میں سابق امریکی صدر بِل کلنٹن کی ثالثی میں طے ہونے والے اہم معاہدے سے ڈاکٹر حمید کی کوششوں کو مزید مدد ملی ہے۔ کلِنٹن فاؤنڈیشن کے معاہدے کے تحت نو افریقی ممالک کو چار دوا ساز کمپنیاں ’جیبیرِک‘ یعنی یکساں نام سے تیار کی جانے والی دوائیں سستے داموں پر فراہم کریں گی۔ کلنٹن فاؤنڈیشن نے ان کمپنیوں کے دیگر اخراجات کو کم از کم کرنے کے طریقوں پر غور کیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان دواؤں کی قیمت اس لئے کم رکھی جا سکے گی کہ کمپنیوں کو یہ دوائیں فراہم کرنے اور ان کے بارے میں اشتہارات دینے پر سرمایہخرچ نہیں کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر حمید کلنٹن فاؤنڈیشن کے اس معاہدے کو ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں ۔ ان کی اپنی کمپنی ’سِپلا‘ بھارت کی تیسری بڑی دوا ساز کمپنی ہے۔ یہ جینیرک یعنی کمپنی کا اختیار لردہ تجارتی نام نہیں بلکہ دوا کے اصل نام سے جانی جانے والی دوائیں تیار کرتی ہے۔ ڈاکٹر حمید کے والد نے یہ کمپنی انیس سو پینتیس میں قائم کی تھی اور آج یہ آٹھ سو مختلف دوائیں تیار کرتی ہے جن میں سے تقریباً بیس دوائیں ایڈز کے مرض کے لئے ہیں۔ سِپلا ایک سو چالیس ممالک کو ادویا برآمد کرتی ہے۔ کسی اور ملک میں ایجاد کی گئی دوا کو بغیر اجازت تیار بھارت میں جائز ہے بشرط کہ اس کے بنانے کا طریقہ کار مختلف ہو۔ ڈاکٹر حمید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب جینیرک دوا ساز کمپنیاں خاص طور پر جن کا تعلق بھارت سے ہے، دنیا میں زیادہ مقبول ہو رہی ہیں اور ان کو اب شک کی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا۔ ایک عرصے سے یہ بڑی کثیر الملکی کمپنیاں ہمیں بدنام کرنے کی کوششیں کرتی آرہی ہیں لیکن اب ہماری محنت اور ہماری مصنوعات کو بین الاقوامی سطح پر پہچانا جا رہا ہے۔‘ ڈاکٹر حمید کہتے ہیں کہ ایڈز کی ادویہ کو کم قیمتوں پر فراہم کرنے کی ان کی تین سالہ مہم سے بہت فائدہ ہوا ہے۔ ’بڑی کثیر الملکی کمپنیاں اپنی ادویہ کی قیمتیں کم کرنے پر مجبور ہوئی ہیں اور غالباً انہوں نے اس کا اخلاقی پہلو بھی پہچان لیا ہوگا۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ان میں سے بیشتر دوائیں ان کثیر الملکی کمپنیوں کی دریافت نہیں، بلکہ لائسنس پر لی گئی تھیں۔‘ لیکن ڈاکٹر حمید کہتے ہیں کہ محض دواؤں سے پورا مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا۔ ’یہ صرف دواؤں کا ہی مسئلہ نہیں۔ اس میں بہت سی اور چیزیں بھی ہیں مثلاً دیگر ٹیسٹ وغیرہ۔ حکومتوں کو اس پر بھی خاص توجہ دینی ہوگی۔‘ ڈاکٹر حمید کی کمپنی انسٹھ ممالک کو ایڈز کی دوائیں فراہم کر رہی ہے۔ ان میں سے ایک دوا وہ مفت فراہم کرتی ہے جو کہ حملہ کے دوران بچے کو ایڈز لگنے سے روکتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر حمید کہتے ہیں کہ ان کی کپمنی نے کئی ترقی پذیر ممالک کو یہ پیشکش کی ہے کہ وہ انہیں ایڈز کی دوائیں بنانے کی تمام ٹیکنولوجی دیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||