BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 December, 2003, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈز سے بچاؤ کا عالمی منصوبہ
ایڈز
دنیا بھی میں ایڈز اور ایچ آئی وی سے متاثرہ چار کروڑ مریض موجود ہیں۔

ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ تیس لاکھ غریب مریضوں کو بیماری سے بچاؤ اور اس کے علاج کے لئے ادویات مہیا کرنے کے منصوبے کا باضابطہ آغاز کیا ہے۔

اس منصوبے پر، جو پیر کو ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر شروع کیا جارہا ہے، ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہو گی اور اقوام متحدہ کو امید ہے کہ اسے دو سال کے اندر اندر مکمل کر لیا جائے گا۔

اس منصوبے کا بنیادی ہدف غریب ترین ممالک میں موجود ایڈز کے مریض ہوں گے۔

اس وقت دنیا بھر میں ایسے چار کروڑ مریض موجود ہیں جو ایڈز یا ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یا ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر لی جانگ ووک نے کہا ہے کہ اس مرض سے مقابلہ کرنا شاید وہ مشکل ترین ہدف ہے جسے حاصل کرنے کی کوشش دنیا بھر کو کرنی ہے۔

انہوں نے کہا ’کروڑوں لوگوں کی زندگی داؤ پر ہے۔ ہماری حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ ہم ان کروڑوں لوگوں کو زندہ رکھنے کی بھر پور اور غیر روایتی کوشش کریں۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ ان مریضوں میں سے ہر تین میں سے ایک کا تعلق جنوبی افریقہ کے ممالک سے ہے۔ اس مرض کا شکار ہوکر مرنے والے ہر چار میں سے تین افراد بھی ان ہی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہر روز تقریباً چودہ ہزار لوگ اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس برس ایڈز کا شکار ہوکر مرنے والوں کی تعداد تیس لاکھ کے لگ بھگ رہی ہے۔

ایڈز کا عالمی دن
ایڈز کے سب سے زیادہ مریض افریقہ میں ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایڈز سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے اور عالمی ادارۂ صحت کا کہنا تھا کہ یہ مرض اب تک پھیل رہا ہے۔ ان اداروں کا کہنا تھا کہ کئی ممالک اس مرض کے نئے وبائی حملوں کی زد پر ہیں۔

جن ممالک میں یہ مرض بڑھ رہا ہے ان میں چین، بھارت، انڈونیشیا اور روس شامل ہیں جہاں ایچ آئی وی کا مرض غیر محفوظ جنسی تعلقات اور ٹیکے کے ذریعے منشیات کے استعمال کے باعث پھیل رہا ہے۔

اس مرض کا علاج امیر ملکوں میں تو دستیاب ہے لیکن غریب ملکوں میں رہنے والے افراد کو علاج تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد