پاکستان: ایڈز میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اب تک سرکاری طور پر ایڈز کے دو ہزار تین سو مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔ اس بات کا اعلان سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سریچند اوچھانی نے کیا۔ لیکن مختلف بین الاقوامی ایجنسیوں کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی پوزیٹو کیسوں کی تعداد ستر ہزار کے قریب ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر اوچھانی کا کہنا تھا کے صوبے بھر میں جنسی امراض کے پھیلاؤ کے بارے میں ایک سروے شروع کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی ایجنسیوں کے جانب سے اس سلسلے میں فراہم کردہ معلومات کی تحقیقات کی جا سکیں۔ ڈاکٹر اوچھانی کا کہنا تھا کہ اس نئے سروے کے بعد وہ بتا سکیں گے کہ سرکاری طور پر ملک میں کتنے مریض ایچ آیی وی پازیٹو ہیں۔ ایک سروے کے مطابق موجودہ برس مارچ تک ملک بھر سے دو ہزار دو سو ننانوے کیس رپورٹ کئے گئے تھے۔مارچ میں ان کیسوں میں سے چار سو اکیس مریض وفاقی کنٹرول والے قبائلی علاقوں سے تھے، صوبہ پنجاب سے چار سو بہتر، صوبہ سندھ سے سات سو سینتیس ، صوبہ سرحد سے چار سو چالیس اور بلوچستان سے دو سو تین جبکہ آزاد جموں کشمیر سے رپورٹ شدہ کیس صرف چھبیس تھے۔ لیکن اکتوبر کے اختتام پر ان مریضو ں میں مزید نو سو چھہتر کا اضافہ ہوا جن میں سے آٹھ سو چوہتر پر شبہ تھا کہ ان میں ایچ آئی وی کا وائرس موجود ہے جبکہ ایک سو دو تصدیق شدہ کو ایڈز کا مرض لاحق تھا۔ سندھ کے ہیلتھ سیکرٹری پروفیسر نوشاد شیخ کا کہنا تھا کہ ایڈز کے مریضوں کی خدمت پر مامور ہیلتھ ورکر خود اپنے طریقہ کار کے متعلق مکمل معلومات نہیں رکھتے ہیں۔ اس صورتحال میں وہ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ عوام تک جنسی امراض کے متعلق معلومات اور انتقال خون کی احتیاطی تدابیر باقاعدہ طور ہر پہنچ رہی ہیں۔ پروفیسر نوشاد نے تسلیم کیا ہے کہ اس سلسلے میں وزارت صحت کو اپنا کردار مزید فعال بنانا ہوگا تاکہ ایڈز کے خلاف جنگ جاری رکھی جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||