اینٹی بایوٹک سے ایڈز کا اعلاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ افریقہ کے ایڈز سے متاثرہ بچوں کو اینٹی بایوٹک ادویات دینے سے شرحِ اموات نصف ہو گئی ہے۔ زیمبیا میں طبی تحقیقی کونسل پر اس بات کا انکشاف عام طور پر استعمال کیے جانے والےکی افادیت کے بعد ہوا۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسف اس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد دوا سے متعلق اپنے مشوروں میں تبدیلی کر رہی ہیں۔ دنیا بھر میں روزانہ 1300 بچے ایڈز اور اس سے متعلقہ بیماریوں کی بنا پر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیانا گب اور ان کے رفقاء نے زیمبیا میں ایچ آئی وی سے متاثرہ 541 بچوں کا مطالعہ کیا۔ ان بچوں کی عمریں ایک سے چودہ سال کے درمیان تھیں۔ 19 ماہ کے مطالعے کے بعد یہ سامنے آیا کہ ’ٹرائی موکسازول‘ استعمال کرنے والے بچوں میں شرح اموات 25 فیصد تھی جبکہ دوسری دوا استعمال کرنے والے بچوں میں یہی شرح 40 فیصد رہی۔ اس تحقیق سے پہلے اس بات پر سوال اٹھایا گیا تھا کہ آیا کہ جن بچوں کا CD4 کاؤنٹ معمول کے مطابق ہو کیا ان کو بھی ’ٹرائی موکسازول‘ استعمال کروانی چاہیے۔ ڈاکٹر گب نے کہا کہ ’ ایچ آئی وی کے مریض کے لیے عام انفیکشن بھی نہایت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کا مدافعتی نظام بہت کمزور ہوتا ہے۔’ٹرائی موکسازول‘ کے استعمال سے انفیکشن پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے ایچ آئ وی شعبے کی ترجمان نے کہا کہ ’ جب تک کسی ترجمان نے مزید کہا کہ’ یہ تجویز صرف افریقہ کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے ان متاثرہ بچوں کے لیے ہے جنہیں متعلقہ ادویہ میسر نہیں‘۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق’ٹرائی موکسازول‘ دیگر ادویہ کے مقابلے میں نہ صرف سستی ہے بلکہ آسانی سے دستیاب بھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||