| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایڈز سے متعلق نیا ادارہ
اقوام متحدہ نے بیس ممالک پر مشتمل ایک ایسا کمیشن تشکیل دیا ہے جو ایسے غریب ممالک میں جان لیوا بیماری ایڈز سے متعلق پالیسی سازی کے عمل پر کام کرے گا۔ اس کمیشن میں بیشتر ارکان برِاعظم افریقہ سے لیے گئے ہیں جہاں ایڈز اور ایچ۔آئی۔وی وائرس ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایڈز جیسے موضی مرض کے مقابلے کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ یو۔این ایڈز پہلے سے ہی موجود ہے اور بعض لوگوں کو یہ حیرانگی ہو سکتی ہے کہ اسی مقصد کے لیے ایک اور ادارے کے قیام کی آخر کیا ضرورت تھی؟ تاہم اس کمیشن کے قیام کے حامی کہتے ہیں کہ یو۔این ایڈز نامی ادارہ صرف ایڈز پھیلانے والے وائرس اور اس سے متعلقہ طبی اور صحت کے شعبوں میں سرگرم تھا۔ البتہ اس ادارے یا دیگر لوگوں نے کبھی بھی اس جانب توجہ نہیں دی کہ آخر ایڈز سے ایک پورے ملک کے استحکام کو کس طرح خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ قائم شدہ نئے کمیشن کے بیس میں سے چودہ ارکان کمیشن کے کام اور اس کو درپیش مسائل پر پہلی مرتبہ تبادلہ خیال کے لیے ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں جمع ہو رہے ہیں۔ ان ارکان کا کہنا ہے کہ پہلے اجلاس کا مقصد محض تیار شدہ منصوبے کو ہی منظر عام پر لانا نہیں ہے بلکہ کمیشن کے ارکان اپنے کام کو بہت ہی سنجیدگی سے لے رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ایڈز کا معاملہ افریقہ کو اس وقت درپیش سنگین ترین مسئلہ ہے۔ یہ بھی خیال ہے کہ کمیشن کے اراکین ان موضوعات اور شعبوں کی نشاندہی کریں گے جن پر دو برس میں مفصل تحقیقات کے بعد پالیسی سفارشات تیار کی جائیں گی جو برِاعظم افریقہ کے ممالک کی حکومتوں کو پیش کی جائیں گی۔ ایڈز کا مسئلہ صرف افریقہ تک ہی محدود نہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کا زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ ادویات کی کمی کے ساتھ ساتھ ان ممالک کو ایڈز اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ایک اور بڑی دشواری یہ بھی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ان ممالک سے خاصی بڑی تعداد میں تربیت یافتہ عملہ نقل مکانی کر جاتا ہے۔ ہندوستان سے پچھلے ماہ بیس ہزار کی تعداد میں نرسیں امریکہ کے اسپتالوں میں کام کرنے گئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |