ایڈز کانفرنس: عمل سے محروم منصوبے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیسے جیسے وفود بنکاک کی گرمی سے نمٹتے ہوئے پروازیں لے کر دنیا کے مختلف کونوں میں پھیلنے کے لیے تیار ہو رہے تھے کانفرنس اور اس کی کامیابی کے بارے میں تجزیے بھی ہونا شروع ہو چکے تھے۔ فیصلہ توتاریخ کرے گی مگر اس طرح کے اجلاس اس لیے اہم ہوتے ہیں کہ ان میں آنے والے وقت کے لیے ایجنڈا یا مقاصد کا تعین کیا جاتا ہے۔ چھ دنوں کی بحث میں جس اہم موضوع کا زیادہ ذکر ہوا وہ قیادت تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے یہ کہہ کر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ”ایڈز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی یک جہتی نہیں ہے”۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر خرچ کی جانے والی رقم کا ان فنڈز کے ساتھ موازنہ کیا جو ایڈز کے خلاف لڑائی کے لیے دیے جاتے ہیں۔ بنکاک کانفرنس کا عملی نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایڈز سے لڑنے کے لیے حکومتیں قریبی تعلقات قائم کریں اور غیر سرکاری ادارے نچلی سطح پر مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر اس مرض کے خلاف لڑیں لیکن اس طرح کے بیانات تو پہلے بھی دیے جاتے رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ تمام مالک بشمول امریکہ اور یورپ بھی اسے سیاسی ایجنڈا بنایا جائے۔ برطانیہ اس سلسلے میں اپنی قیادت کا مظاہرہ اگلے ہفتے کرے گا جب ایڈز کے خلاف اس کی حکمت عملی کا اعلان ہوگا۔
اس کانفرنس کی شاید سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ایشیا کو ایڈز کے نقشے پر نمایاں کر دیا ہے۔ ہزاروں صحافیوں نے یہ لکھا کہ اگر اس مسئلے پر جلد کارروائی نہیں کی گئی تو جنوبی افریقہ کی طرح کی یہ وباء ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ایشیا کے گھنی آبادی والے دو ممالک چین اور بھارت میں اس کا انفکشن بہت تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ ایڈز کی ادویات یا ویکسین کے حوالے سے سائنسی میدان میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی اس لیے زیادہ تر سائنسدانوں نے کانفرنس میں شرکت گوارہ نہیں کی۔ لیکن پہلی دفہ اس کانفرنس میں خواتین کے لیے جیلی نما دوا کا ذکر ہوا جو انہیں اس وائرس سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اس مرض کا زیادہ سے زیادہ شکار خواتین ہو رہی ہیں اس لیے کہ ان کے مرد ساتھی اکثر کنڈوم کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔ گو پچھلے کچھ سالوں میں ایڈز کی دواؤں کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لیکن اب بھی وہ غریب ملکوں کےلاکھوں مریضوں کی پہنچ سے دور ہیں۔ کیمیائی ناموں کے ساتھ دستیاب ہونے والی دوائیں بنانے والی کمپنیاں جو سستی ادویات بناتی تھیں اب اپنے مفادات کے تحفظ کے طریقے ڈھونڈ رہی ہیں۔
امریکہ جیسے ملک جو کئی بلین ڈالرایڈز کے خلاف صرف کرتا ہے اب ان پروگراموں پر توجہ دی جا رہی ہے جو شادی سے پہلے جنسی تعلقات کے خلاف ہیں۔ اور اسی وجہ سے امریکی اب خود فنڈز بانٹنا چاہیں گے۔ ایڈز پر اگلا اجلاس کینیڈا میں ہوگا۔ بنکاک میں ہونے والی پیش رفت کو عملی شکل دینے کی یقین دہانی نہ ہونے کی وجہ سے ماہرین دوبارہ جمع ہوں گے تو اس وقت تک دنیا میں تقریباً دس ملین اور لوگ ایڈز اور ایچ آئی وی کا شکار ہو چکے ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||