BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 July, 2004, 21:08 GMT 02:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایڈز کی سستی ادویات بھی موثر
ایڈز
ایڈز وائرس
ڈاکٹروں نے پہلی بار کہا ہے کہ ایڈز کے لیے جنرک یعنی کیمیائی بنیادوں پر رکھے جانے والے ناموں کے ساتھ تیار کی جانے والی سستی دوائیں بھی بااثر اور محفوظ ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے ترقی پذیر دنیا میں ایڈز پر قابو پانے کے لیے ان جنرک یا دواؤں کو بھی یکساں تجویز کرتے ہیں۔

مختلف نقادوں کا کہنا ہے کے یہ دوائیں اتنی با اثر نہیں ہیں جتنی مغربی ممالک میں استعمال کی جانے والی دوسری مہنگی دوائیں ہیں۔ لیکن یونیورسٹی آف مونٹپلیر کے ماہرین نے ان خدشات کو بے بنیادقرار دیتے ہیں۔

جنرک دوائیں بھی اسی طرح ہیں جیسی کہ برانڈڈ ناموں والی دوائیں۔ یہ سستی ہیں اور پیٹنٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی بازار میں فروخت کی جا سکتی ہیں۔

پروفیسر ڈیلاپورٹ اور ان کے ساتھیوں نے افریقہ میں زیادہ استعمال کی جانے والی تین دواؤں کے امتزاج پر تحقیق کی ہے جو بھارت میں بنائی جاتی ہیں۔ انہوں نے تین دواؤں کے امتزاج والی دوائیں کیمرون میں ایڈز کے ساٹھ مریضوں کو چھ ماہ تک دیں اور اسے محفوظ اور با اثر پایا۔ چھ ماہ بعد اسی فیصد مریضوں کے خون میں وائرس نہیں تھا جس سے دوائی کی کامیابی کا پتہ چلتا ہے۔

پروفیسر ڈیلاپورٹ نے ’لینسٹ‘ میں لکھا سستی ہونے کے علاوہ خاص مقدار والی کیمیائی ناموں والی دواؤں کے استعمال بھی آسان ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ترقی پذیر نیا میں ساٹھ لاکھ لوگوں کو رٹرووائرل دواؤں کی ضرورت ہے لیکن ان میں سے تین لاکھ سے بھی کم لوگ انہیں خریدنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سن دو ہزار تین میں عالمی ادارے نےسن دو ہزار پانچ تک دواؤں کو سستا کرنے اور آسانی سے مہیا کرنے کے لیے ایک نئی حمکت عملی شروع کی جسے ’5X3‘ کہا جاتا ہے۔

بعض دوا ساز کمپنیوں کی اجارہ داری کی وجہ سے شاید جنرک دواساز ادارے بیماری سے بچاؤ کی تمام دوائیں نہیں بنا سکیں گے اور ہو سکتا ہے کہ مریضوں کے لیے دوا کے حصول میں یہ ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ ایسی دواؤں کے لیے پیسے نہیں دیتا جوخوراک اور ادویات کے ادارے نے منظور نہ کی ہوں۔ عالمی ادارے نے دواؤں کے معیار کی تصدیق کے لیے ایک سکیم شروع کی ہے لیکن امریکہ اس کو نہیں مانتا۔

جنرک ادویات کے سستا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مختلف ممالک حکومتی سطح پران کو زیادہ خریدیں لیکن یہ تب ممکن ہے جب ان کے پاس فنڈز ہونگے۔

نیشنل ایڈز مینول کے کیتھ الکورن کا کہنا ہے کہ ’یہ افسوس کی بات ہے کہ ہم جنرک دواؤں کے با اثر ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں تحقیقات پر بحث کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا کام ہی امریکہ کے مفادات کا تحفظ ہے‘۔

ٹیرنس ہگنز ٹرسٹ کی لزا پاور کا کہنا ہے کہ ’اس میں حیرانگی کی بات نہیں کہ اچھے دواساز اداروں کی بنائی ہوئی جنرک دوائیں اسی معیار کی ہوتی ہیں جیسی کہ برانڈڈ دوائیں۔ اصل مسئلہ جعلی دواؤں کا ہے کیونکہ ان کا وہ معیار نہیں ہوگا جو دوسری دواؤں کا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جب ایک دوا کے پیٹنٹ کی مدت ختم ہو جائے تو پھر کسی اچھے دواساز ادارے کی جنرک دوا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد