BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 December, 2003, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایچ آئی وی پر بالی وڈ سٹائل فلم

کرمجیت
یہ فلم اب بنگلہ دیش، ہندوستان اور پاکستان میں گاؤں گاؤں میں دکھائی جائے گی۔

ایشیا میں ایچ آئی وی انفیکشن سے مثاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے خدشے کے پیش نظر برمنگھم کی ایک ہیلتھ ورکر نے ایک مختصر بالی وڈ فلم بنائی ہے۔

کرمجیت بالاگن کی اس فلم کو اب بنگلہ دیش، ہندوستان اور پاکستان میں گاؤں گاؤں میں دکھایا جائے گا۔

’اک پل‘ نامی اس فلم میں ایک شادی شدہ ہندوستانی آدمی کی کہانی بیان کی گئی ہے جسے اچانک اس بات کا پتا چلتا ہے کہ وہ ایچ آئی وائرس سے متاثر ہو چکا ہے۔

فلم میں شرم کے اس احساس کو بھی پیش کیا گیا ہے جس سے ایچ آئی وی کا حامل شخص اور اس کا خاندان گزرتا ہے۔

بالی وڈ کے مخصوص روایت کے مطابق ’اک پل‘ فلم میں محبت، المیہ اور احساں گناہ کی یہ کہانی موسیقی کے ذریعے بیان کی جاتی ہے۔

کرمجیت کا کہنا ہے کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت حیرانگی ہوئی کہ برمنگھم میں رہنے والی ایشیائی برادری بھی ایچ آئی وی خطرات کے بارے میں بے خبر ہے۔

’ہمارے فلم بنانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ایشیائی کسی طور بھی ایچ آئی وی یا ایڈز کو اپنے لیے ایک خطرہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ وہ نہیں سمجھتے تھے وہ ایچ آئی وی سے متاثر ہو سکتے ہیں اور مجھے ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو ایشیائی برادری میں بھی ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی وہی شرح ہو جائے جو افریقہ میں دیکھی جا رہی ہے۔‘

’ہندوستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے فوری کارروائی کی ضرورت اور بڑھ گئی ہے۔‘

کرمجیت کے مطابق ایشیائی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ایچ ائی وی/ ایڈز سے وہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

جب کانفرنسیں، اشتہاربازی اور اجلاس مقامی آبادی، خاص طور پر خواتین، کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے تو کرمجیت نے فیصلہ کیا کہ وہ فلم کے ذریعے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچائیں گی۔

انہوں نے فیصلہ کیا کہ لوگوں گی اپنا پیغام پہنچانے کی بہترین طریقہ یہ ہے کہ فلم کی کہانی ہندوستان سے لی جائے۔

بالی وڈ کی فلم نگری کے بڑے بڑے نام ’اک پل‘ میں کام کر رہے ہیں اور تمام اداکاروں نے اس نیک مقصد کے لئے اپنی خدمات مفت پیش کی ہیں۔

بالی وڈ کے مشہور گلوکار کمار سانو نے اس فلم میں آواز کا جادو جگایا ہے۔

اگرچہ فلم کا موضوع خاصا متنازع ہے لیکن فلم اس لیے کامیاب ہوئی اور سب نے اسے دیکھنا پسند کیا کیونکہ اس کے پیغام کو کمیونٹی کے رہنماؤں کی تائید حاصل ہے۔

’سب لوگ فلم دیکھ رہے ہیں اور ہمیں اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں آسانی ہو رہی ہے۔ لیکن جب تک ہم ایچ آئی وی کے بارے میں اپنا رویہ ٹھیک نہیں کرتے، لوگ اس کے پیغام پر کوئی خاص توجہ نہیں دیں گے۔‘

بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد