400 بچوں کوایڈز منتقل،سزائے موت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبیا نے ایک فلسطینی ڈاکٹر اور بلغاریہ کے چھ طبی معاونین کو چار سو بچوں میں ایڈز کی منتقلی کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان افراد نے ایڈز کے علاج کی تحقیق میں ان مریضوں کی جان سے کھیلنے کی کوشش کی ہے۔ اور ان ساتوں افراد کو سزائے موت دی جانی چاہیے۔ بنغازی میں کام کرنے والے ان طبی معاونین کو پانچ برس قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ بلغاریہ کی حکومت جو ان افراد کی رہائی کی ممکنہ کوششوں میں لگی ہے لیبیائی عدالت کے اس فیصلے کو ’غیر منصفانہ اور لایعنی ‘ قرار دے رہی ہے۔ لیبیا کی عدالت کے مطابق ایک فلسطینی ڈاکٹر سمیت یہ ساتوں افراد چالیس بچوں کی موت اور چار سو میں ایڈز کے جراثیم کی منتقلی میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ جس ہسپتال میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اس کے عملے کے نو لیبیائی نژاد افراد کو نوکری سے فارغ کردیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||