BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 May, 2004, 14:05 GMT 19:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
400 بچوں کوایڈز منتقل،سزائے موت
لیبیا
ماہرین کے مطابق وجہ طبی معاونین نہیں صفائی کے ناقص انتظامات ہیں
لیبیا نے ایک فلسطینی ڈاکٹر اور بلغاریہ کے چھ طبی معاونین کو چار سو بچوں میں ایڈز کی منتقلی کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان افراد نے ایڈز کے علاج کی تحقیق میں ان مریضوں کی جان سے کھیلنے کی کوشش کی ہے۔ اور ان ساتوں افراد کو سزائے موت دی جانی چاہیے۔

بنغازی میں کام کرنے والے ان طبی معاونین کو پانچ برس قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

بلغاریہ کی حکومت جو ان افراد کی رہائی کی ممکنہ کوششوں میں لگی ہے لیبیائی عدالت کے اس فیصلے کو ’غیر منصفانہ اور لایعنی ‘ قرار دے رہی ہے۔

لیبیا کی عدالت کے مطابق ایک فلسطینی ڈاکٹر سمیت یہ ساتوں افراد چالیس بچوں کی موت اور چار سو میں ایڈز کے جراثیم کی منتقلی میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ جس ہسپتال میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اس کے عملے کے نو لیبیائی نژاد افراد کو نوکری سے فارغ کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد