| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
موت کے ہرکارے
بھارت کی شاہراہیں جو ملک کی ترقی میں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں اب ملک میں ایڈز پھیلنےکا بھی ایک بڑا ذریعہ بنتی جارہی ہیں۔ ان سڑکوں پر ٹرکوں کو رواں دواں رکھنے والے ڈرائیور ملک کے کونے کونے میں تجارتی مال کے ساتھ ساتھ ایڈز کے جراثیم بھی پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں اور اس مہلک بیماری کے خلاف کام کرنے والوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ یہ ٹرک ڈرائیور جو مہینوں تک گھروں سے دور رہتے ہیں اپنے سفر کے دوران بہت سے ایسے علاقوں سے گزرتے ہیں جہاں غربت کی وجہ سے جسم فروشی عام ہے۔ راجھستان سے دہلی کے راستے میں واقع ایک بدنصیب گاؤں بڑاسندری ہے۔ اس گاؤں میں پچھلے پچاس سالوں میں پیدا ہونے والی ہر لڑکی کو جسم فروشی پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ اس گاؤں کے مرد دربار میں ملازمت کیا کرتے تھے لیکن ملک میں سیاسی تبدیلی کے باعث آزاد ریاستوں کے ختم ہوجانے کےبعد یہ بے روزگار ہو گئے اور معاشی طور پر عورتوں پر انحصار کرنے لگے۔ کویتا بھی اس گاؤں میں جسم فروشی کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ایڈز کے بارے میں بہت اچھی طرح جانتی ہے۔ لیکن ہر روز اس کو یہ خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ اس کے بزرگوں نے اس کو اس کام پر مجبور کر دیا ہے اور وہ لوگوں سے سوائے احتیاط کرنے کی درخواست کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی۔ لیکن ٹرک ڈرائیور اس بات کا بالکل خیال نہیں کرتے اور یہ ڈرائیور جو بہت دنوں سے اپنے گھروں سے دور ہوتے ہیں شراب پی کر بالکل پاگل ہوجاتے ہیں۔ وجے کمار جو ایک ٹرک ڈرائیور ہے ہر روز کم سے کم تین مرتبہ قحبہ خانوں میں جاتا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ ایڈز کی بیماری کے بارے میں جانتا ہے اور اس کے گاؤں میں ایک لڑکا اس بیماری سے مرا بھی ہے لیکن پھر بھی وہ احتیاط نہیں کرتا۔ اس کا کہنا ہے کہ جب وہ شراب پی لیتا ہے تو وہ ہر چیز سے غافل ہو جاتا ہے۔ ہیلدی ہائی ویز (صحت افزا شاہراہیں) نامی ایک تنظیم ٹرک ڈرائیور کو اس بیماری کے بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ گشتی تھیٹروں کے ذریعے اس بیماری کے بارے میں بیداری پیدا کر رہی ہے۔ تاہم کئی علاقوں میں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔ بڈگاؤں کا شمار بھی انہیں میں ہوتا ہے۔ بڈگاؤں میں تقریباً ہر گھر میں کم سے کم ایک فرد اس بیماری میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو چکا ہے۔ اس گاؤں میں جسم فروشی کا کام کرنے والی عورتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اس بیماری کے بارے میں جانتی تو ہوں گی لیکن غربت کی وجہ سے وہ اس قابل نہیں کہ کوئی شرط عائد کر سکیں۔ اور ان کو وہی کرنا پڑتا ہے جو پیسہ دینے والا کہتا ہے خواہ اس سے ان کی جان کو خطرہ ہی کیوں نہ لاحق ہو جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||