ختنوں سے ایڈز کا خطرہ کم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں کی جانے والی نئی سائنسی تحقیق کے مطابق ختنوں سے مردوں میں ایڈز کے خطرات چھ گُنا کم ہو جاتے ہیں۔ طبی سائنس کے رسالے دی لانسٹ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ جن مردوں کے ختنے نہیں ہوئے ہوتے ان کے عضو تناسل کے اگلے حصے کی جلد کے ایچ آئی وے انفیکشن سے متاثر ہونے کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں دو ہزار مردوں پر کی جانے والی تازہ ترین تحقیق ماضی میں افریقہ میں ہونے والی اسی نوعیت کی تحقیق کے نتائج کی تصدیق کرتی ہے۔ اس تحقیق کو مکمل کرنے والے ماہرین کے مطابق ختنوں سے صرف ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کے خطرات کم ہوتے ہیں جبکہ جنسی عمل سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں پر ختنوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جب افریقہ میں پہلی مرتبہ ایڈز کا مرض پھیلنا شروع ہوا تو یہ بات سامنے آئی کہ ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد براعظم کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں مغربی حصے کی نسبت زیادہ ہے۔ اس مرحلے پربعض تحقیق کاروں کا خیال تھا کہ مختلف شرع سے ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ ان علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے جنسی رویے ہیں۔ لیکن کچھ سائنسدانوں کے خیال میں اس کی بنیادی وجہ افریقہ کے مغربی حصوں میں بسنے والے لوگوں میں ختنے کرانے کا زیادہ رحجان ہے۔ ہندوستان میں ہونے والی تازہ ترین میں بھی انہیں نتائج کی تصدیق کی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||