| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مذہبوں کے درمیان مکالمہ کیوں؟
یوں تو مذاہب کے درمیان مکالمے کی روایت بہت پرانی ہے اور اس سلسلے میں پہلی باقاعدہ کوشش کی مثال اٹھارہ سو ترانوے میں ملتی ہے لیکن پچھلے دس برسوں میں پہلے امریکی دانشور سموئیول ہنٹنگٹن کی تہذیبوں کے درمیان ٹکراؤ کی تھیوری اور پھر ایرانی صدر محمد خاتمی کی طرف سے اس کے مقابلے میں تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا تصور پیش کئے جانے کے بعد اس تحریک کو ایک نئی زندگی مل گئی۔
اس کے پیچھے خیال یہی کارفرما ہے کہ دنیا کے تین بڑے مذاہب کا آغاز ایک ہی سرزمین سے ہوا اور ان میں بہت کچھ مشترک بھی ہے لہذا ان کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی بہت ضرورت ہے۔ تاریخ میں جہاں صلیبی جنگوں کی صورت میں اسلام اور عیسائیت کے درمیان بڑا تنازعہ سامنے آتا ہے وہیں انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات کو اسلام اور یہودیت کے درمیان جھگڑے کا رنگ بھی دیا جاتا ہے۔ تاہم قدرے اصلاح پسند مذہبی رہنماؤں نے اس طرح کے مکالمے کی تحریک کی حوصلہ افزائی کی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مختلف اسلامی ممالک میں جاری تنازعات کی وجہ سے ان ممالک میں باہمی مکالمے کی ایسی تحریکوں کے لئے کوئی خاص حمایت موجود نہیں۔ پاکستان کے جماعت اسلامی کے ایک رہنما ڈاکٹر منور حسن کا کہنا ہے کہ مکالمے کی اہمیت اپنی جگہ پر لیکن جب مسلمانوں کو مسلسل ظلم کا نشانہ بنایا جائے تو وہ ایسی تحریکوں میں بھر پور حصہ کیسے لے سکتے ہیں۔
ڈاکٹر منور کا یہ بھی خیال ہے کہ اسلام کے ساتھ زیادہ تر تنازعات کی ایک اور وجہ ریاست اور مذہب کو جدا کرنا بھی ہے لیکن اس ہی مسئلے پر لاہور کے ایک صحافی اور تجزیہ نگار خالد احمد کا کہنا ہے کہ دانشوروں کو چھوڑ کر باقی زیادہ تر مسلمانوں کے ذہنوں میں اس طرح کے مکالمے کی گنجائش اس لئیے بھی بہت کم ہے کیونکہ روایت پسند مذہبی علما قرآن کی تشریح میں عیسائیوں اور یہودیوں کو دشمن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ ساری بحث اپنی جگہ پر لیکن عراق پر جنگ اور عمومی طور عالمی سیاست میں تبدیلیوں کی بعد اب اسلامی ممالک سے بھی ایسی آوازیں آنی شروع ہوگئی ہیں کہ معاملات مکالمے سے ہی حل ہونگے۔ کیا آپ اس مضمون سے اتفاق کرتے ہیں یا اختلاف؟ کیا ویٹیکن چرچ کی مذاہب کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے لئے مکالمے کی کوششیں ایک مثبت اقدام ہیں؟ اس پر اپنی رائے ہمیں لکھ بھیجیں۔ نسیم، جھنگ، پاکستان: مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان تو تمام نبیوں کو مانتے ہیں، لیکن ان کے نبی کو کوئی نہیں مانتا۔ مکالمے کو تب ہی کامیابی حاصل ہوگی جب کوئی آپ کو تسلیم کرے گا۔ کوئی بھی اللہ اور نبی کو ماننے کے بعد تو ویسے بھی ہم مسلمانوں کے لئے قابلِ احترام ہو جاتا ہے۔ پہلے ہمیں تسلیم کرنا ہوگا پھر دوریاں دور ہوں گی۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: ہمارے مذہب میں ہر چیز کو اتنی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ اوائلِ اسلام سے ہی رسولِ پاک کا فرمان تھا کہ سب کی طرف صلح و محبت کا ہاتھ بڑھایا جائے اور اس کی مثال قریب کے ممالک کی طرف اپنے وفود بھیج کر پیش کی گئی تو وہی مکالمہ اب کیوں نہیں ہوسکتا۔ یقین رکھیں کہ اس کے نتائج بہت دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔ بات صرف یقین رکھنے اور یہ سوچنے کی ہے کہ ان تین تین بڑے مذاہب کی پیدائش ایک ہی سرزمین سے ہے۔ جب مٹی ایک ہے تو امید اچھی اور ایک ہی طرح کی کیوں نہیں ہو سکتی۔ رشید احمد، پاکستان: جی ہاں مکالمہ ہونا چاہئے، یہ بہت اہم ہے۔ منیر احمد، راجن پور، پاکستان: میں اس کے حق میں ہوں اور یہ اہم ہے لیکن ماحول سازگار بنانا ہوگا جس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کو انصاف ملے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||