 |  محمد عارف (بائیں) کو دوسرے جنگی قیدیوں کے ہمراہ پچھلے ماہ رہا کیا گیا تھا۔ |
پاکستان کی جیل سے رہائی پانے والا بھارتی جنگی قیدی محمد عارف پانچ سال بعد واپس ہندوستان پہنچا تو اسے پتہ چلا کہ اس بیوی کی دوسری شادی ہو چکی ہے اور وہ حاملہ ہے۔ محمد عارف اور جگسیر سنگھ سیاچن کے علاقے میں گرفتار کیے گئے تھےاور بھارت نے انہیں بھگوڑا قرار دے دیا تھا۔ بھارتی فوج کی ڈیبریفنگ کے بعد محمد عارف نے گاؤں کی پنچایت کے ذریعے اپنی بیوی کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کی اور پنچائیت نے محمد عارف کے حق میں فیصلہ دے دیا کیونکہ اس نے بیوی کو طلاق نہیں دی تھی۔ تاہم محمد عارف اپنی بیوی کو قبول کرنے کے لیے تو تیار ہے مگر اس کی کوکھ میں موجود بچے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جبکہ اس کی بیوی کے دوسرے شوہر نے بیوی کے بغیر بچے کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا محمد عارف کو بیوی اور بچے دونوں کو قبول کرنا چاہیے یا اس کا مؤقف درست ہے؟ کیا عارف کی بیوی کے دوسرے شوہر کا مؤقف درست ہے؟ کیا آپ نے کبھی ایسی یا اس سے ملتی جلتی کوئی کہانی سنی ہے؟ اگر آپ اس طرح کی صورتِ حال میں ہوتے تو کیا کرتے؟ اب یہ فورم بند کر دیا گیا ہے اور قارئین کی رائے نیچے درج ہے۔
احمد حمید، افغانستان: عارف کو اپنی بیوی کو فوری طور پر طلاق دے کر اسے اپنے دوسرے شوہر اور بچے کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے دینا چاہیے۔کاشف خان، پاکستان: اسے دونوں کو قبول کرنا چاہیے۔ مصطفیٰ کردامی، کویت: تینوں کو علمائے دین سے رجوع کرکے قرآن و شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے نہ کہ پنچایت یا کسی دوسرے کے فیصلے پر چلنا۔ نجیب الرحمان، چین: عارف کو اپنی سابق بیوی کو حق دینا چاہیے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ عارف اس کا ماضی ہے جب کہ دوسرا شوہر اس کا حال، اس سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کس زندگی میں خوش ہے۔ محمد سلیم، جھنگ، پاکستان: عارف کو اگر قبول کرنا ہے تو پھر دونوں کو قبول کرے ورنہ کسی کو بھی نہیں۔ اگر میری بیوی کسی دوسرے شخص کے ساتھ خوش ہوتی تو میں کبھی بھی اس سے واپسی کا مطالبہ نہ کرتا۔ سیدعابد علی، شکاگو، امریکہ: عارف کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے کیونکہ ان کی بیوی نے ایک سال تک ان کا انتظار کیا اور پھر سب لوگوں کے سامنے دوسری شادی کی۔ عارف کو بھی چاہیے کہ وہ اب اپنی نئی زندگی کا آغاز کرے۔ فہیم وانی، کراچی، پاکستان: ایسے مسائل کا حل شریعت میں عموماً موجود ہوتا ہے۔ عارف کو چاہیے کہ وہ ہر نتھو خیرا کو نہ سنے بلکہ کسی مفتی سے مسئلہ کا حل پوچھے۔ عمر خان، فلاڈلفیا، امریکہ: عارف کو اپنی بیوی کی رائے کا احترام کتنا چاہیے۔ عمران ملک، اسلام آباد، پاکستان: اس مسئلہ کا بہت آسان حل موجود ہے کیونکہ عارف کی بیوی بھی ایک انسان ہے جو اپنی رائے رکھ سکتی ہے۔ راجو خان، کراچی، پاکستان: سٹار پلس والوں سے پوچھیں۔ سناء خان، کراچی، پاکستان: عارف کو اب اپنی بیوی کی زندگی میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ شمیلہ شیلی، پاکستان : میرا خیال ہے عارف کا مطالبہ بالکل غلط ہہ اوروہ خود غرضی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عارف عباس، جڑانوالہ، پاکستان: اگر محمد عارف کا اپنی بیوی سے کوئی بچہ نہیں ہے تو پھر اس کی بیوی کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ ہی رہنا چاہیے۔ اور اگر بچہ ہے تو پھراس کی بیوی کو اپنے موجودہ شوہر سے طلاق لے کر واپس عارف کے ساتھ آ جانا چاہیے۔ اس صورت میں عارف کو اسے بچے کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ عمران فیصل، کینیڈا: بیوی کا کوئی قصور نہیں کیونکہ اس نے دوسری شادی اس وقت کی جب اس کو عارف کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔ عبیدالرحمٰن، متحدہ عرب امارات: اسلامی قانون کے مطابق اگر شوہر تین سال بغیر اطلاع کے غائب رہے تو بیوی دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ انجینئرظہور چیمہ، مانٹریال، کینیڈا: اگر اس نے دوسری شادی کرنے سے پہلے عارف سے طلاق نہیں لی تھی تو پھر اس کی دوسری شادی بالکل حرام ہے۔ آصف خان، متحدہ عرب امارات: عارف کا موقف بالکل درست ہے۔ دوسرے شوہر کو چاہیے کہ وہ بچے کی ذمہ داری لے بلکہ وہ لوگ بھی اس کی ذمہ داری لیں جنھوں نے عارف کی بیوی کی دوسری شادی کرائی تھی۔ ارمان خان،ایمسٹرڈیم، ہالینڈ: میرے خیال میں عارف کو اپنی بیوی اور اس کا بچہ دوسرے شخص کے پاس ہی رہنے دینا چاہیے اور خود کسی دوسری عورت سے شادی کرنی چاہیے۔ علی رضا، ممبئی: محمد عارف کو بیوی کو چھوڑ دینا چاہیے اور اسے محفوظ زندگی گزارنے دینی چاہیے کیونکہ اسے دوسرے شوہر نے پوری طرح قبول کر لیا ہے۔ اس لیے دوسرا شوہر ایک اچھا انسان ہے۔ شاہد عزیز، سیالکوٹ: عارف کی بیوی سے اس کی منشا جاننی چاہیے۔ اگر وہ عارف کے ساتھ جانا چاہے تو عارف کو بیوی اور بچے دونوں کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہیے۔  | پاک حکومت قصور وار ہے  سب سے زیادہ قصور وار حکومت پاکستان ہے جس نے چھ برس ایک آدمی کو حراست میں رکھا۔  حسن عسکری، پاکستان |
حسن عسکری، پاکستان: نیا اور پرانا شوہر اور بیوی بچے سب ہی بے قصور ہیں۔ اب کسی ایک کو قربانی دینی ہے اس لیے بہتر ہے کہ عارف صاحب قربانی دی دیں۔ دوسری کسی صورت میں چاروں کو اذیت سے گزرنا پڑے گا۔ البتہ سب سے زیادہ قصور وار حکومت پاکستان ہے جس نے چھ برس ایک آدمی کو حراست میں رکھا لیکن متعلقہ حکام کو مطلع نہیں کیا۔ یہ اسلام اور انسانی حقوق دونوں کی خلاف ورزی ہے۔ ساجد امجد، دبئی: بہتر یہ ہے کہ عارف اپنی بیوی کو طلاق دے اور عدت گزرنے کے بعد بیوی موجودہ شوہر سے نکاح کر لے۔ محمد رفیق جان قریشی، حیدر آباد: عارف ایک لالچی اور خود غرض انسان ہے اور اپنی بیوی سے انتقام لینے اور دوسرے شوہر سے رقم وصول کرنا چاہتا ہے ورنہ اسے اپنی بیوی کو فوری طلاق دے کر آزاد کر دینا چاہیے تھا یا بیوی ہی کو فیصلے کا حق دینا چاہیے تھا۔ شاہد ملک، مونٹریال: آپ کو کسی کے ذاتی مسئلے کو اس طرح مزید الجھانے کا کوئی حق نہیں۔ مہربانی کر کے ایسے معاملے کو صرف خبر تک ہی رکھا کریں۔ لوگوں کی رائے لینے کے بہانے کسی کو معشارے میں مزید بدنانیا شرمندہ نہ کیا کریں۔ رفیع، اسلام آباد: اگر انسان ہے تو اپنا لے اور اگر فوجی ہے تو چھوڑ دے۔ عبدالرؤف، ریاض: بیوی کو پہلے شوہر سے طلاق لے کر دوسرے سے نکاح کرنا چاہیے تھا اور اس سے بچے کا مستقبل روشن ہو سکتا تھا۔ خاتون نے غلطی کی۔ نامعلوم: محمد عارف فوجی نہ بن انسان بن۔ ناصر، اسلام آباد: محمد عارف کو اپنے جذبات کی قربانی دے کر ان کو خوش رہنے دینا چاہیے اور یہی اس کے لیے بہتر قدم بھی ہو گا۔ اختر محمد کلیم، انڈیا: محمد عارف کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو بچے کے ساتھ قبول کر لے۔ محمد عثمان الحق، لاہور: عارف بہت عرصہ گھر سے دور رہا اس لیے ا کی بیوی کو دوسری شادی کا حق حاصل ہے۔ اس لیے اب اسے بیوی کی رضامندی پوچھنی چاہیے اور بیوی کی مرضی کی صورت میں بچے کو بھی قبول کر لے۔ اگر وہ بچہ قبول نہیں کرنا چاہتا تو بیوی کو دوسرے شوہر کے ساتھ ہی زندگی گزارنے دے اور خود دوسری شادی کرلے۔ غلام مصطفیٰ راجہ، پاکستان: محمد عارف کو بیوی ملنی چاہیے نہ کہ بچہ۔ شبیر، ایبٹ آباد: محمد عارف کو طلاق دے دینی چاہیے اور کسی دوسری لڑکی سے شادی کر لینی چاہیے۔ طلاق اس لیے دینی چاہیے کہ بیوی نے اب لا علمی میں دوسرے آدمی سے شادی کر لی ہے۔ صائمہ غفور، اسلام آباد، پاکستان: اس کی کیا ضمانت ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے، بیوی کے دوبارہ اس کے گھر آکر بسنے کے بعد وہ اس پر عمل کرے گا اور بعد میں اس کو الزام دے کر تنگ نہیں کرے گا۔ اگر اسے واقعی اپنی بیوی سے محبت ہے تو اسے اسے اپنے نئے خاندان کے ساتھ خوش خوش رہنے دینا چاہئے۔ جو شرط وہ لگا رہا ہے، اس سے لگتا ہے کہ وہ صرف جذباتی فیصلے کر رہا ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہے۔  | وہ کیا چاہتی ہے؟  میں مذیب اور ان روایتوں کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا جنہیں انسان نے تخلیق کیا ہے۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ اگر یہ میرے ساتھ ہوتا تو میں یقینی طور پر اپنی بیوی کے پاس جاتا اور اس سے پوچھتا کہ وہ کیا چاہتی ہے؟  عدیل، ملتان، پاکستان |
عدیل، ملتان، پاکستان: میں مذیب اور ان روایتوں کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا جنہیں انسان نے تخلیق کیا ہے۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ اگر یہ میرے ساتھ ہوتا تو میں یقینی طور پر اپنی بیوی کے پاس جاتا اور اس سے پوچھتا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ کیونکہ یہ صرف میرے اور معاشرے کے عزت و وقار کا مسئلہ نہیں بلکہ میری بیوی کو بھی اتنا ہی موقعہ ملنا چاہئے۔ اگر میری بیوی میرے پاس واپس آنے کا فیصلہ کرتی اور اس کا دوسرا شوہر اجازت دیتا تو میں اسے اور بچے کو مکمل طور پر قبول کرلیتا۔ اگر اس کا شوہر اسے اس کی اجازت نہ دیتا یا وہ کسی جائز وجہ سے یا دنیا کے خوف میرے ساتھ واپس آکر بسنا نہ چاہتی تو میں اسے یقینا بخوشی طلاق دے دیتا۔ کیونکہ صرف مرد کی عزت ہی سب کچھ نہیں ہے۔ ظفر خان، امریکہ: اسلامی قوانین کے مطابق اس عورت نے انتظار نہیں کیا اور اس لیے اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ وہ وفادار عورت نہیں ہے بلکہ خودغرص ہے اس لیے اسے طلاق دے دینی چاہیے۔ اظہر بیگ مرزا، جاپان: پنچایت کا فیصلہ غلط ہے۔ لڑکی نے باقاعدہ ایک انتظار کے بعد لوگوں کی موجودگی میں دوسری شادی کی تو دوسرے شوہر سے خودبخود قانونی خلع ہوگئی۔ اب وہ عارف کی نہیں، دوسرے شوہر کی بیوی ہے اس لیے جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اب اس عورت کو ہی کرنا ہے۔ مہک چغتائی، کینیڈا: عارف کا مؤقف درست ہے۔ عفاف اظہر، کینیڈا: ایسی صورتِ حال میں عارف کی بیوی کی رضامندی لازمی ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہے گی اور اگر وہ اب عارف کے ساتھ رہنے پر رضامند ہے تو عارف کا حق بنتا ہے کہ وہ بچے کو قبول کرے۔
 | جیل واپس  محمد عارف کو دوبارہ پاکستانی جیل کے حوالے کر دینا چاہیے تاکہ کم از کم ایک خاندان کو تو سکون نصیب ہو۔  ظلِّ ہما، شہدادپور، پاکستان |
شاہدہ اکرام، ابوظہبی: اگر دیکھا جائے تو ایک سطح پر عارف ٹھیک بھی ہیں دوسری طرف اگر انہیں اپنی بیوی سے محبت ہے تو بچہ قبول کرنے میں کچھ قباحت نہ ہونی چاہیے۔ جہاں تک لڑکی کا تعلق ہے تو اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد وہ دوسری شادی کرنے پر حق بجانب ہے۔ اگر مجھے ایسی صورتِ حال پیش آتی تو یقیناً میں بچے کو قبول کرلیتی۔ خدا ایسی صورتِ حال سے سب کو بچائے۔ ظلِّ ہما، شہدادپور، پاکستان: محمد عارف کو دوبارہ پاکستانی جیل کے حوالے کر دینا چاہیے تاکہ کم از کم ایک خاندان کو تو سکون نصیب ہو۔ سید رضوی، کراچی، پاکستان: اگر عارف کی بیوی اتنی بڑی قربانی دے سکتی ہے تو وہ مرد ہوکر اتنی سی قربانی کیوں نہیں دے سکتا۔ اسے اپنی بیوی کی خواہش کا احترام کرنا چاہیے۔ عتیق رحمان، لندن، برطانیہ: آخر اس معاملے میں اس بے چاری عورت کا کیا قصور ہے۔ اس طرح کی صورتِ حال میں کسی معینہ مدت کے بعد عورت کو دوسری شادی کا حق ہونا چاہیے ورنہ کیا عورت ساری زندگی اسی طرح انتظار کرتی رہے۔ محمد عمر، لاہور، پاکستان: اسے دونوں کو قبول کرنا ہوگا کیونکہ دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ رانا ہارون، جنوبی افریقہ: میرے خیال میں اس کی بیوی کو بچے کے بغیر اس کے پاس نہیں جانا چاہیے کیونکہ اگر آج وہ اس کی یہ بات قبول کر لیتی ہے تو کل کو وہ اس کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے اور اسے طلاق بھی دے سکتا ہے۔ عارف محمود، لاہور، پاکستان: میرا خیال ہے اسے فوراً اپنی بیوی کو طلاق دینی چاہیے۔ چونکہ وہ طویل عرصے سے غائب تھا اور مردہ سمجھا جا رہا تھا اس صورت میں عورت اگر چاہے تو عدالت بھی شوہر کی طرف سے اسے طلاق دے سکتی ہے۔ چونکہ وہ تین برس سے زیادہ عرصہ غیر حاضر رہا ہے، یہ مدت بہت طویل ہے۔ اب اسے اپنی سابقہ بیوی کی موجودہ زندگی سے لاتعلق ہوجانا چاہیے۔ نثار جٹ، بکھر، پاکستان: میرا خیال ہے کہ اسے اپنی بیوی کو قبول نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ اس کے ساتھ وفادار نہیں رہی۔ ذوالفقار سید، مانسہرہ، پاکستان: میرے خیال میں تو اسے بیوی کی خاطر بچہ بھی رکھ لینا چاہیے لیکن اسے پہلے اپنی بیوی کی مرضی معلوم کرنی چاہیے۔ اظہار الحق، کلکتہ، انڈیا: اس طرح کا ایک واقعہ حصرت عمر کے زمانے میں ہوا تھا۔ ا سپر حضرت علی نے فیصلہ دیا تھا کہ بیوی اپنے پہلے شوہر کی ہوگی۔ عارف کے کیس میں گڑیا کے والدین سے بنیادی غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے دوسرے نکاح سے قبل پہلے نکاح کو حکومتِ وقت سے ردّ نہیں کروایا جس کی سزا گڑیا کو اٹھانی پڑ رہی ہے۔ محمد اختر، فیصل آباد، پاکستان: اس کو اس کی بیوی واپس ملنی چاہیے کیونکہ یہی درست ہے۔ شوکت علی، مونٹریال، کینیڈا: پہلی بات تو یہ ہے کہ پنچایت نے فیصلہ ہی غلط کیا ہے۔ سب سے پہلے عورت سے پوچھنا چاہیے تھا کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ اگر میں اس جگہ ہوتا تو اس سے پوچھتا کہ وہ اب میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا دوسرے خاوند کے ساتھ اور اگر وہ میرے ساتھ رہنا قبول کرتی تو میں اسے اس کے بچے سمیت قبول کرتا۔  | عورت کا حق ہے  پانچ سال تک اس کے لاپتہ ہونے کے بعد عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسری شادی کر لے۔  فرحت بخاری، ابوظہبی |
فرحت بخاری، ابوظہبی: عارف کو طلاق دے دینی چاہیے تھی۔ پانچ سال تک اس کے لاپتہ ہونے کے بعد عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسری شادی کر لے۔ شریعت کے لحاظ سے یہ عارف کی بیوی ہے لیکن طلاق دے دینا اچھا تھا تاکہ وہ اپنے دوسرے شوہر اور بچے کے ساتھ اچھی زندگی گزار سکے۔ علی طاہر، ملتان، پاکستان: یہ واضح ہے کہ اس کی بیوی نے یہ سمجھتے ہوئے دوسری شادی کی کہ وہ مر چکا ہے۔ اب اس کی بیوی واپس اس کے پاس لوٹنی چاہیے جب کہ بچہ اپنے اصل والد کے پاس۔ احمد خان، حیدرآباد، پاکستان: اس میں بچے بیوی کا کیا قصور ہے؟ اسد، کراچی، پاکستان: عارف کو اپنی بیوی اور بچے دونوں کو اپنانا چاہیے اور اگر بیوی اس کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو اس کو چھوڑ دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے دوسرے خاوند کے ساتھ رہے۔ اس طرح بچے کی بھی صحیح پرورش ہوگی۔ مدیحہ، مسی ساگا، کینیڈا: بیوی کو بچے سمیت قبول کرنا چاہیے۔ رانا ہارون، جنوبی افریقہ: اس کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دے دینا سب سے اچھا ہے کیونکہ اب وہ کبھی بھی اس کے ساتھ خوش نہیں رہ سکے گا۔ افضال ہاشمی، کانگو: یہ صرف ایک سماجی ہی نہیں بلکہ مذہبی مسئلہ بھی ہے اس کے لیے کسی بڑے عالمِ دین سے مشورہ لینا چاہیے۔ نوید عاصم، سعودی عریبیہ: شرعی طور پر وہ بیوی کا شوہر ہے لیکن بچہ کیونکہ اس کا نہیں اس لیے اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا، اگر وہ اس کو قبول کر لیتا ہے تو یہ اس کا بچے پر احسان ہوگا۔ محمد سہیل، بدایوں، انڈیا: محمد عارف صاحب کو بچے کو قبول کر لینا چاہیے کیونکہ ماں کو بچے سے جدا کردینا کوئی نیک کام نہیں ہے۔  | پنچایت کا فیصلہ غلط ہے  پنچایت کا فیصلہ بالکل غلط اور خلافِ دین و مذہب ہے۔ اسلام میں ایک عرصہ متعین ہے جس کے دوران اگر خاوند کا کوئی اتا پتا نہ ہو اور وہ بیوی سے رابطہ نہ کرے تو خود بخود طلاق ہو جاتی ہے۔  سعید بٹ، لاہور، پاکستان |
سعید بٹ، لاہور، پاکستان: پنچایت کا فیصلہ بالکل غلط اور خلافِ دین و مذہب ہے۔ اسلام میں ایک عرصہ متعین ہے جس کے دوران اگر خاوند کا کوئی اتا پتا نہ ہو اور وہ بیوی سے رابطہ نہ کرے تو خود بخود طلاق ہو جاتی ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان صرف جائز اولاد ہی شادی کے بندھن کو قائم رکھ سکتی ہے۔ عارف صاحب کو سمجھنا چاہیے کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے اور وسقت کے پہیے کو پیچھے کی طرف نہیں گھمایا جا سکتا۔ تقدیر کا لکھا جان کر بھول جائیں اور نئی شادی رچا لیں۔ راجہ عبدالجبار، پاکستان: اگر اسے اپنی بیوی سے پیار ہے تو اسے بچے کو بھی قبول کرنا چاہیے کیونکہ اس کی بیوی کا کوئی قصور نہیں۔ اس کا یہی خیال تھا کہ وہ مر چکا ہے۔ مظفر عالم سید، کراچی، پاکستان: محمد عارف کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرے اور دوسری شادی کرلے۔ عزیز عالم، امریکہ: میرا خیال ہے کہ اس کی بیوی کو فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہیے کہ وہ کیا کرنا اور کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ یہ اسلام کے مطابق بھی ہے اور انسانی حقوق کے مطابق بھی جنہیں ہم سب قبول کرتے ہیں۔ مرزا خالد، متحدہ عرب امارات: اگر میاں بیوی میں کسی ذریعے سے کوئی رابطہ نہیں رہا تو بیوی کو دوسری شادی کا حق حاصل تھا کیونکے اس نے کافی انتظار کر لیا تھا۔ اگر اسے معلوم تھا کہ اس کا شوہر زندہ ہے اور واپس لوٹ آئے گا اور اس نے پھر بھی دوسری شادی کر لی، اس کا مطلب ہے کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی اور عارف کو اسے اس کے دوسرے شوہر کے پاس رہنے دینا چاہیے۔ اگر عارف کو اس سے محبت ہے تو اسے اس کے بچے سے بھی محبت کرنی چاہیے کیونکہ عورت اپنے بچوں کے لیے ایک ناپسندیدہ خانوند کے ساتھ بھی رہنے کو راضی ہوجاتی ہے۔ اللہ یہ فیصلہ کرنے میں عارف کی مدد کرے۔ مون، جنوبی کوریا: اگر بیوی واپس لی ہے تو بچہ بھی لینا ہوگا ورنہ بیوی کو طلاق دینی ہوگی کیونکہ بچہ اسی کی کوکھ سے ہے۔ صغیر راجہ، سعودی عریبیہ: طلاق دے کر نئی شادی کرلینی چاہیے۔ سمنن شیخ، لاہور، پاکستان: بچے کا اس میں کیا قصور ہے اس لیے بچے کو قبول کرنا چاہیے۔ غالب خان، ہری پور، پاکستان: پہلے تو عارف صاحب کو بیوی قبول ہی نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن اگر وہ کڑوا گھونٹ بھرنے جا ہی رہے ہیں تو بچے کو بھی قبول کرنا چاہیے کیونکہ اس کا کیا قصور ہے۔ عبدالقدوس، سٹاک ہوم، سویڈن: انہیں بچے کو قبول کرنا چاہیے اگرچہ یہ مشکل کام ہے۔ لیکن اس میں نہ ان کا نہ ان کی بیوی کا قصور ہے تو بچے کو سزا دینے کا فائدہ؟ فیصل ملک، میحدہ عرب امارات: اگر وہ بچے کو قبول نہیں کرتے تو انہیں اپنی بیوی کو طلاق دے دینی چاہیے تاکہ وہ اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ رہے تاکہ بچے کو باپ ملے اور بیوی کو خاوند۔  | بیوی کی مرضی  اس سارے مسئلے کے حل میں اس کی بیوی کی کیا مرضی ہے ، یہ پوچھا جانا ضروری ہے۔  وجیہہ قیوم، کینیڈا |
وجیہہ قیوم، کینیڈا: جب قسمت نے ہی عارف کا ساتھ نہیں دیا تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔ اس سارے مسئلے کے حل میں اس کی بیوی کی کیا مرضی ہے ، یہ پوچھا جانا ضروری ہے۔ ایمان سہیل، کینیڈا: ایسی صورتِ حال میں تو اس کی بیوی کی رائے زیادہ ضروری ہے، آپ ہماری رائے مانگ رہے ہیں۔ کرن جبران، کینیڈا: میری رائے میں جب عارف کو پتہ تھا کہ اس کی بیوی امید سے ہے تو اس کو انسانیت کے ناطے ہی خاموشی اختیار کر لینی چاہیے تھی کیونکہ اس صورتِ حال میں ایک معصوم بچہ تقسیم ہوجائے گا۔ علی رضا، اسلام اباد، پاکستان: جب بچہ پیدا ہو اسے کسی یتیم خانے کو دے دے۔ فہد رحیم، جاپان: محمد عارف کو اب دوسری شادی کر لینی چاہیے، اسی میں دونوں کا بھلا ہے۔ |