فرانس کے دو یرغمالی صحافیوں نے اپنی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی زندگی بچانے کے لئے فرانس میں حجاب پر لگائی جانے والی پابندی اٹھا لے۔ پچھلے ایک برس سے فرانس کے سکولوں میں مذہبی علامتیں جیسے کہ حجاب اور یہودیوں کے لئے ٹوپی وغیرہ پر پابندی لگانے کی کوشش پر مسلمان احتجاج کیا جاتا رہا ہے۔ فرانس کا مؤقف ہے کہ یہ پابندی فرانس میں ریاست اور مذہب کو علیحدہ علیحدہ رکھنے کی روایت کا حصہ ہے تاہم اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فرانس کی حکومت عراق پر حملے کے خلاف ممالک میں پیش پیش رہی ہے تاہم منگل کو اس نے اعلان کیا کہ وہ اغواء کاروں کے مطالبات کے سامنے نہیں جھکے گی۔ کیا آپ اغواء کاروں کے مطالبات سے اتفاق کرتے ہیں؟ کیا فرانس کی حکومت کو حجاب پر لگائی گئی پابندی اٹھا لینی چاہئے؟ آپ کا ردِّعمل آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhej سکتے ہیں
شہاب عالم سوری، احمدی، کویت: تعجّب اس بات پر ہے کہ اپنے آپ کو سیکولر کہنے والے اور مذہب کو ایک پرایویٹ معاملہ قرار دینے والے اپنی سڑکوں پر ہونے والی کھلی فحاشی کو تو پرایویٹ اور شخصی معاملہ قرار دیں لیکن حجاب کو مذہبی تفریق کی علامت قرار دیں۔ معلوم نہیں ان کی عقل پر پردہ پڑا ہوا ہے یا یہ صرف ان کی اسلام سے نفرت ہے؟ انیس کامران، پاکستان: ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ جس ملک میں رہتا ہو اس ملک کے قانون کا احترام کرے۔ باالفرض آج فرانس حجاب کی اجازت دے دیتا ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کل یہی لوگ یہ مطالبہ نہیں کرنے لگیں کہ فرانسیسی مردوں کو نیکر پہن کر باہرنکلنے پر بھی پابندی ہونا چاہیے۔ یا کل کو فرانسیسی مسلمان اور یہودی یہ مطالبہ شروع نہیں کر دیں گے کہ ملک میں پورک کھانے پر پابندی ہونا چاہیے۔ یا یہ کہ مسلمان اور یہودی بچےسکولوں میں دوسرے فرانسیسی بچوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے۔ اس طرح تو پورا فرانسیسی معاشرہ تقسیم ہو کر رہ جاۓ گا۔ نعیم ظفر، ملتان، پاکستان: دنیا میں ہمیشہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو چیزوں کے مثبت پہلو کو دیکھتے ہیں اور کچھ ایسے کہ جو ہمیشہ منفی پہلو کو۔ سوال یہ ہے کہ ایک شخص کہ جس کو عادت ہی منفی پہلو کو دیکھنے کی ہے اس کو آپ کسی بھی شے کی خوبیاں کیسے دکھا سکتے ہیں؟ یاسر، میرپور، پاکستان: حجاب پر پابندی ختم کرانے کا یہ انداز صحیح نہیں۔ تاہم فرانسیسی حکومت کو چاہیے کہ اغواشدہ افراد کی رہائی کے بعد حجاب پر سے پابندی اٹھا لے۔ ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہونا چاہیے بشرطیکہ اس کے مذہب پر عمل کرنے سے کسی کا نقصان نہیں ہو رہا۔ حجاب کرنے سے کسی دوسرے شخص کا کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ محمد ندیم، ٹورنٹو، کینیڈا: یہ دوسری مرتبہ ہو رہا ہے کہ میرے خیالات کو بحث میں شامل نہیں کیا گیا۔ اگر آپ مختلف آراء کو شائع نہیں کر سکتے تو پھر راۓ مانگتے ہی کیون ہیں؟ سلیم، نارتھ کراچی، پاکستان: میری راۓ میں اغواکار ٹھیک کر رہے ہیں۔ جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان: گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد مسلمانوں کو، خصوصاً مقربی ممالک میں، تنقید کا سامنا ہے۔ فرانس میں حجاب پر پابندی بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب اسلامی ممالک میں غیر مسلمانوں پر اس قسم کی پابندیاں نہیں تو پھر مغربی ممالک میں مسلمانوں پر پابندیاں کیوں ہیں؟ تاہم عراقی انتہا پسندوں کے احتجاج کا انداز بھی غلط ہے۔ احتجاج کے اس سے بہتر طریقے بھی ہو سکتے ہیں۔ امجد عباس، ٹورنٹو، کینیڈا: فرانس کا حجاب پر پابندی لگانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے لیکن بے گناہ لوگوں کو اغوا کر کے احتجاج کرنے کا طریقہ بھی قابلِ مذمت ہے۔ ناصر خان، ریاض، سعودی عرب: فرانسیسی اقدام سے پوری دنیا کے باشعور مسلمانوں میں بےچینی پھیلی ہے۔ یہ قانون میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ قانون ہر اس شخص کو متاثر کرے گا جو اس کی زد میں آۓ گا۔ افسر، میران شریف، پاکستان: میں فرانسیسی حکومت سے اتفاق کرتا ہوں۔ جوحرکت عراقی اغواکار کر رہے ہیں، اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا۔ محمد شاہد، نیویارک، امریکہ: فرانس کو امریکہ اور برطانیہ کی پیروی کرنا چاہیے کہ جہاں پر مسلمانوں پر اس قسم کی پابندی نہیں۔ اگر فرانس جمہوریت کا دم بھرتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس پر عمل بھی کرے۔ فرمان خان، لندن، برطانیہ: ہر کسی کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے اور فرانس کسی سے یہ حق چھیننے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اسرار بصری: حجاب مسلمان عورت کا مذہبی حق ہے اور اس پر پابندی مذہبی مداخلت ہے جو کہ کسی بھی مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتا۔ باقر رضا، کینیڈا آخر حجاب کی اجازت دینے میں حرج ہی کیا ہے؟ محمد ثاقب احمد، شیخوپورہ، بہار، انڈیا یہ لوگوں کے مطالبات سے متفق ہونے یا نہ ہونے کا سوال نہیں، بلکہ یہ رواداری، انفرادی آزادی، اور مذہبی آزادی کا سوال ہے۔ کسی بھی حکومت کو کسی بھی بہانے سے مذہبی آزادی پر پابندی لگانے کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے۔ محمد عرفان، بہاولنگر، پاکستان کوئی بھی مذہب شدت پسندی نہیں سکھاتا۔ تاہم حجاب پر پابندی کا قانون ختم ہونا چاہیے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔  | پابندی لایعنی، تشدد لایعنی  حجاب پر پابندی لایعنی ہے مگر اس پابندی کو ختم کرنے کے لیے تشدد کا راستہ بھی اتنا ہی لایعنی ہے۔  بلال الطاف، فیصل آباد، پاکستان |
بلال الطاف، فیصل آباد، پاکستان حجاب پر پابندی لایعنی ہے مگر اس پابندی کو ختم کرنے کے لیے تشدد کا راستہ بھی اتنا ہی لایعنی ہے۔ مقدّس کاظمی، اقبال ٹاؤن لاہور، پاکستان اگرچہ فرانسیسی حکومت کے اقدامات بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں، تاہم عراق میں ان کے ردّعمل میں فرانسیسی صحافیوں کے قتل کو کسی بھی طور سے حق بجانب نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ایسے واقعات سے اسلام کا کوئی بھلا ممکن نہیں بلکہ ان سے اسلام کے خلاف نفرت ہی بڑھے گی۔ تاہم فرانسیسی حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر فرانس میں عورتیں سر پر ہیٹ یا دوسری اشیاء پہن سکتی ہیں تو حجاب کیوں نہیں؟ احمد راجپوت، کراچی، پاکستان حجاب پر پابندی ختم ہونا چاہیے۔ عدنان احمد غوری، شارجہ، یواےای یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہر شخص کا حق ہے کہ وہ اپنے مذہبی معاملات میں آزاد ہو۔ شاہنواز شانی، راولپنڈی، پاکستان فرانسیسی حکومت شہریوں کی ذاتی زندگی میں دخل انداز ہو رہی ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مذہب ہرشخص کا ذاتی معاملہ ہے اس لیے فرانسیسی حکومت کو اپنے حالیہ فیصلے پر نطرثانی کرنا چاہیے۔ امیر محمد شاہ، پاکستان فرانسیسی مسلمان خواتین کو چاہیے کہ وہ حجاب کی بجاۓ اسکارف پہنا کریں۔ سلمان، مانچسٹر، یوکے پابندی اٹھا دینا چاہیے۔ طالب خان، جدہ، سعودی عرب فرانس نے امتِ مسلمہ کی بیٹی کا ابھی آنچل چھینا ہے اس لیے حق تو یہی ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ محمد شفیق طاہر، لاہور،پاکستان فرانس کو مذہبی آزادی پر پابندی نہیں لگانا چاہیے تھی مگر اب اسے تشدد پسندی کے سامنے بھی نہیں جھکنا چاہیے۔ میرے خیال میں حقوق لینے کے لیے تشدد پسندی کا سہارا لینا غلط ہے۔ محمد افضل، لاہور، پاکستان اگر حجاب پر پابندی لگا ہے دی گئی تو نکٹائی پر بھی پابندی ہونا چاہیے کیونکہ اگرحجاب مسلمانوں کی مذہبی علامت ہے تو ٹائی عیسائیوں کی۔ لہٰذا حجاب پر پابندی بھی غلط ہے۔ ساجد امیر ملک، چکوال، پاکستان مختصر لباس میں پھرنے کی اجازت ہے تو پھر حجاب میں کیوں نہیں۔ انسانی حقوق کی علمبردار مغربی تنظیموں کا فرض ہے کہ وہ فرانسیسی حکومت کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھائیں۔ عارف بلوچ، کراچی، پاکستان ہاں، فرانسیسی مسلمانوں کا مطالبہ ٹھیک ہے۔ فرانسیسی حکومت کو اپنے مسلمان شہریوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ عامر ریاض، ٹوکیو، جاپان: آغواء مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر یہ قانون فرانسیسی لوگوں کے لیے صحیح نہیں تو انہیں احتجاج کرنا چاہیے نہ کہ اغوا کاروں کو۔ تاہم ایک مسلمان کے طور پر میرا فرانسیسی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اس قانون کو تبدیل کرے۔ یہ صحیح قانون نہیں۔ آصف خان، راوالپنڈی، پاکستان: اغواکار صحیح نہیں کر رہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔  | زندگیاں بچانے کے لئے  زندگیاں بچانے کے لئے یہ کوئی بڑا مطالبہ نہیں۔  راحت ملک، راوالپنڈی، پاکستان |
راحت ملک، راوالپنڈی، پاکستان: زندگیاں بچانے کے لئے یہ کوئی بڑا مطالبہ نہیں اور فرانسیسی حکومت کو مان لینا چاہیے۔ نامعلوم: پابندی ضرور اٹھانی چاہیے کیونکہ دہشت گردی سے بچنا ہی بہتر ہے۔ یہ نہ ہو کہ یہ فرانس کا سکون بھی برباد کردے لیکن اغوا کاروں نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کو بھی سز ا ملنی چاہیے۔ زاہداللہ زاہد، پشاور، پاکستان: چونکہ اس سے سکول کی بنیادی یونیفارم پر کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے اس کی اجازت ہونی چاہیے۔ احمد راجپوت، کراچی، پاکستان: حجاب سے پابندی ہٹا لینی چاہیے۔ قمر رانا، ملتان، پاکستان: اسلام میں جو پردے کی اہمیت ہے، اس سے ہم صرفِ نظر نہیں کر سکتے لیکن ہر بات منوانے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ احتجاج کا کبھی کوئی طریقہ ہوتا ہے۔ جو طرزِ عمل عراقی اغواء کاروں نے اختیار کیا ہے، وہ قطعاً غلط ہے۔ اسلام کہیں بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی اسلام کے نام پر لوگوں کو قتل کرے۔ ایسی چیز اسلام کے دوست نہیں صرف دشمن کرسکتے ہیں تاکہ اسلام کو بدنام کیا جا سکے اور اس کے خلاف نفرت پیدا کی جا سکے۔ جو چیز امن اور انسانیت کے خلاف ہے، وہ اسلام کے خلاف ہے۔ نعمان تولکر، دوبئی: یہ ہمارا مذہبی حق ہے اس لئے کسی کو اس پر پابندی نہیں لگانی چاہیے۔ اعجاز احمد، سعودی عریبیہ: یہ پابندی غلط ہے لیکن اسے اس طرح کی دھمکی کی وجہ سے نہیں اٹھانا چاہیے۔ یہ فرانسیسی عوام پر منحصر ہے کہ وہ اس قانون کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ عثمان شیخ، برطانیہ: جی ہاں، ہر کسی کو اپنے مذہب پر چلنے کا حق حاصل ہے۔ مرزا، جدہ، سعودی عریبیہ: سب سے غلط فیصلہ فرانس کا تھا کہ اس نے حجاب پر پابندی لگائی۔ ندیم خان، کراچی، پاکستان: نہیں  | نہیں، یہ غلط ہے  نہیں، اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی جائز بات منوانے کے لئے بھی غلط طریقہ نہیں اپنانا چاہئے۔ تاہم فرانس کی سیکولر حکومت کو بھی اس طرح کے اقدامات نہیں کرنے چاہیے تھے۔  محمد امجد، راوالپنڈی، پاکستان |
محمد امجد، راوالپنڈی، پاکستان: نہیں، اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی جائز بات منوانے کے لئے بھی غلط طریقہ نہیں اپنانا چاہئے۔ تاہم فرانس کی سیکولر حکومت کو بھی اس طرح کے اقدامات نہیں کرنے چاہیے تھے۔ جو چیز مجھے پریشان کرتی ہے کہ اگر کل فرانسیسی حکومت نے سکرٹ پہننے کو لازمی قرار دے دیا تو کیا ہوگا؟ اے بی، اوکسفورڈ، برطانیہ: کوئی شک نہیں کہ فرانس کو اس پر سے پابندی اٹھا لینی چاہیے کیونکہ یہ ذاتی اور مذہبی انتخاب کا مسئلہ ہے اور اس طرح کے انتخاب کا حق ہر شہری کو حاصل ہونا چاہیے۔ تاہم اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے اغوا کرنا بالکل غلط ہے۔ عابد عزیز، ملتان، پاکستان: میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ سب کچھ اس یورپ میں ہورہا جو کہ انفرادی آزادی کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ |