صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام دلی |  |
 |  اس علاقے میں قدیم برادریاں آباد ہیں |
ہندوستان کے انڈمان اور نکوبار جزائر میں انتظامیہ نے صحافیوں اور نامہ نگاروں کو دور درواز کے جنگلات میں قبائلی علاقوں کیطرف جانے سے خبردار کیا ہے۔ مقامی افسران کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں صحافیوں کو بغیر اجازت جاتے دیکھا گیا ہےجو قانونی طور پر ملک و بیرونی ممالک سبھی باشندوں کے لۓ ممنوع ہے۔ انڈمان اور نکوبار جزیروں میں دنیا کے کئی قدیم قبائلي براداریاں آباد ہیں جو محفوظ جنگلات میں رہتی ہیں۔ حکام کے مطابق ان کی تعداد تقریبا پانچ ہزار ہے۔ سن 1957 میں ایک قانون کے مطابق ان علاقوں میں باہری لوگوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ انڈمان کی انتظامیہ میں شعبۂ اطلاعات کے افسر کلدیپ سنگھ گانگر کا کہنا ہے کہ سونامی سے تباہ حال ان جزیروں پر خبروں کے لۓ پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں صحافی آئے ہیں۔ ان کے مطابق صحافی، فوٹوگرافر اور ٹیلی ویژن کمپنیوں کے تقریبا ڈیڑھ سو افراد وہاں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ نامہ نگار قبائلیوں پر خصوصی اسٹوری کرنے کے لۓ بغیر اجازت ان علاقوں میں گۓ ہیں جہاں جانا قطعی ممنوع ہے۔ کلدیپ سنگھ نے کہا کہ قانون کے مطابق ایسے افراد کو سزا ہوسکتی ہے اور کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کرتے پکڑا گیا تو اس سے سختی سے نمٹا جائیگا۔ کلدیپ نے بتایا کہ بعض صحافیوں نے ان قبائلیوں سے ملنے کے لۓ انہیں پیسے اور شراب بھی فراہم کی ہیں۔ جبکہ قانون کے مطابق ایسی جگہوں پر جانے کے لۓ انتظامیہ سے خصوصی اجازت لینی پڑتی ہے ۔عام طور پر ان سے ملنے کی اجازت صرف انہیں دانشوروں کو دی جاتی ہے جو ان پر تحقیق کر رہے ہوں یا کوئی خاص ضرورت ہو۔ مقامی حکام کا کہنا ہے ایسے علاقوں میں سرکاری ملازم بھی خصوصی اجازت کے بعد ہی داخل ہوتے ہیں۔ پولس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ تمام ٹیلی ویژن اور پبلیکیشنز کی نگرانی کر رہے ہیں اور اگر کسی نے ان قبائلی باشندوں پر تصویروں کے ساتھ رپورٹ نشر یا شائع کی تو اس پر قانونی کارروائی کی جائےگی۔ حال ہی میں ملک کے پرائیوٹ ٹی وی چینلز پر اس طرح کی خصوصی خبریں دیکھی گئي ہیں جس میں انڈمان کے قدیمی قبیلوں کے حالات زندگي ان کی تصاویر کے ساتھ نشر ہوئی ہیں۔ |